Search
Close this search box.
اتوار ,28 جون ,2026ء

ٹی ایل پی ایک دہشت گرد جماعت؟

پاکستان جیسے جوہری طاقت والے ملک میں دہشت گردی، انتہا پسندی اور ملک دشمنی کئی دہائیوں سے قوم کے جسمِ نازک کو چھلنی کر رہی ہے۔ ہر ذمہ دار شہری کا فرض ہے کہ وہ ان کا قلع قمع کرے۔ کوئی بھی جماعت، گروہ یا تنظیم جو براہ راست دہشت گردی میں ملوث ہو، ریاستِ پاکستان کی رٹ کو کھلے عام چیلنج کرے یا ملکی سالمیت کے خلاف سازشیں کرے، وہ دراصل قوم کے امن، استحکام اور روشن مستقبل کے لیے ایک سنگین اور ناقابلِ معافی خطرہ ہے۔ ایسی قوتوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ان لاکھوں شہداء کی قربانیوں کی توہین شمار ہوگا جنہوں نے اپنا خون بہا کر اس سرزمین کو محفوظ بنایا۔ قومی سلامتی کے تقاضے کے مطابق حکومت، فوج، انٹیلی جنس ادارے، عدلیہ، میڈیا اور عام عوام کو ایک ہی مؤقف پر متحد ہو کر ان عناصر کا مکمل اور بے رحم خاتمہ کرنا چاہیے۔ جب تک دہشت گردی کی آگ، انتہا پسندی کی آندھی اور ملک دشمن سوچ کی زہریلی جڑیں اکھاڑی نہ جائیں اس وقت تک حقیقی معاشی ترقی، سماجی انصاف اور پائیدار امن کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی ہے۔ یہی حب الوطنی کا اصل تقاضا، پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت اور ہر پاکستانی کا فرضِ منصبی ہے۔
اب ہم اس تناظر میں ٹی ایل پی کا حقائق اور معروضی حالات کی روشنی میں ایک دیانتدارانہ جائزہ لیتے ہیں کہ کیا واقعی ٹی ایل پی ایک دہشت گرد جماعت ہے؟ کیا اس کی قیادت نے کبھی ریاستِ پاکستان کے خلاف بغاوت کی، ملکی رٹ کو چیلنج کیا یا قومی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی؟ آئیے، تعصب کی عینک اتار کر، تاریخی دستاویزات، عدالتی فیصلوں اور عوامی ریکارڈ کی روشنی میں اس سوال کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ جائزہ نہ صرف ٹی ایل پی کی حقیقت کو واضح کرے گا، بلکہ اس کے خلاف جاری سخت کریک ڈاؤن کی اصل وجوہات کو بھی بے نقاب کرے گا۔
ٹی ایل پی کے آغاز سے ہی خالصتاً پاکستان کے اسلامی تشخص کا تحفظ اس کےمنشور کے بنیادی مقاصد ہیں۔ اس کے بانی ایک درویش منش عالم دین ہیں، جن کی زبان میں اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب تاثیر رکھی تھی۔ ان کی سینکڑوں وڈیوز اور آڈیوز گواہ ہیں کہ ان کا بیانیہ کبھی بھی ریاستِ پاکستان کے خلاف بغاوت یا ملک دشمنی کا شکار نہیں ہوا۔ ان کے تمام احتجاجات، دھرنے اور مظاہرے آئینی، نظریاتی اور دینی اصولوں کے عین مطابق تھے۔ تاریخی طور پر دیکھیں تو ٹی ایل پی کا بیانیہ جمیعت علمائے اسلام، جمیعت علمائے پاکستان اور جمیعت اہل حدیث جیسی روایتی مذہبی جماعتوں کی طرز پر ہے، جو عوامی سطح پر دینی احساسات کو سیاسی اظہار کا ذریعہ بناتی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس کی گواہ ہے کہ 1977ء کی بھٹو حکومت کے خلاف تحریکیں، 1990ء کی نواز شریف کے دھرنے یا 2014ء کا عمران خان کا لانگ مارچ، ہر بڑی سیاسی جماعت کے احتجاج میں پرتشدد عناصر شامل رہے ہیں۔ کیا ان سب کو دہشت گرد قرار دیا گیا؟ نہیں! تو پھر صرف ٹی ایل پی کو نشانہ بنانا واضح طور پر انصاف کے منافی اور تعصب پر مبنی ہے۔ عدالتی سطح پر بھی ٹی ایل پی پر دہشت گردی کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں میں انہیں سیاسی جماعت تسلیم کیا گیا اور ان کے مطالبات کو آئینی حدود کے اندر تسلیم کیا گیا۔ 2021ء میں ان کے خلاف عائد پابندیوں کو عدالت نے ہٹا دیا اور انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دی۔ یہ سب ثبوت اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ٹی ایل پی ایک مذہبی، عوامی اور نظریاتی تحریک ہے، نہ کہ دہشت گرد یا ریاست دشمن تنظیم۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ٹی ایل پی پر دہشت گردی کا کوئی ثبوت نہیں تو حکومت اس کے خلاف کیوں سخت خونی ایکشن لے رہی ہے؟ کیوں گرفتاریاں، کریک ڈاؤن اور رجسٹریشن منسوخی کی کوششیں جاری ہیں؟ اس کی وجوہات محض سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی اور سازشی ہیں۔ گزشتہ 78 سالوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسلامی تشخص کو کمزور کرنے کے لیے ایک منظم مہم چلائی گئی ہے۔ لبرل، لادین اور اسلام دشمن قوتوں نے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بے حیائی، لچر کلچر اور سیکولر ازم کو فروغ دیا گیا۔ نوجوان نسل نشے کی لت، ڈرگ کلچر اور فحش فلموں، ڈراموں کے ذریعے دین سے دور کی گئی۔ نصابِ تعلیم سے اسلامائزیشن کے عناصر کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی اور توہینِ رسالت جیسے قوانین کو “انتہا پسندی” کا لیبل دے کر کمزور کرنے کی سازش رچائی گئی۔ مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھیں۔ ایک چھوٹی سی مسجدِ رحمة لِلِعالمین سے ایک درویش منش شخص اٹھا۔ ان کی زبان میں وہ الہی تاثیر تھی جو سننے والوں کے دلوں کو جھنجھوڑ دیتی تھی۔ وہ نوجوان جو نشے کی لت میں ڈوبے ہوئے تھے، جو بے حیائی اور غفلت کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، اچانک اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت سے سرشار ہو گئے۔ ان کی زبانوں پر لبیک یا رسول اللہ ﷺ کا نعرہ گونجنے لگا۔ یہ محبت کی ایک لہر بن گئی، جو گلیوں، بازاروں اور دیہاتوں تک پھیل گئی۔ تعداد لاکھوں سے کروڑوں تک پہنچ گئی۔ ٹی ایل پی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت بن گئی، جس نے 2024ء کے انتخابات میں 25 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے۔ یہ ایک ایسی عوامی طاقت تھی جو میڈیا کے بلیک آؤٹ اور پروپیگنڈے کے باوجود روز بروز بڑھتی جا رہی تھی۔
پھر اس مرد درویش کے جنازے میں مینارِ پاکستان اور لاہور کی سڑکوں پر لاکھوں عقیدت مندوں کا سمندر امنڈ آیا۔ ایک ایسا منظر جو اس تحریک کی جڑوں کی گہرائی اور عوامی قبولیت کا زندہ ثبوت تھا۔ یہ سب دیکھ کر وہی لبرل اور اسلام دشمن عناصر خوفزدہ ہو گئے، جنہوں نے برسوں سے دینی اقدار کو مٹانے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے تہیہ کر لیا کہ ٹی ایل پی کو ختم کرنا ہے۔ اس کی قیادت کو گرفتار کرنا ہے، اس کے مراکز کو بند کرنا ہے، اس مرد درویش کی قبر کو سیل کرنا ہے۔ ہر اس دیوار کو مسمار کر دینا ہے جہاں”لبیک یا رسول اللہ ﷺ” لکھا ہو۔ اصل میں یہ عشقِ رسول ﷺ کی اس آواز کو خاموش کرنے کی سازش ہے جو ان دین بیزاروں کی نظریاتی بنیادوں کو ہلا رہی ہے۔
یاد رکھیں! لبیک یا رسول اللہ ﷺ کا نعرہ مٹنے والا نہیں۔ ہم سب مٹ جائیں گے، حکومتیں گر جائیں گی، مگر یہ جذبہِ ایمانی اور قومی غیرت سربلند رہے گی۔ کیونکہ عشقِ رسول ﷺ پاکستان کی نظریاتی بنیاد کی روح ہے۔ یہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہے جو ہمیں متحد کرتا ہے، مضبوط بناتا ہے اور دشمنوں کی سازشوں کے سامنے بنیان مرصوص کی صورت میں ایک چٹان بن جاتا ہے۔ اللہ تعالٰی ارباب اختیار کو شعور عطا فرمائے اور پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔

یہ بھی پڑھیں