آزاد جموں و کشمیر کی وہ سرزمین، جو اپنی فطری خوبصورتی، بلند و بالا پہاڑوں، سرسبز وادیوں، بہتے دریاؤں اور مہمان نواز لوگوں کی وجہ سے جنتِ ارضی کے لقب سے یاد کی جاتی ہے، آج ایک مرتبہ پھر ایسے نازک حالات سے گزر رہی ہے جو ہر محبِ وطن دل کو بے چین کر دیتے ہیں۔ آئے روز سامنے آنے والی تلخ خبریں، معصوم جانوں کا ضیاع، زخمیوں کی آہیں اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی تقسیم اس بات کی متقاضی ہے کہ جذبات اور تعصبات سے بالاتر ہو کر حالات کا سنجیدگی اور دیانت داری سے جائزہ لیا جائے۔
یہ تحریر کسی سیاسی جماعت، کسی مخصوص گروہ یا کسی نظریاتی وابستگی کی نمائندہ نہیں، بلکہ ایک ایسے نقطۂ نظر کی آئینہ دار ہے جو انسانی جان کے تقدس، انصاف، مکالمے اور باہمی احترام کو ہر قسم کے سیاسی مفادات اور وقتی مصلحتوں پر فوقیت دیتا ہے۔ انسانی جان کا تقدس ہر مہذب معاشرے کی اساس ہوتا ہے، اور جب یہ اساس لرزنے لگے تو ہر ذی شعور انسان پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ حقائق کو بے باکی سے بیان کرے اور اصلاح کی راہیں تلاش کرے۔
پاکستان اور کشمیر کا تعلق کسی عارضی سیاسی ضرورت یا رسمی معاہدے کا نتیجہ نہیں، بلکہ مشترکہ تاریخ، مذہبی وابستگی، ثقافتی قربت اور بے شمار قربانیوں پر استوار ایک ابدی رشتہ ہے۔ ۱۹ جولائی ۱۹۴۷ء کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی جانب سے منظور کی جانے والی قراردادِ الحاقِ پاکستان اس حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ پاکستان کے قیام سے قبل ہی کشمیری قیادت نے اپنی سیاسی سمت کا تعین کر لیا تھا۔ میرپور، جموں، پونچھ اور دیگر علاقوں میں ہزاروں کشمیریوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے، لاکھوں نے ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں اور بے شمار خاندان ایسے سانحات سے گزرے جن کے زخم آج بھی اجتماعی یادداشت میں تازہ ہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ جب بھی آزاد کشمیر کے عوام اپنے جائز مطالبات کی بات کرتے ہیں تو بعض حلقوں کی جانب سے ان کی وفاداری پر سوالات اٹھائے جانے لگتے ہیں، جو ان تاریخی قربانیوں سے یکسر انکار کے مترادف ہے۔
کشمیریوں کی قربانیاں صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں رہیں بلکہ معاشی میدان میں بھی انہوں نے غیر معمولی ایثار کا مظاہرہ کیا۔ منگلا ڈیم کی تعمیر کے دوران ہزاروں خاندانوں نے وہ بستیاں چھوڑ دیں جو نسل در نسل ان کی پہچان تھیں، ان کے گھر، زمینیں اور باغات پانی کی نذر ہو گئے۔ اسی طرح نیلم جہلم اور دیگر پن بجلی منصوبے ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم یہ سوال پوری قوت کے ساتھ زندہ ہے کہ ان وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی آبادی کا حصہ کتنا ہے؟ اگر کسی خطے کے وسائل پورے ملک کی ترقی میں استعمال ہو رہے ہوں تو اس خطے کے عوام کو بھی ترقی، روزگار، تعلیم اور صحت میں منصفانہ حصہ ملنا چاہیے۔ یہی اصول پائیدار قومی یکجہتی کی بنیاد بنتا ہے۔
عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا حق ہر دور میں مسلّم رہا ہے۔ جب روزگار، مہنگائی، تعلیم اور بنیادی سہولیات کے مسائل مستقل شکل اختیار کر لیں تو عوامی ردِعمل ایک فطری عمل ہوتا ہے، بغاوت نہیں۔ بدقسمتی سے عوامی شکایات کو سنجیدگی سے سننے کے بجائے انہیں طاقت سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ طاقت وقتی طور پر احتجاج کو محدود کر سکتی ہے، لیکن دلوں میں موجود محرومی اور احساسِ ناانصافی کو نہیں مٹا سکتی۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ دیرپا امن صرف انصاف، شفافیت اور عوامی اعتماد سے حاصل ہوتا ہے، جبر سے نہیں۔
احتجاج اور عوامی تحریکوں کی اپنی اخلاقی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔ کسی بھی تحریک کی اصل طاقت اس کا اخلاقی جواز، نظم و ضبط اور پرامن کردار ہوتا ہے۔ جب احتجاج تشدد اور توڑ پھوڑ کی شکل اختیار کرے تو اصل مقصد پسِ پردہ چلا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کے حالات کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پولیس اہلکار، سرکاری افسران اور احتجاج کرنے والے نوجوان سب اسی دھرتی کے فرزند ہیں۔ اگر گولیاں چلتی ہیں تو کشمیری زخمی ہوتے ہیں، اگر جانیں جاتی ہیں تو کشمیری خاندان اجڑتے ہیں۔ اختلافات خواہ کتنے ہی شدید ہوں، ان کا حل تشدد میں نہیں بلکہ تحمل، انصاف اور مکالمے میں تلاش کرنا ہوگا۔
اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ نوجوان نسل ہے۔ کشمیر کا نوجوان تعلیم حاصل کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے، لیکن روزگار کے محدود مواقع اور معاشی مشکلات اس کی مایوسی کو گہرا کرتے جاتے ہیں۔ اگر نوجوانوں کی توانائیوں کو مثبت سمت نہ دی جائے تو معاشرتی بے چینی میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔
آج وقت کا تقاضا یہ ہے کہ عوام کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے، وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اور سیاسی مکالمے کے دروازے ہر حال میں کھلے رکھے جائیں۔ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ اعتماد، محبت اور مشترکہ تاریخ پر قائم ہے۔ ایسے رشتے جبر سے نہیں بلکہ انصاف، احترام اور شراکت کے احساس سے مضبوط ہوتے ہیں۔
کشمیری قوم کی تاریخ وفاداری، قربانی اور صبر کی تاریخ ہے۔ ان کے مطالبات اور شکایات کو بے وفائی سے تعبیر کرنا ایک ایسی قوم کے ساتھ ناانصافی ہے جس نے نسل در نسل اپنے خون سے وابستگی کا ثبوت دیا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ محض زمین یا سرحدوں کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانوں کی امیدوں، حقوق اور مستقبل کا مسئلہ ہے۔ اس کا حل الزام تراشی اور طاقت میں نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اس خطے کو پائیدار امن اور مشترکہ خوشحالی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔