دنیا کامیابی کی پیمائش آج کل شہرت، مقبولیت، سوشل میڈیا کے فالوورز، وائرل پوسٹس، عوامی داد و تحسین اور عوامی توجہ سے کرتی ہے۔ جس کا نام زیادہ لیا جائے۔ جس کی تصویر زیادہ گردش کرے۔ جس کی بات زیادہ پھیلے اور جس کے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں یا کروڑوں میں ہو اسے کامیاب اور بڑا انسان سمجھ لیا جاتا ہے۔ جدید دور میں فالوورز کی تعداد کو کامیابی کا ایک اہم پیمانہ بنا دیا گیا ہے۔ جس کے چاہنے والے زیادہ ہوں اس کی وقعت زیادہ۔ جس کی پوسٹ وائرل ہو جائے وہی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ مگر قرآن مجید اس تمام انسانی معیار کو مکمل طور پر الٹ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل قدر شہرت اور ناموری کی نہیں بلکہ اخلاص کی ہے۔ وہ عمل جو خالصتاً اللہ تعالٰی کی رضا کے لیے کیا جائے چاہے دنیا اسے کبھی نہ جانے یا نہ دیکھے، وہی قبول ہوتا ہے اور اس کا اجر لازوال ہوتا ہے۔قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ “بہت سے رسول ایسے گزرے جن کے واقعات ہم نے آپ کو نہیں سنائے”۔ یہ آیت صرف تاریخ کا بیان نہیں بلکہ ایک گہری اور عظیم حقیقت کا اعلان ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام میں سے کئی ایسے تھے جن کے نام، قوم، علاقے اور تفصیلات تک ہمیں معلوم نہیں، مگر وہ اللہ کے برگزیدہ اور پسندیدہ رسول تھے۔ انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کی، قوموں کو حق کی دعوت دی، صبر کیا اور اللہ کے ہاں بلند مرتبے والے ہیں۔ یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عظمت اور کامیابی دنیا کی پہچان اور شہرت سے نہیں بلکہ اللہ کی معرفت، اطاعت اور اخلاص سے ملتی ہے۔ اللہ کے نزدیک وہ بندہ عظیم ہے جو اس کا سچا اور خالص بندہ ہو، چاہے دنیا اسے گمنام ہی سمجھے۔سورۂ یٰسین میں اصحاب القریۃ کا دلنشین اور سبق آموز واقعہ اسی حقیقت کو مزید روشن کرتا ہے۔ جب تین رسول ایک شہر میں حق کی دعوت لے کر آئے تو لوگوں نے انہیں جھٹلایا اور انکار کر دیا۔ اسی دوران شہر کے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بلند آواز میں کہا کہ “اے میری قوم! ان رسولوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور سیدھے راستے پر ہیں۔” تفاسیر اور روایات میں اس شخص کا نام حبیب نجار بیان کیا جاتا ہے۔ وہ ایک عام آدمی تھا، پیشے کے اعتبار سے بڑھئی (نجار)۔ نہ کوئی حکمران تھا، نہ صاحبِ جاہ و منصب، نہ مشہور خطیب یا صاحبِ حیثیت۔ محض ایک سادہ مزدور، مگر اس کے دل میں ایمان کی روشنی تھی اور حق کی سچائی اس پر واضح تھی۔ قوم نے اس کی بات نہ مانی بلکہ غصے میں آ کر اسے شہید کر دیا۔ بعض روایات کے مطابق اسے پتھروں سے مارا گیا۔ مگر قرآن مجید نے اس کی جرأت، ایمان، وفاداری اور اخلاص کو قیامت تک کے لیے زندہ رکھا۔ دنیا نے اس کا جسم مٹا دیا، اسے کنویں میں پھینک دیا، مگر اللہ نے اس کا ذکر قرآن میں محفوظ کر لیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ایک گمنام اور عام شخص کا حق پر ڈٹ جانا اور اللہ کے لیے کھڑا ہونا بھی اللہ کے ہاں کتنا قیمتی اور بلند ہے۔نبی کریم ﷺ نے بھی اسی طرف رہنمائی فرمائی۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ “اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند کرتا ہے جو پرہیزگار ہو، لوگوں سے بے نیاز ہو اور گمنام رہے”۔ یہ حدیث شریف (صحیح مسلم) شہرت کی ہوس، لوگوں کی توجہ اور تعریف کے شوق کو ترک کرنے کی واضح تلقین کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا میں غیر مؤثر یا بیکار بن جائے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی نیکیوں، خدمات اور اعمال کا سودا شہرت، تعریف یا دنیاوی فائدے کی نیت سے نہ کرے۔ ایک اور مشہور حدیث میں آپ ﷺ نے چھپ کر صدقہ کرنے والے کی مثال دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سات قسم کے لوگوں کو اللہ قیامت کے دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا، جن میں سے ایک وہ شخص ہے جس نے اتنا پوشیدہ صدقہ کیا کہ اس کا بایاں ہاتھ بھی اس کے دائیں ہاتھ کے دینے سے بے خبر رہے۔ یہ اخلاص کی بلند ترین شکل ہے جہاں عمل صرف خالق کی رضا کے لیے کیا جاتا ہے اور مخلوق کی نگاہ سے ہر ممکن حد تک چھپایا جاتا ہے۔اخلاص دراصل عمل کی روح ہے۔ بغیر اخلاص کے کوئی عمل مردہ ہے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا، دلکش یا نمایاں نظر آئے۔ جب انسان لوگوں کی تعریف، واہ واہ، لائکس، شیئرز اور توجہ کا محتاج ہو جاتا ہے تو وہ اپنی نیکی کو بھی بازار کی چیز بنا دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اللہ کی رضا کو اپنا واحد مقصد بنا لیتا ہے وہ خاموشی سے بڑے سے بڑے کام سر انجام دے جاتا ہے اور خود پس منظر میں رہنا پسند کرتا ہے۔ قرآن مجید “سورۂ الانسان” میں ایسے مخلص لوگوں کی تعریف کرتا ہے جو دوسروں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کی خاطر کھلاتے ہیں نہ کہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔ یہ وہ بلند اخلاقی معیار ہے جو شہرت اور دکھاوے کے بغیر بھی اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوتا ہے اور اس کا اجر ابدی ہوتا ہے۔اسلامی تاریخ ایسی بے شمار ہستیوں سے بھری پڑی ہے جن کے نام آج شاید ہمارے علم میں نہ ہوں مگر جن کی قربانیوں، محنتوں اور اخلاص کے بغیر امت کی بنیاد ہی نہ رکھی جا سکتی۔ غزوۂ بدر کے ان مجاہدین کو دیکھیں جنہوں نے اسلام کی بقا کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، دارِ ارقم میں بیٹھ کر قرآن مجید سیکھنے والے ابتدائی مسلمانوں کو دیکھیں، حبشہ کی طرف ہجرت کر کے صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے والے صحابہ کو دیکھیں، یا گھروں میں رہ کر بچوں کی اسلامی تربیت کرنے والی صحابیات رضی اللہ عنہن کو دیکھیں۔ ان سب نے اپنے اپنے دائرے میں وہ کام کیا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کے نام تاریخ کے صفحات میں تفصیل سے محفوظ نہیں ہوئے، مگر ان کا اخلاص اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوا۔ ان کی محنت اور قربانی نے دین کی عمارت کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔اسی طرح علم حدیث کی دنیا اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے۔ آج ہم صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر کتبِ حدیث پڑھتے ہیں تو دراصل ہزاروں راویوں، محدثین، کاتبوں، مسافروں اور طلبہ کی خاموش محنتوں اور قربانیوں سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثر گمنام رہے، دور دراز علاقوں میں سفر کرتے رہے، تنگیوں اور مصائب برداشت کرتے رہے، مگر ان کے اخلاص نے دین کی حفاظت میں وہ کردار ادا کیا جو شاید کسی بڑے عنوان والے یا مشہور شخص کے حصے میں بھی نہ آتا۔ یہ خاموش خدمت، یہ پوشیدہ محنت دراصل اللہ کے ہاں سب سے قیمتی سرمایہ ہے جو شہرت کے بغیر بھی قبول ہوتی ہے۔آج کا انسان ایک عجیب نفسیاتی دباؤ میں جیتا ہے۔ اسے ہر کام کا فوری اعتراف چاہیے، ہر نیکی پر تحسین چاہیے، ہر چھوٹی کوشش پر شکریہ چاہیے۔ جب یہ نہ ملے تو دل میں خلا پیدا ہوتا ہے، پھر آدمی اپنی تعریف خود بنانے لگتا ہے، سوشل میڈیا پر خود کو پروموٹ کرتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاص مجروح ہو جاتا ہے۔ ایمان اس خلا کو پر کرتا ہے۔ ایمان انسان کو سکھاتا ہے کہ اگر کسی نے نہیں دیکھا تو کیا ہوا، اللہ نے تو دیکھ لیا ہے۔ اگر دنیا نے یاد نہ رکھا تو کیا ہوا، آسمانوں نے تو اسے ریکارڈ کر لیا ہے۔ اللہ کی نظر سب سے بڑی اور سب سے اہم ہے۔آج کے دور میں سوشل میڈیا نے اس آزمائش کو مزید شدید بنا دیا ہے۔ ہر نیکی کی تصویر کشی، ہر خدمت کی ویڈیو، ہر عبادت کی جھلک اور ہر خیر کے کام کی فوری تشہیر ایک عام فیشن بن گئی ہے۔ یقیناً بعض حالات میں تبلیغ، دوسروں کو ترغیب دینے یا اجتماعی فائدے کے لیے اشتراک جائز ہو سکتا ہے، مگر اصل سوال نیت کا ہے۔ کیا یہ عمل اللہ کے لیے تھا یا لوگوں کو دکھانے اور فالوورز بڑھانے کے لیے؟ کیا مقصد رضائے الٰہی تھا یا داد و تحسین اور لائکس کی ہوس؟ نبی کریم ﷺ نے ریا کاری سے شدید تنبیہ فرمائی کیونکہ یہ نیکی کی چمک کو دکھاوے کی دھند میں تبدیل کر دیتی ہے اور عمل کو ضائع کر دیتی ہے۔اصل کامیابی یہ نہیں کہ دنیا ہمارا نام جان لے، ہمارے کام وائرل ہو جائیں یا ہمارے فالوورز لاکھوں میں پہنچ جائیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ اللہ ہمارا عمل قبول فرما لے اور اس پر اپنی رضا کی مہر لگا دے۔ جو شخص گمنامی میں حق کا ساتھ دیتا ہے، خاموشی سے خدمت کرتا ہے، شہرت کے بجائے اخلاص کو اپنا شعار بناتا ہے اور لوگوں کی توجہ کے بغیر اللہ کی رضا کا طلبگار رہتا ہے، وہی حقیقت میں کامیاب ہے۔ دنیا جسے بھلا دیتی ہے، اللہ اسے یاد رکھتا ہے۔ اور جس عمل پر اللہ کی رضا کی مہر لگ جائے وہی عمل انسان کے لیے ہمیشگی کی نجات، عزت اور کامیابی بن جاتا ہے۔ اخلاص ہی وہ کلید ہے جو دنیا کے تمام پیمانوں کو چھوڑ کر اللہ کی بارگاہ میں عزت، قبولیت اور ابدی کامیابی کا دروازہ کھولتی ہے۔