یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ لندن کی ٹریفلگار اسکوائر سے لے کر پیرس کی ایفیل ٹاور کے سائے میں، برلن کی برانڈن برگ گیٹ سے گزرتے ہوئے نیویارک کی ٹائمز اسکوائر، واشنگٹن کی قومی مال، سڈنی کی اوپیرا ہاؤس، کیپ ٹاؤن کی گرین مارکیٹ اور لاطینی امریکہ کے شہروں جیسے بوئنوس ایریس اور میکسیکو سٹی تک، لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں۔ مسلمان، عیسائی، یہودی، بدھ مت کے پیروکار، ہندو اور لا دین افراد۔ ان سب نے ایک ہی صدا بلند کی: “مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیل کی طرف سے کیا جانے والا ظلم فوراً بند کرو!” ان مظاہروں میں فلسطینی جھنڈے لہراتے نظر آئے، نعرے گونجے اور بینرز پر لکھا تھا کہ “انسانیت کا قتل انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے”۔ ان ممالک کی حکومتوں نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب انتظامی اقدامات ضرور کیے، جیسے روٹس کی بندش، سیکیورٹی چیک پوائنٹس کی تنصیب اور ٹریفک کی ڈائی ورژن وغیرہ مگر کسی نے بھی اظہار رائے کا دروازہ سختی سے بند نہ کیا۔ بلکہ برطانیہ میں میٹرو پولیٹن پولیس نے مظاہرین کو تحفظ فراہم کیا، جرمنی میں برلن پولیس نے پرامن احتجاج کو سہارا دیا اور امریکہ میں نیویارک کی پولیس نے صرف انتہا پسند عناصر پر نظر رکھی جبکہ اکثریت کو آزادانہ طور پر اپنا احتجاج کرنے دیا۔ کچھ ریاستوں نے تو اس اختلاف کو بھی برداشت کیا جہاں مظاہرین نے اسرائیلی سفارت خانوں کے سامنے احتجاج کیا یا فلسطینی حمایت میں آرٹسٹک پرفارمنسز کیں۔ لیکن افسوس کہ پاکستان ابھی تک غلامی کے پرانے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے اور اس جمہوری شعور تک نہیں پہنچ سکا۔ یہاں اختلاف کو بغاوت، احتجاج کو جرم اور عوامی آواز کو خطرہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ 13 اکتوبر 2025 کو ایک رجسٹرڈ سیاسی و مذہبی جماعت (TLP) کے کارکنوں نے فلسطین کے حق میں اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کیا۔ مقصد بالکل واضح اور نہایت سادہ تھا کہ عالمی سطح پر فلسطینی مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا، غزہ میں جاری انسانی المیے پر توجہ دلانا۔ یہ مارچ جو پرامن اور منظم ہونا تھا، اچانک خون کی ندی میں تبدیل ہو گیا۔ لاہور کی سڑکوں سے لے کر مریدکے کی راہوں تک، ریاستی مشینری نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ، آنسو گیس کے دھوئیں اور لاٹھی چارج کے ہر منظر نے ظلم کی داستان رقم کی۔ ایک پولیس افسر سمیت کئی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، درجنوں زخمی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ مریدکے کی سڑکوں پر جلی ہوئی گاڑیاں، ٹوٹی پھوٹی موٹر سائیکلیں، خون آلود شہریوں کی تصاویر اور دھوئیں کے گھنے بادل اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آخر کیوں وطن عزیز پاکستان میں اختلاف کی ہر آواز کو بندوق کی نذر کر دیا جاتا ہے؟ کیا یہ مارچ واقعی اتنا خطرناک تھا کہ مذاکرات یا نظم و ضبط کے ذریعے اسے روکا نہ جا سکتا؟ اگر حالات نازک تھے تو کیا پولیس کی ہلکی فورس، روٹ ڈائی ورژن یا ڈائیلاگ کی راہ اختیار نہ کی جا سکتی تھی؟ یہ سب سوالات نہ صرف TLP کے کارکنوں کے ذہنوں میں بلکہ ہر شعور رکھنے والے پاکستانی کے دل میں گھوم رہے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے اس کارروائی کو “نہتے شہریوں پر طاقت کا بے جا استعمال” قرار دیتے ہوئے فوری اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مگر افسوس کہ یہ مطالبہ بھی شاید دیگر سانحات کی طرح فائلوں کی دھول میں دفن ہو جائے گا۔ یہ پہلی بار نہیں ہے بلکہ 2021 میں TLP کے مظاہرے کے دوران بھی درجنوں کارکن ریاستی فائرنگ سے شہید ہوئے تھے، جہاں لاہور سے اسلام آباد تک کا راستہ خون آلود ہو گیا تھا۔ اس سے قبل 2014 کا سانحہ ماڈل ٹاؤن، جہاں خواتین اور بچوں سمیت 14 افراد کی لاشوں نے ریاست کی بے حسی کو بے نقاب کیا یا 2024 کا پاکستان تحریک انصاف (PTI) کا مارچ، جہاں ہزاروں کارکنوں پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کا سلسلہ چلا۔ یہ سب وطن عزیز کے باشندوں کے خون میں لکھے گئے وہ رنگین ابواب ہیں جو ہر پاکستانی کی یادداشت میں تازہ ہیں۔
اتنے بے گناہ انسانوں کا خون بہا کر بھی کیا نادیدہ قوتوں کا کلیجہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا؟ یہ قوتیں کون ہیں جو ریاست کو اس حد تک کنٹرول کیے ہوئے ہیں کہ اس کے پاس گولی کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچے؟ کیا یہ داخلی سیاسی دباؤ ہے، منکرین ختم نبوت کی سازشیں یا عالمی سطح پر چلنے والے جیو پولیٹیکل کھیل؟ یہ سوالات نہ صرف صحافتی حلقوں میں بلکہ سوشل میڈیا اور عوامی مباحثوں میں بھی گونج رہے ہیں۔
یاد رکھیں کہ طاقت کے بے جا استعمال سے وقتی امن تو لایا جا سکتا ہے، مگر عوام اور اربابِ اختیار کے درمیان اعتماد ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ TLP کے کارکن زیادہ تر متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ مزدور، طالب علم، کاریگر، دکاندار اور عام شہری ہیں۔ جب انہی پر گولی چلتی ہے تو صرف جسم زخمی نہیں ہوتے، بلکہ قوم کا دل لہو لہان ہو جاتا ہے۔ ریاست اور عوام کا رشتہ ازلی دشمنی کا نہیں بلکہ ماں بیٹے کا ہونا چاہیے۔ ماں غلطی پر سمجھاتی ہے، گلے لگاتی ہے، معاف کرتی ہے، مگر کبھی بندوق نہیں اٹھاتی۔ جب ماں ہی قاتل بن جائے تو یقیناً وہ گھر، گھر نہیں رہتا بلکہ میدانِ جنگ بن جاتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ معاشرے اختلاف کو برداشت کرتے ہیں اور اسے جمہوریت کی روح سمجھتے ہیں۔ وہاں کسی کو “ریاست دشمن” نہیں کہا جاتا۔ وہاں حب الوطنی کا مطلب اندھی وفاداری نہیں بلکہ سچ بولنے کا حوصلہ، تنقید کرنے کی آزادی اور مثبت تبدیلی کی جدوجہد ہے۔ ریاست پاکستان کے اربابِ اختیار کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ رٹ گولی سے نہیں، انصاف، مساوات اور شفافیت سے قائم ہوتی ہے۔ جب دلیل ختم ہو جاتی ہے تو طاقت کا استعمال شروع ہوتا ہے، اور یہی کسی بھی ریاست کے زوال پذیر ہونے کی ابتدائی نشانی ہے۔
آج ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم کیسا “اسلامی جمہوریہ پاکستان” چاہتے ہیں؟ جس میں عوام خوف کے سائے میں زندگی گزاریں یا جس میں باہمی اعتماد، احترام اور مکالمے کی فضا قائم ہو؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ طاقت وقتی رعب تو قائم کر سکتی ہے مگر عوام الناس کے دلوں کی وفاداری حاصل نہیں کر سکتی۔ قومیں گولیوں کی کڑکڑاہٹ سے نہیں بلکہ گفت و شنید، محبت، عدل اور باہمی احترام سے بنتی ہیں۔
اگر ہم نے اب بھی سبق نہ سیکھا اور ظلم کے خلاف آواز بلند نہ کی تو آنے والی نسلیں ہماری خاموشی کو ظلم کی تائید سمجھیں گی۔ طاقت اور خوف کے بل بوتے پر دنیا کو کچھ وقت کے لیے زیر کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ کبھی بھی مستقل تبدیلی کا باعث نہیں بن سکتا۔ پاکستان کو بھی اس راستے پر چلنا ہوگا ورنہ خون کے دریا مزید گہرے ہوتے جائیں گے، اور وہ خلیج جو آج نظر آ رہی ہے کل ایک مستقل دراڑ بن جائے گی۔