برصغیر کی تاریخ میں جب کشمیر اور پاکستان کا ذکر آتا ہے تو یہ محض جغرافیائی یا سیاسی افسانہ نہیں بلکہ حقیقت میں ایمان، عقیدت اور محبت کی ایک طویل داستان ہے۔ یہ رشتہ دراصل دلوں کا رشتہ ہے جو فقط جغرافیائی نقشوں کی لکیروں سے نہیں بلکہ روحانی وابستگی اور تہذیبی ہم آہنگی سے جا ملتا ہے۔ کشمیر کی برف پوش وادیاں اور پاکستان کے زرخیز میدان ایک ہی دھڑکن کے دو رخ ہیں، جنہیں دریا، پہاڑ اور تاریخ کے اٹوٹ رشتے جوڑتے ہیں۔
کشمیر کی روحانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام نے اس خطے کو صرف مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب و ثقافت عطا کی۔ چودھویں صدی عیسوی میں جب ایران کے شہر ہمدان سے ہجرت کرکے آنے والے صوفی بزرگ میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کشمیر تشریف لائے تو انہوں نے یہاں کے باسیوں کو صرف عبادت یا ذکر الٰہی کی ہی تعلیم نہیں دی بلکہ ایک ایسا اسلامی طرزِ حیات سکھایا جو روحانیت، اخلاقیات اور سماجی نظم کا حسین امتزاج تھا۔ شاہِ ہمدان کے ساتھ آنے والے سینکڑوں صوفیائےعظام، علمائے کرام، کاریگر اور مخلص مریدوں نے وادی کشمیر میں مساجد، مدارس اور خانقاہیں قائم کیں۔ انہی مراکز سے محبت، انصاف اور رواداری کے چراغ روشن ہوئے۔ شاہِ ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایمان کی پختگی اور اعمال پر استقامت کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو فنون لطیفہ، دستکاری اور تجارت کے اصول بھی سکھائے۔ انہی کے فیض سے کشمیری معاشرہ اخلاق، برداشت اور حسنِ کردار کے اصولوں پر استوار ہوا۔ مؤرخ غلام حسن خان اپنی تصنیف تاریخِ حسن میں لکھتے ہیں کہ شاہِ ہمدان رحمۃ الله عليہ کی آمد نے کشمیر کے فکری و تہذیبی منظرنامے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ اسلام اس وادی میں کسی جبر یا تلوار کے زور سے نہیں بلکہ صوفیائے کرام کے کردار، اخلاق اور محبت سے پھیلا۔ یہی روشنی بعد میں ”کشمیریت“ کہلائی۔ ایک ایسی فکری و روحانی شناخت جو مذہب اور انسانیت کے مابین رشتہ استوار کرتی ہے۔ کشمیریت دراصل وہ فکری ورثہ ہے جو شاہِ ہمدان، شیخ نورالدین نورانی اور دیگر بزرگوں نے دیا۔ ایک طرزِ فکر جس میں محبت، عدل اور خدمتِ خلق ایمان کا حصہ ہیں۔ یہی جذبہ بعد میں برصغیر کے مسلمانوں کی بیداری اور فکری خودشناسی میں ایک خاموش مگر مضبوط قوت بنا۔ جب برطانوی اقتدار کے سائے میں مسلمان اپنی شناخت کے تحفظ کی جدوجہد میں مصروف تھے، تو کشمیر کے اہلِ ایمان بھی اس بیداری کے حصہ دار بنے۔
1947ء کی تقسیمِ ہند محض سیاسی واقعہ نہیں تھی بلکہ یہ کروڑوں انسانوں کی تقدیروں کا فیصلہ تھی۔ کشمیر اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا تھا۔ ڈوگرہ راج کے زیرِ اثر طویل غلامی، بھاری ٹیکسوں اور معاشی ناہمواریوں نے کشمیری عوام کو جبر سے نجات کی تڑپ دی تھی۔ جب اکتوبر 1947ء میں وادی کے مجاہدین نے بغاوت کی تو وہ کسی بیرونی اشارے پر نہیں بلکہ اپنی آزادی، ایمان اور شناخت کی پکار پر اُٹھے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اسی حقیقت کو سمجھتے ہوئے فرمایا تھا کہ “کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔” یہ جملہ محض جغرافیائی اہمیت کا اظہار نہیں تھا بلکہ اس گہرے روحانی رشتے کی علامت بھی تھا جو دونوں خطوں کو جوڑتا ہے۔ کشمیر کے دریا پاکستان کی زمینوں کو سیراب کرتے ہیں اور کشمیر کے پہاڑ پاکستان کے قدرتی دفاع کا استعارہ ہیں۔ مصور پاکستان علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ، جو خود کشمیری النسل تھے، اس رشتے کا اظہار کرنے والے بڑے شاعر اور مفکر تھے۔ ان کے نزدیک کشمیر محض ایک وادی نہیں بلکہ ایمان، خودی اور بیداری کی علامت تھا۔ ان کا مشہور شعر
تنم گلے ز خاکِ کشمیر است
دلم ز نالۂ ہندی فقیر است کشمیر کی جدوجہدِ آزادی دراصل انسان کے اس بنیادی حق کی علامت ہے کہ وہ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرے۔ کچھ کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کو اپنی مذہبی اور تہذیبی وابستگی کا تسلسل سمجھتے ہیں، تو کچھ اپنی تاریخی شناخت اور خودمختاری کے خواہاں ہیں۔ مگر ان دونوں نکتہ نظر میں ایک مشترکہ حقیقت ہے۔ آزادی، انصاف اور انسانی وقار کی تلاش۔ الحاق پاکستان یا خود مختار کشمیر کے علیحدہ علیحدہ موقف اہالیان کشمیر کا اندرونی معاملہ ہے۔ ہم تو یہی کہیں گے کہ کشمیر کی آزادی کا فیصلہ کشمیریوں کی امنگوں کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ کشمیری قوم نے دہائیوں تک ظلم، محاصروں اور قربانیوں کے باوجود اپنے تشخص کو زندہ رکھا ہے جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ ان کا عزم اس بات کا گواہ ہے کہ حق و انصاف کے لیے اٹھنے والی آوازیں وقتی جبر سے خاموش نہیں ہوتیں۔کشمیر اور پاکستان کا رشتہ صرف عقیدے اور سیاست تک محدود نہیں بلکہ ثقافت، فن موسیقی اور روزمرہ زندگی کے رنگوں میں بھی گھلا ہوا ہے۔ کشمیری قہوہ کی خوشبو، پشمینہ شالوں کی نرمی، صوفی محفلوں کی نعتیہ فضا، لاہور اور کراچی کی گلیوں میں کشمیری فنکاروں کی موجودگی۔ یہ سب اس محبت کی علامت ہیں جو وقت کے ساتھ اور بھی گہری ہوتی گئی ہے۔ کشمیری فنِ موسیقی، خطاطی اور دستکاری نے پاکستانی ثقافت کو ایک منفرد جمالیاتی رنگ دیا ہے۔ یہی رشتہ فکری سطح پر بھی قائم ہے۔ اسلام آباد، لاہور، اور مظفرآباد کی جامعات اور تحقیقی ادارے آج بھی کشمیر کی تاریخ، ادب اور تحریکِ آزادی پر علمی کام کر رہے ہیں۔ نوجوان نسل میں کشمیر سے وابستگی اب جذبات سے بڑھ کر ایک شعوری ذمہ داری بن چکی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ مقدمہ محض سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور ایمانی امانت ہے۔
آج کے عالمی حالات میں جب طاقتور قومیں کمزور آوازوں کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں، کشمیر اور پاکستان کے درمیان یہ روحانی و تہذیبی رشتہ ایک امید کی صورت باقی ہے۔ یہ امید صرف آزادی کی نہیں بلکہ انسانیت کی جیت کی امید ہے۔ کشمیر کی جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمان، صبر اور حق پر قائم رہنا سب سے بڑی طاقت ہے۔ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس رشتے کو ہمیشہ کی طرح مزید مضبوط کرے۔ تعلیم، سفارت، میڈیا اور بین الاقوامی فورمز پر کشمیری عوام کی آواز بن کر۔ یہی کردار اس تعلق کو دوام بخش سکتا ہے۔
وقت نے اس رشتے کو کئی آزمائشوں سے گزارا ہے۔ 1948ء، 1965ء ، 1999ء، 2024 کی جنگوں نے اس تعلق کو پرکھا، مگر ایمان، قربانی اور محبت کی بنیاد پر بننے والے رشتے کبھی کمزور نہیں ہوتے۔ طاقت کے کھیل، سیاسی سازشوں اور عالمی مفادات نے اسے توڑنے کی کوشش کی، مگر کشمیر اور پاکستان کے دل ایک ہی دھڑکن سے جڑے رہے۔ آج بھی کشمیر کے نوجوان سبز ہلالی پرچم تھامے دنیا کو یاد دلاتے ہیں کہ ان کی منزل انصاف، عزت اور امن ہے — ایک ایسا امن جو ان کے ایمان سے جنم لیتا ہے۔
کشمیر اور پاکستان کا تعلق محض تاریخ نہیں، یہ عقیدے اور محبت کی امانت ہے۔ یہ رشتہ شاہ ہمدان کے مریدوں کی خدمت سے شروع ہوا، اقبال کی شاعری میں پروان چڑھا، قائداعظم ؒکے عزم میں حقیقت بنا، اور آج بھی کشمیریوں کے جذبوں میں زندہ ہے۔ یہ دو ریاستیں نہیں بلکہ ایک ہی روحانی داستان کے دو باب ہیں۔ جب تک کشمیر کی وادیوں میں ”اللہ اکبر“ کی صدا گونجتی رہے گی اور پاکستان کے میدانوں میں،کشمیر سے رشتہ — ایمان، محبت اور انصاف کا” نعرہ بلند ہوتا رہے گا، یہ تعلق قائم و دائم رہے گا۔ یہ رشتہ زمین کا نہیں، دلوں کا ہے — ایمان، عقیدت اور انسانیت کا رشتہ، جو کبھی مٹ نہیں سکتا۔