فلسطین کا مسئلہ صدیوں پرانا ہے، لیکن حالیہ دہائیوں میں یہ ایک ایسا عالمی بحران بن چکا ہے جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی سیاست، اقتصادیات اور انسانی حقوق کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ مسئلہ اب محض عرب، اسرائیل تنازعہ نہیں رہا، بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات، حکمت عملی اور جیوپولیٹیکل کھیل کا محور بن چکا ہے۔ امریکہ تاریخی طور پر اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی رہا ہے، جو مالی امداد، فوجی تعاون اور اقوام متحدہ میں ویٹو کے ذریعے اسرائیل کو سیاسی و عسکری تحفظ فراہم کرتا آیا ہے۔ امریکی مفادات میں مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ برقرار رکھنا، اسرائیل کو خطے میں اپنا اسٹریٹجک اڈہ بنانا اور تیل کے ذخائر تک رسائی شامل ہیں، جس سے خطے کے جیوپولیٹیکل توازن پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یورپی یونین فلسطینیوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کی بات کرتی ہے، مگر عملی طور پر اسرائیل کے ساتھ اقتصادی اور فوجی تعلقات جاری رکھتی ہے۔ مختلف یورپی ممالک کی مختلف سوچ نے یورپی یونین کو متحدہ پالیسی اختیار کرنے سے روکا ہوا ہے، جس سے فلسطینی موقف کمزور ہوا ہے۔ عرب ممالک کی پالیسیاں بھی متنوع ہیں۔ کچھ نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے ہیں، جبکہ بعض اب بھی فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔ عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) جیسے ادارے فلسطین کی نمائندگی کرتے ہیں، مگر ان کی اثرپذیری اور عملی اقدامات کی کمی بحران کو مزید طول دے رہی ہے۔ فلسطین بحران کی تاریخی جڑیں 1948کی نکبہ سے جڑی ہوئی ہیں، جب لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے اور انسانی حقوق کی تاریخ کی سب سے بڑی جبری نقل مکانی کا آغاز ہوا۔ 1967 کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے غرب اردن، مشرقی یروشلم اور غزہ پر قبضہ کر لیا، جو آج تک جاری ہے۔ اوسلو معاہدے (1993) نے امن کی کچھ امیدیں پیدا کیں، مگر اسرائیل کی بستیوں کی مسلسل توسیع اور فلسطینی اتھارٹی کی کمزوری نے امن کے اس خواب کو ناکام بنا دیا۔ آج 2025 میں یہ بحران غزہ میں مکمل تباہی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں کی توسیع اقوام متحدہ کی قرارداد 2334 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ 2023 سے جاری جنگ میں ساٹھ ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں 40فیصد سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں۔ غزہ میں 80 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، اور 2.3 ملین باشندوں میں سے 90 فیصد سے زیادہ بے گھر ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی اور حماس کے درمیان داخلی تقسیم نے صورت حال کو مزید گمبھیرکردیاہے اورانسانی بحران کی شدت میں اضافہ کیا ہے۔امریکی پالیسیوں نے بحران کو مزید پیچیدہ اورخطرناک بنادیاہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدارت کے تحت فلسطینی ریاست کے حق کو کھلے طور پر مسترد کیا گیا اور اسرائیل کو 38 بلین ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی گئی، جو بنیادی طور پر فلسطینی علاقوں میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس پالیسی نے مسلم ممالک کو فلسطین کے مسئلے سے دور کرنے کی کوششوں کو بھی تیز کیا ہے، جیسا کہ ابراہم معاہدوں (2020) کے ذریعے دیکھا گیا۔ بائیڈن انتظامیہ نے بھی فلسطین کی حمایت میں کمزور موقف اپنایا، مگر ٹرمپ کی پالیسیاں زیادہ جارحانہ اور فلسطینی عوام کے لیے خطرناک ہیں۔
مسلم ممالک نے فلسطین کو زبانی حمایت تو دی ہے، مگر عملی اقدامات کی کمی واضح ہے۔ سعودی عرب اور مصر کی امن فورس کی تجاویز عملی شکل اختیار نہیں کر سکیں، جبکہ متحدہ عرب امارات اور بحرین اقتصادی روابط میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ایران اور ترکی نے فلسطینی مزاحمت کی حمایت کی،مگر یہ بھی علاقائی تنازعات کی زد میں رہی۔ دوسری جانب، غیر مسلم رہنما جیسے کولمبیا کے صدر نےفلسطین کےتحفظ کےلیے بین الاقوامی فوج بھیجنے کی تجاویز پیش کیں، جو مسلم دنیاکی خاموشی پر سوالیہ نشان ہیں۔ جنوبی افریقہ نے بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ دائر کیا، جو مسلم ممالک کی عملی کمزوری کو واضح کرتا ہے۔
اقتصادی اور انسانی اثرات تباہ کن ہیں اور غذائی بحران نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔ بچوں اور خواتین پر سب سے زیادہ اثر پڑا ہے جبکہ نفسیاتی اثرات نسل در نسل منتقل ہوں گے۔ انسانی امداد کی کمی، بنیادی سہولیات کی تباہی اور عالمی میڈیا کی محدود توجہ نے بحران کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ عالمی تجارت اور سپلائی چینز بھی متاثر ہو رہی ہیں، جس سے عالمی سطح پر اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ممکنہ حل کی جانب دیکھیں تو فلسطین کا مسئلہ صرف زمین کا تنازعہ نہیں، بلکہ انسانی ضمیر،عالمی انصاف اور اخلاقی ذمہ داری کا امتحان ہے۔ عالمی برادری کو امریکی ویٹو کے بغیر مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے، جیسے جنرل اسمبلی کی قراردادوں پر عمل یا ICJ کے فیصلوں کی پابندی۔ مسلم ممالک کو زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے، جیسے اقتصادی بائیکاٹ، فوجی تعاون، سفارتی دباؤ اور مشترکہ سیاسی حکمت عملی۔ OIC کو مشترکہ فورس تشکیل دینی چاہیے اور عالمی میڈیا کو فلسطینی آواز کو تقویت دینی چاہیے تاکہ دنیا اس انسانی بحران کی سنگینی کو محسوس کرے۔
فلسطین کی آزادی صرف مشرق وسطیٰ کے امن کی ضمانت نہیں، بلکہ عالمی انصاف اور انسانی وقار کی بنیاد ہے۔ اگر امت مسلمہ یکجا ہو کر اس مسئلے کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، تو آنے والا وقت فلسطین کی آزادی اور امن کا پیغام لا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ المیہ نسل در نسل جاری رہے گا اور عالمی سیاست میں انسانی حقوق کی پامالی کا ایک تلخ باب قائم رہے گا۔