Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

سوڈان کا خون اور دنیا کی بے حسی

دنیا کے نقشے پر ایک ایسا ملک موجود ہے جو کبھی افریقہ کا دل کہلاتا تھا “سوڈان”۔ دریائے نیل کی وادیوں میں بسنے والا یہ ملک آج انسانی تاریخ کے بدترین بحران کا شکار ہے۔ اپریل 2023 سے شروع ہونے والی خانہ جنگی نے اس ملک کو مکمل طور پر تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے۔ سوڈان آج ایک ایسی سرزمین بن چکا ہے جہاں ہر سمت موت، بھوک اور خوف کا راج ہے۔ بین الاقوامی برادری کی بے حسی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ عالمی طاقتوں کے ایجنڈے میں سوڈان کہیں نظر نہیں آتا۔ اسی لیے اسے آج ’’فراموش شدہ جنگ‘‘ کہا جا رہا ہے۔
سوڈان میں زندہ اور ہلاک ہونے والے انسانوں کے اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ خانہ جنگی انسانی تباہی کی دردناک حقیقت ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق صرف دارفور کے مرکزی شہر الفاشر میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے تین دن کے حملوں میں پندرہ سو سے زائد شہری ہلاک ہوئے۔ ملک بھر میں ہزاروں بستیاں اجڑ چکی ہیں۔ لاکھوں انسان موت کے منہ میں جا چکے ہیں اور جو بچے ہیں وہ بھوک اور بیماری سے لڑ رہے ہیں۔ اس وقت 68 لاکھ سے زیادہ لوگ اپنے ہی وطن میں بے گھر ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا داخلی نقل مکانی کا بحران ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق پچیس ملین افراد غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں جن میں نصف سے زیادہ بچے ہیں۔ کوئی اسپتال محفوظ نہیں۔ کوئی اسکول قائم نہیں اور کوئی بازار سلامت نہیں۔ اقوام متحدہ نے اسے حالیہ تاریخ کا بدترین انسانی ڈراؤنا خواب” قرار دیا ہے۔
یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں سوڈان کی تاریخ، سیاست اور وسائل کی جنگ میں پیوست ہیں۔ عمر البشیر کے طویل دورِ حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں جمہوریت کی امید پیدا ہوئی تھی مگر طاقت کی بھوک نے ایک بار پھر قوم کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ ’’سوڈانی فوج‘‘ اور نیم فوجی ملیشیا ’’ریپڈ سپورٹ فورسز‘‘ جو پہلے آپس میں اتحادی تھے لیکن بعد میں اقتدار اور دولت کی تقسیم پر باہم برسرِپیکار ہو گئے۔ سونے سے مالامال کانیں جو اربوں ڈالر کی دولت کا ذریعہ ہیں اس جنگ کا اصل مرکز بن چکی ہیں۔ دارفور کے خطے میں صدیوں پرانے نسلی اور قبائلی اختلافات نے اس آگ کو مزید بھڑکا دیا ہے، جہاں غیر عرب قبائل کو منظم نسل کشی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق اس جنگ میں دونوں فریقوں نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔ الفاشر کے سعودی زچہ و بچہ اسپتال پر بمباری میں چار سو ساٹھ سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔ ان میں مریض، ڈاکٹر اور بچے شامل تھے۔ ریپڈ سپورٹ فورسز نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کو ’’جنگی ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ دونوں گروہوں پر الزام ہے کہ انہوں نے انسانی امداد کے راستے بند کیے، قافلے لوٹے اور بھوک کو جنگ کا ہتھیار بنایا۔
اس جنگ نے سوڈان کے صحت کے نظام کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ متاثرہ ریاستوں میں ستر فیصد سے زیادہ ہسپتال بند ہو چکے ہیں۔ دارفور کے بعض علاقوں میں چالیس فیصد طبی ادارے کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ملک بھر میں ادویات ناپید ہیں۔ طبی عملہ بغیر تنخواہ کے کام کر رہا ہے یا ملک چھوڑنے پر مجبور ہے۔ جنہوں نے رکنے کا فیصلہ کیا ہے وہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ وہ انسانی جذبہ ہے جو ملبے میں بھی زندگی کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ عالمی برادری کا ردعمل نہ صرف کمزور بلکہ دوغلا رہا ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین نے چند افراد اور اداروں پر پابندیاں ضرور لگائیں مگر عملی طور پر ان کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ امریکہ ایک طرف متحدہ عرب امارات کو اپنا اسٹریٹجک اتحادی قرار دیتا ہے اور دوسری طرف انہی ملیشیاؤں پر دہشت گردی کے الزامات لگانے پر غور کرتا ہے جو اسی اتحادی کی پشت پناہی میں کام کر رہی ہیں۔ دنیا میں انسانی حقوق کے چیمپئن اس المیے پر پراسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
دلچسپ مگر دردناک حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے سوڈان کے لیے آواز بلند کی وہ خود ظلم کا شکار ہیں۔ غزہ کے عوام جو قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور نسل کشی کا سامنا کر رہے ہیں انہوں نے سوڈان کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے کہا کہ ’’غزہ اور سوڈان کا خون اور درد ایک ہے”۔ یہ جملہ صرف ہمدردی نہیں بلکہ ایک عظیم اخلاقی سبق ہے کہ جو قوم خود ظلم سہتی ہے وہ دوسروں کے دکھ کو بہتر سمجھتی ہے۔
سوڈان کے اس بحران کا کوئی فوری اور آسان حل بظاہر دکھائی نہیں دیتا مگر یہ کہنا بھی درست نہیں کہ وہاں امن کی بحالی کیلئے کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے پہلے ایک مستقل اور قابلِ نگرانی جنگ بندی ضروری ہے تاکہ لاکھوں متاثرہ افراد تک انسانی امداد پہنچ سکے۔ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوگا جس میں سوڈان کے تمام نسلی، مذہبی اور سماجی طبقات کی نمائندگی ہو۔ انسانی حقوق کی علمبرداری کی دعویدار عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی و معاشی مفادات سے بالاتر ہو کر انسانی پہلو کو ترجیح دیں ورنہ یہ آگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
سوڈان کا بحران دراصل انسانیت کے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔ ہر گزرتا دن سینکڑوں نئی قبریں کھودتا ہے۔ ہر رات ہزاروں بچے بھوک سے سسک کر سو جاتے ہیں۔ اور دنیا اب بھی خاموش ہے۔ اگر ہم نے اس آزمائش کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں ہمیں ایک بے حس اور خودغرض دور کی علامت کے طور پر یاد رکھیں گی۔ الفاشر کی ویران گلیوں میں بکھری لاشیں، بھوک سے نڈھال بچے اور خوف میں لپٹی عورتیں ہم سب سے ایک ہی سوال پوچھ رہی ہیں کہ کیا انسانی جان اتنی بے وقعت اس لیے ہو چکی ہے کہ یہ مسلمان کی جان ہے؟

یہ بھی پڑھیں