تہران: ایرانی سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای نے عدلیہ کے ہفتے کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں ایران کے خلاف ہونے والی امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان معاملات کو ملکی اور بین الاقوامی عدالتوں میں اٹھایا جانا چاہیے تاکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جا سکے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ شہید رہبر کی ہدایات پر عمل درآمد عدلیہ کی کامیابی کی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق عوام کو عدالتی اصلاحات کے مثبت اثرات اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس ہونے چاہییں، کیونکہ مضبوط اور مؤثر عدالتی نظام ہی عوام کے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ کی اولین ذمہ داری شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ، انصاف کی بروقت فراہمی اور بدعنوانی کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی ہی معاشرے میں استحکام اور اعتماد پیدا کر سکتی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی اقدامات سے متعلق قانونی کارروائی کی جائے اور ان معاملات کو ملکی عدالتوں کے ساتھ ساتھ عالمی فورمز پر بھی پیش کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ میناب اسکول سے متعلق واقعے کے ذمہ دار افراد کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی قانونی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ متاثرہ افراد کو انصاف مل سکے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ذمہ داروں کا احتساب ممکن بنایا جا سکے۔


