یہ دور حاضر کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ امتِ مسلمہ کے حکمران اپنی سلامتی اور بقا کے لیے انہی طاقتوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرتے ہیں جو درحقیقت ان کی کمزوری، غلامی اور ذلت کی اصل بنیاد ہیں۔ قطر پر حالیہ حملہ اور اربوں ڈالر کے دفاعی نظام کی بے بسی اس تلخ حقیقت کا زندہ ثبوت ہے۔ قطر نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اپنی سرزمین کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے امریکہ، یورپ اور نیٹو ممالک سے جدید ترین فضائی دفاعی نظام خریدے۔ ہتھیاروں کی خریداری، تنصیب، تربیت، پرزہ جات اور اپ گریڈیشن پر کل لاگت 19 ارب ڈالر سے بڑھ گئی۔ لیکن جب دوحہ پر اسرائیلی حملے کا لمحہ آیا تو یہ سارا مہنگا ترین دفاعی نظام محض چند سیکنڈز میں ناکارہ ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق انہی طاقتوں نے، جن سے یہ سب کچھ خریدا گیا تھا، صرف ایک ’’کمانڈ بٹن‘‘ دبا کر پورے دفاعی نظام کو غیر فعال کر دیا۔ اس طرح اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری خاکستر ہو گئی اور قطر بے بسی کی تصویر بنا رہا۔
سوال یہ ہے کہ یہ اسلحہ آخر کس کے تحفظ کے لیے خریدا جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مغربی ہتھیار عرب ممالک کے لیے حملوں سے بچاؤ کی ڈھال نہیں بلکہ غلامی کی زنجیریں ہیں۔ کیونکہ ان کے اندر پہلے ہی ایسے خفیہ کوڈز اور ’’کل سوئچز‘‘ نصب کر دیے جاتے ہیں جو بوقتِ ضرورت خریدار ملک کو مفلوج بنا دیں۔ یہی اسلحہ جب شام، یمن اور غزہ کے نہتے مسلمانوں پر آزمایا جاتا ہے تو بھرپور کارکردگی دکھاتا ہے، لیکن جیسے ہی امریکہ یا اسرائیل کے مفادات کو خطرہ لاحق ہو، یہی نظام محض ڈبے کے کھلونے بن جاتے ہیں۔ یہ کوئی حادثاتی تکنیکی خرابی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی اسرائیل نواز پالیسی ہے۔ قطر کے معاملے میں یہ بھی سامنے آیا کہ حملے کی حتمی اجازت براہِ راست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی تھی۔ وہی ٹرمپ جس نے کچھ ماہ قبل قطر سے کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور اربوں ڈالر کے فوجی معاہدے حاصل کیے تھے اور یہاں تک کہ قطر نے اسے ایک قیمتی طیارہ بطور تحفہ بھی دیا تھا۔ لیکن لمحوں میں یہ سب “دوستی” ریزہ ریزہ ہو گئی۔ اس کی وجہ یہ کہ امریکہ کی اصل دوستی اور وابستگی کسی عرب ریاست سے نہیں بلکہ اسرائیل سے ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب مسلم ممالک نے مغربی ہتھیاروں پر انبار کے انبار جمع کیے اور وقتِ امتحان وہ ناکام نکلے۔ ایران۔عراق جنگ کے دوران دونوں ممالک مغربی اسلحہ خریدتے رہے اور امریکہ نے اسےDouble Containment Strategy یعنی ایک تیر سے دو شکار کا نام دیا۔ سعودی عرب کا اربوں ڈالر کا پیٹریاٹ سسٹم یمنی ڈرونز کو نہ روک سکا۔ لیبیا کے پاس جدید مغربی ہتھیار تھے لیکن نیٹو نے باآسانی قذافی حکومت کو روند ڈالا۔ سعودی آرامکو پر حملے کے وقت بھی امریکی پیٹریاٹ نظام محض تماشائی رہا کیونکہ کمانڈ کسی اور کے ہاتھ میں تھی۔ مغربی میڈیا اور تھنک ٹینکس مسلسل یہ پراپیگنڈا کرتے ہیں کہ صرف ان کے ہتھیار ناقابلِ شکست ہیں۔ اس فریب میں مسلم ممالک اپنی دولت بہاتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن جب کسی مسلمان ملک نے اپنی ٹیکنالوجی پر بھروسہ کیا تو نقشہ ہی بدل گیا۔ ترکی کے بائیکار ڈرونز نے عالمی منڈی میں دھوم مچا دی۔ پاکستان کا کامیاب ترین میزائل پروگرام دشمن کو منہ توڑ جواب دینے اور خطے میں توازنِ قوت پیدا کرنے میں کامیاب ہوا۔ ان کامیابیوں کو مغربی میڈیا یا تو چھپاتا ہے یا مشکوک قرار دیتا ہے کیونکہ انہیں مسلمانوں کی خود انحصاری برداشت نہیں۔
تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو یہی سبق ملتا ہے کہ اندلس اور برصغیر میں زوال اس وقت شروع ہوا جب ہم نے اپنی بقا کا سہارا بیرونی طاقتوں میں تلاش کیا۔ وہی طاقتیں بعد ازاں ہمارے آقا بن گئیں۔ آج قطر اور دیگر خلیجی ریاستیں اسی روش پر چل رہی ہیں۔
قطر کے واقعے نے یہ حقیقت بھی عیاں کر دی ہے کہ امریکہ کی ہر پالیسی کے پیچھے اسرائیل کا مفاد کارفرما ہے۔ خلیجی ریاستیں کھربوں ڈالر کیوں نہ لگا دیں، وہ محض وقتی ’’گاہک‘‘ ہیں۔ امریکہ کے نزدیک ڈالر اور تیل اہم ہیں لیکن اسرائیل کی حفاظت ان سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ یہ المیہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک آئینہ ہے۔ سلامتی کبھی دوسروں کے رحم و کرم پر قائم نہیں ہو سکتی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم دنیا چند بنیادی فیصلے کرے (1) اسلامی دفاعی اتحاد کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔ نیٹو کی طرز پر ایک مضبوط دفاعی اتحاد قائم کیا جائے جس میں تحقیق، تربیت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون ہو (2) تیل و گیس کی دولت مغربی ہتھیار خریدنے پر ضائع کرنے کے بجائے جامعات، ریسرچ سینٹرز اور مقامی دفاعی صنعت پر خرچ کی جائے (3) داخلی انتشار ختم کر کے باہمی اتحاد پیدا کیا جائے، ورنہ کوئی دفاعی ڈھانچہ سیاسی یکجہتی کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا (4) اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے والے عرب حکمران یہ حقیقت سمجھ لیں کہ اسرائیل کبھی مسلمانوں کا دوست نہیں بن سکتا (5) نوجوان نسل میں سرمایہ کاری کریں۔ یہی امت کی اصل طاقت ہیں۔ سلطنتِ عثمانیہ کی مثال سامنے ہے کہ جب اس نے اپنی نوجوان نسل، صنعت اور بحری قوت پر انحصار کیا تو صدیوں یورپ پر غالب رہی، لیکن جیسے ہی مغربی قرضوں اور ہتھیاروں پر انحصار کیا، زوال شروع ہو گیا۔
قطر پر حملہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ مغربی ہتھیار ہماری حفاظت نہیں بلکہ غلامی کی زنجیریں ہیں۔ اگر آج قطر کا دفاعی نظام ایک بٹن سے ناکارہ ہو سکتا ہے، تو کل کوئی اور مسلم ریاست بھی اسی انجام سے دوچار ہو سکتی ہے۔ فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے کہ کیا ہم ہمیشہ دوسروں کے بٹنوں پر چلنے والے غلام بنے رہیں گے یا پھر اپنی خودی کو پہچان کر خود انحصاری، اتحاد اور ایمانی جرات کا راستہ بھی اختیار کریں گے؟ تاریخ کا فیصلہ بالکل واضح ہے کہ قوموں کی حفاظت اسلحے کے انبار سے نہیں بلکہ خود انحصاری، اتحاد اور ایمان کی قوت سے ہوتی ہے۔