امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ستمبر 2025 میں پیش کیا گیا 20 نکاتی امن پلان ابتدا میں مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی امید کے طور پر دیکھا گیا۔ اسرائیل اور حماس دونوں نے اسے ابتدائی طور پر قبول بھی کر لیا، جس سے عالمی برادری میں ایک امید پیدا ہوئی کہ شاید برسوں سے جاری خونریزی کا کوئی حل نکل آئے۔ مگر محض ایک ماہ گزرنے کے بعد ہی یہ امن پلان ایک سیاسی فریب اور انسانی المیے میں بدل گیا۔ صدر ٹرمپ کے بیس نکاتی امن منصوبے نے جس امید کا دیا جلایا تھا وہ جلد ہی دھوئیں کے بادلوں میں گم ہوگیا۔ یہ منصوبہ جس میں یرغمالیوں کی رہائی، جنگ بندی اور غزہ کی تعمیر نو کے پرامید وعدے کیے گئے تھے، زمینی حقیقتوں سے ٹکرا کر بکھر گیا۔ بیانات اور تصویری مسکراہٹوں کے باوجود فلسطینی عوام کا انسانی المیہ بدستور جاری ہے۔امن کے نام پر صرف طاقت کو جواز فراہم کیا گیاجس کے نتیجے میں وہاں امن کا قیام تو عمل میں نہ آیاالبتہ اسرائیلی تشدد اور بربریت مسلسل جاری ہے۔ آج بھی غزہ میں ویران عمارتیں،چیختے بچےاور ماؤں کی سسکیاں سنائی دیتی ہیں۔ غزہ کی صورتِ حال کو اب جذبات نہیں بلکہ حقائق کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ لاکھوں افراد خوراک، صاف پانی، ادویات اور پناہ گاہوں سے محروم ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کےمطابق ہزاروں زخمی اور بیمارافراد علاج سے محروم ہیں کیونکہ سرحدی راستے بند ہیں اور ہسپتال ملبے میں دب چکے ہیں۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ یہ زندہ انسانوں کی دردناک کہانیاں ہیں۔ ایک ماں جو اپنے بچے کے لیے دودھ ڈھونڈ رہی ہے، ایک باپ جو ملبے سے اپنے پیاروں کی لاشیں نکال رہا ہے۔ یہ سب مناظر اس زمین پر زندہ انسانوں اور حقوق انسانی کا واویلا کرنے والی تنظیموں کے منہ پرایک زوردارتمانچہ نہیں ہیں؟ یرغمالیوں کی رہائی کو کامیابی کہا گیا لیکن اسی دوران اسرائیلی بمباری میں مزید شدت آئی، شہری ہلاکتیں بڑھیں اور امداد کے راستے مزید تنگ ہو گئے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امن کے نام پرہونے والےمعاہدے کی ترجیحات انسانی جانوں کی حفاظت نہیں بلکہ سیاسی مفادات ہیں۔ اس ساری صورتحال میں عالمی سیاست کا کردار بھی افسوسناک حد تک مایوس کن رہا ہے۔
ابراہیم معاہدوں کے بعد جو ممالک اسرائیل کے قریب ہوئے ان کی خاموشی فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ جب انسانی جانوں پر معیشت اور سفارت کو فوقیت دی جائے تو انصاف کا ترازو ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔ اس اخلاقی گراوٹ کی قیمت صرف فلسطینی نہیں پوری انسانیت اداکررہی ہے۔ امتِ مسلمہ اور خصوصاً عرب ریاستوں کے لیے اب خاموشی گناہ کے مترادف بن چکی ہے۔ اگر آج آواز نہ اٹھائی گئی تو تاریخ یہ گواہی دے گی کہ ہم نے ظلم کو اپنی آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتے دیکھا اور وسائل اور طاقت کے باوجود پھر بھی خاموش رہے۔ اب الفاظ سے مذمت کی بلکہ ظلم کو روکنے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ عالمی برادری، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر زندہ ضمیر فرد کو آگے آنا ہوگا۔ فوری اور غیرمشروط جنگ بندی نافذ کی جائے تاکہ معصوم شہری کم از کم سانس تو لے سکیں۔ انسانی امداد کی رسائی یقینی بنائی جائے۔ خوراک، دوا اور پناہ گاہوں کے لیے تمام سرحدی راستے کھولے جائیں۔ جنگی جرائم کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ ظلم کرنے والے قانون کے کٹہرے میں آئیں۔ متاثرہ شہریوں کے لیےمحفوظ زونز قائم کیے جائیں جہاں امداد بین الاقوامی نگرانی میں تقسیم ہو۔ اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل پر پابندی عائد کی جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک پائیدار سیاسی حل کی تلاش میں سنجیدگی دکھائی جائےجو فلسطینی عوام کے بنیادی انسانی حقوق اور ریاستی حیثیت کو تسلیم کرے۔ افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا بھر میں میڈیا کے رویے نے بھی اس المیے کو مزید گہرا کیا ہے۔ کچھ بڑے میڈیا ادارے جانبدار ہو کر صرف ایک رخ پیش کرتے ہیں، جس سے عام ناظرین کے ذہن میں حقیقت مسخ ہو جاتی ہے۔ غزہ میں جلتے گھروں کی تصاویر تو آتی ہیں مگر ان کے پیچھے چھپی داستانیں شاذ و نادر ہی بیان کی جاتی ہیں۔ کاش کہ عالمی صحافت طاقت کےتابع ہونےکی بجائے انسانیت کے ساتھ کھڑی ہوتی۔ خبر کو مصلحت کے تحت توازن نہیں بلکہ سچائی اور حقانیت چاہیے ہوتی ہے خواہ وہ کسی بھی طاقتور ملک یا فرد کے خلاف ہی کیوں نہ جائے۔ میڈیا اگر انصاف کے بجائے مفاد کی زبان بولے گا تو وہ خود ظلم کے آلے میں بدل جائے گا۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ یہ مسئلہ صرف فلسطین یا اسرائیل کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہے۔ جب ایک جگہ انصاف مر جاتا ہے تو اس کی لاش باقی دنیا کے ضمیر پر بوجھ بن جاتی ہے۔ غزہ کی تباہی ہمیں یاد دلا رہی ہے کہ دنیا کی طاقتور اقوام کتنی کمزور ہو جاتی ہیں جب اخلاقی اصول ان کے ہاتھ سے نکل جائیں۔ ہمیں یہ طےکرناہوگا کہ آنے والی نسلوں کے لیے ہم کس طرح کی دنیا چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ایک ایسی دنیا جو خاموش تماشائیوں سے بھری ہو یا ایک ایسی دنیا جو ظلم کے خلاف کھڑی ہونے کا حوصلہ رکھتی ہو۔
ہم اکثر غزہ کےکسی تباہ حال خاندان یازخمی بچے کی تصویر دیکھ کر چند لمحے افسوس کرتےہیں اور پھراپنی روزمرہ زندگی میں کھوجاتے ہیں۔ جب تک ہم انسانی جان کو سیاست، طاقت اور مفاد پرفوقیت نہیں دیں گے تو اس وقت تک امن محض ایک خواب رہے گا۔ اگر آپ ایک عام قاری ہیں تو سمجھ لیجیے کہ آپ بھی غیر معمولی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اپنے اپنے ممالک میں پارلیمانی نمائندوں کو خطوط لکھیں، انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مل کر فلسطینی عوام کے حق میں آواز کو آگے پھیلائیں۔ یاد رکھیں ظلم کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز تاریخ میں محفوظ رہتی ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور ہر تاخیر کا لمحہ ایک نئی جان چھین رہا ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہےکہ کیا ہم اسرائیلی ظلم و بربریت کے خلاف خاموش تماشائی رہیں گے یا انصاف کے حصول اور انسانیت کی بقا کے لیے اپنی آواز بلند کریں گے؟
