Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

مذہبی سیاسی جماعتیں: روایت سے تجدید کا سفر

پاکستان کی سیاست میں مذہبی سیاسی جماعتوں کا وجود ایک مسلسل حقیقت ہے جس نے قیامِ پاکستان سے آج تک سیاست کے ہر دور میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ برصغیر میں جب مسلم قومیت کا شعور بیدار ہوا تو مذہبی قیادت نے مسلمانوں کے سیاسی و فکری تشخص کے تحفظ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ تحریکِ پاکستان کے دوران مذہبی و روحانی رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا اور قائداعظم محمد علی جناح کا بھر ساتھ دیا۔ ان میں اہم نام پیر سید جماعت علی شاہ رح مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی، پیر آف مانکی شریف (پیر عبد الرحمان)، پیر مہر علی شاہ، مولانا غلام مرشد، مولانا عبد الحمید بدایونی، مولانا عبدالستار خان نیازی، سید عطا اللہ شاہ بخاری کے ہیں۔
قراردادِ مقاصد کی منظوری اور آئینِ پاکستان میں اسلامی دفعات کے اندراج جیسے اقدامات ان جماعتوں کے اثر و رسوخ کا مظہر تھے۔ تاہم جیسے جیسے ملک میں سیاسی جماعتیں مختلف نظریات، گروہی مفادات اور طبقاتی مسائل کی بنیاد پر مضبوط ہوئیں، مذہبی جماعتوں کی سیاست ایک مخصوص طبقے تک محدود ہوتی گئی۔ ان کے بیانات اور مقاصد تو قومی سطح پر مقبول نظر آتے تھے، مگر ان کی حکمتِ عملی اور تنظیمی طرزِ سیاست عوامی توقعات سے ہم آہنگ نہ ہو سکی۔گزشتہ تین دہائیوں میں مذہبی سیاسی جماعتوں کو کئی نئے چیلنجز کا سامنا ہوا ہے۔ سب سے نمایاں چیلنج نوجوان نسل کی ترجیحات میں تبدیلی ہے۔ اب وہ فقط مذہبی شناخت پر مبنی نعروں کی سیاست کے بجائے روزگار، تعلیم، ٹیکنالوجی، اور معیشت پر مبنی منشور میں دلچسپی رکھتی ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والی تیز رفتار سماجی تبدیلیوں، سوشل میڈیا کے پھیلاؤ اور علم و تحقیق کی آسان دسترس نے نوجوان ذہن کو زیادہ حقیقت پسند بنا دیا ہے۔ موجودہ دور میں پاکستانی نوجوان سیاست میں عملی نتائج دیکھنا چاہتا ہے۔ اسے یہ سوال زیادہ اہم لگتا ہے کہ یہ جماعتیں غربت، تعلیم، صحت اور معیشت جیسے مسائل کے لیے کیا حل پیش کر رہی ہیں۔
مذہبی جماعتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی فکری بنیادوں کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی سیاسی ترجیحات میں تبدیلی لائیں۔ اسلام کی روح خدمت، عدل اور عوامی فلاح ہے۔ یہی وہ اجزا ہیں جو سیاسی منشور کی جان بن سکتے ہیں۔ اندرونی طور پر بھی مذہبی جماعتیں کئی مشکلات میں ہیں۔ قیادت میں موروثیت، فکری جمود، ادارہ جاتی ساخت کی کمزوری اور مختلف گروہوں کے درمیان اصولی اختلافات ان کی اجتماعی طاقت کو کمزور کرتے ہیں۔ اکثر جماعتوں کا نظام اس حد تک مرکزیت پسند ہے کہ اس میں نئی نسل کے لیے آگے بڑھنے کی گنجائش باقی نہیں۔ جبکہ جدید جمہوری سیاست میں نوجوانوں کی شمولیت نئے خیالات اور توانائی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگر مذہبی جماعتیں اپنے ڈھانچے میں نوجوان قیادت کو عملی طور پر آگے لائیں، ان کے مسائل سنیں اور انہیں پالیسی سازی کا حصہ بنائیں، تو وہ اپنی سیاسی بقا کو یقینی بنا سکتی ہیں۔پاکستانی سیاست کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مذہبی جماعتیں زیادہ تر احتجاج، جلسوں اور نعروں تک محدود رہی ہیں جبکہ پارلیمانی سیاست میں ان کا کردار محدود دکھائی دیتا ہے۔ مذہب کا اصل پیغام اتحاد، رواداری، اور امن ہے۔ اگر آج مذہبی جماعتیں اس پیغام کو اپنی سیاست کی بنیاد بنا لیں تو وہ پاکستان میں پُرامن اور تعمیری قوت کے طور پر ابھر سکتی ہیں۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اپنے نظم و نسق، مالی وسائل اور کارکردگی کو ان جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالیں جو وقت کا تقاضا ہیں۔ عوام اب اس سیاست کو ترجیح دیتے ہیں جو شفاف، جوابدہ اور پالیسی پر مبنی ہو۔ اس ضمن میں مذہبی جماعتوں کو ایک طویل اصلاحی عمل سے گزرنے کی ضرورت ہے۔پاکستانی سماج میں مذہب آج بھی زندگی کا لازمی جزو ہے۔ جمعہ کے خطبات سے لے کر تعلیمی نصاب تک اسلام کی اقدار ہر سطح پر موجود ہیں۔ عوام اسلامی اصولوں سے وابستگی رکھتے ہیں لیکن وہ ان اصولوں کو اپنے روزمرہ مسائل کا حل بنتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر مذہبی سیاسی جماعتیں عوامی خدمت، تعلیم و تربیت، صحت، اور عدلِ اجتماعی کے پروگراموں کو اپنی عملی ترجیحات کا حصہ بنائیں تو وہ محض سیاسی نعرے نہیں بلکہ اصلاحی تحریک بن سکتی ہیں۔ خدمتِ خلق کے منصوبے، سماجی بہبود کے ادارے، خواتین کی تعلیم، اور غریب طبقات کے لیے سہولت مراکز وہ میدان ہیں جہاں مذہبی سیاست اپنی اخلاقی ساکھ ازسرنو تعمیر کر سکتی ہے۔عالمی منظرنامہ بھی اس سیاسی حقیقت سے اثر انداز ہوتا ہے۔ اسلام کے بارے میں دنیا میں پھیلنے والی غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے پاکستان کی مذہبی جماعتیں مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔ مگر اس کے لیے عالمی سطح پر مذہبی فہم، مکالمہ اور علمی سوچ کی ضرورت ہے۔ مذہبی سیاست کو جذباتیت کے بجائے استدلال، تصادم کے بجائے مکالمہ اور جمود کے بجائے تجدید کو اپنانا ہوگا۔ آخر کار مذہبی سیاسی جماعتوں کا مستقبل ان کی سیاسی بصیرت، تنظیمی صلاحیت اور عوامی خدمت کے جذبے پر منحصر ہے۔
آج کا پاکستانی ووٹر جذبات سے زیادہ عمل، وعدوں سے زیادہ کارکردگی دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر مذہبی سیاست اپنے طرزِ عمل میں شفافیت، اپنے نظریات میں توازن، اور اپنی ترجیحات میں عوامی مفاد شامل کر لے تو وہ ایک بار پھر قومی سیاست میں مرکزیت اختیار کر سکتی ہے۔ یہ وقت مذہبی جماعتوں کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ اگر وہ مذہب کو تفرقے کے بجائے اتحاد اور سیاست کو تنازع کے بجائے خدمت کا ذریعہ بنائیں تو ان کے لیے مستقبل کے امکانات بے حد روشن ہیں۔ اسلام کا پیغام عدل، امن اور خدمت ہے، اور اگر یہی اصول پاکستان کی مذہبی سیاست کا محور بن جائیں تو وہ نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی حیثیت بحال کر سکتی ہیں بلکہ ملک کو فکری و عملی استحکام کی نئی راہوں پر گامزن کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں