انسان دنیا میں بے شمار سفر کرتا ہے۔ کچھ سفر روزگار اور معاش کے لیے ہوتے ہیں، کچھ علم کے حصول کے لیے، کچھ سیاحت اور تفریح کے لیے تو کچھ صرف ضرورت اور مجبوری کے تحت۔ مگر چند ایک سفر ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان کی روح کو نکھار دیتے ہیں، دل کو نورانی بناتے ہیں اور پوری زندگی کی راہ بدل دیتے ہیں۔ انہی مبارک اور روحانی سفروں میں سب سے بلند و ارفع ہے حجِ بیت اللہ کا سفر۔
یہ محض ایک ملک سے دوسرے ملک تک کا جسمانی سفر نہیں بلکہ اپنے خالق و مالک کے حضور میں حاضری دینے، اپنے دل کو گناہوں سے پاک کرنے، اپنی روح کو تازگی بخشنے اور اپنی پوری زندگی کو اللہ کی مرضی کے مطابق ڈھالنے کا سفر ہے۔ یہ وہ سفر ہے جس کی سعادت اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ بندوں کو ہی عطا فرماتا ہے۔جب ایک مسلمان حج کے ارادے سے گھر سے نکلتا ہے تو وہ صرف اپنا شہر یا وطن نہیں چھوڑتا بلکہ اپنی خواہشاتِ نفسانی، روزمرہ کی مصروفیات اور دنیا کی الجھنوں کو بھی پیچھے چھوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے دل میں بس ایک ہی آواز مسلسل گونج رہی ہوتی ہے: “لبیکَ اللّٰھُمّ لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک”۔ یعنی اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرے سامنے حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، ساری تعریف اور نعمت صرف تیری ہے۔
روانگی والے دن دل میں ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ ایک طرف اللہ کی طرف سے یہ عظیم دعوت پانے کی خوشی ہوتی ہے تو دوسری طرف اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کا احساس بھی ہوتا ہے۔ دنیا کے عام سفروں میں انسان زیادہ سے زیادہ سامان ساتھ رکھتا ہے، مگر حرم کا سفر الٹا ہے۔ جتنا آگے بڑھتے جاؤ، اتنا ہی اپنے اندر کے بوجھل پن، تکبر اور دنیاوی تعلقات کو اتارتے جاؤ۔
احرام کی دو سفید چادریں انسان کو فوراً حقیقت کا سبق دیتی ہیں۔ امیر اور غریب، بادشاہ اور غریب، عالم اور عام آدمی — سب ایک جیسے لباس میں ملبوس ہو جاتے ہیں۔ نہ کوئی عہدہ باقی رہتا ہے، نہ شہرت اور وقار کی اہمیت رہتی ہے۔ سب برابر، سب اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کیے کھڑے ہوتے ہیں۔ احرام گویا یہ پیغام دیتا ہے کہ ایک دن کفن بھی اسی طرح کی سادگی میں ہم سب کو ملے گا۔ لہٰذا غرور، تکبر، دکھاوا اور دنیا کی نمائش بالکل بے معنی ہے۔
حج کا سفر صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ صبر، تحمل اور نظم و ضبط کی بہترین تربیت گاہ بھی ہے۔ ائیرپورٹس کی لمبی قطاریں، امیگریشن کے مراحل، سفر کی تھکن، گرمی، مختلف مزاج کے لوگوں کے ساتھ رہنا — یہ سب چیزیں انسان کو برداشت اور توازن سکھاتی ہیں۔ عام حالات میں تو یہی باتیں انسان کو پریشان کر دیتی ہیں، مگر حج کے دوران یہی مشکلیں بھی اللہ کی رضا کی خاطر خوشی سے برداشت کی جاتی ہیں کیونکہ دل کا ایک ہی مرکز ہوتا ہے: اللہ کے گھر تک پہنچ جانا۔
جیسے ہی جہاز حجازِ مقدس کی فضاؤں میں داخل ہوتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ زبان پر بے اختیار درود و سلام جاری ہو جاتا ہے اور آنکھیں نم ہو نے لگتی ہیں۔ جدہ ائیرپورٹ پر قدم رکھتے ہی چاروں طرف احرام میں ملبوس مرد و خواتین نظر آتے ہیں۔ مختلف زبانوں والے، مختلف رنگوں والے، مختلف ملکوں سے آئے ہوئے — مگر سب کے لبوں پر ایک ہی ترانہ: “لبیک اللھم لبیک”۔ یہ منظر دیکھ کر دل خود بخود گواہی دیتا ہے کہ اسلام واقعی عالمگیر اخوت اور بھائی چارے کا مذہب ہے۔ یہاں نہ نسل کا فرق رہتا ہے، نہ رنگ کا، نہ زبان کا — سب صرف اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے امتی ہیں۔
مکہ مکرمہ کی طرف جاتے ہوئے دل کی کیفیت مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ یہ وہ پاک سرزمین ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر اپنے معصوم بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی پیش کرنے کا عزم کیا۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے پیاسے بچے کے لیے صفا و مروہ کے درمیان بے مثال دوڑ لگائی اور اللہ تعالیٰ نے زمزم کا برکت والا چشمہ جاری فرما دیا۔ یہی وہ مبارک شہر ہے جہاں حضور نبی اکرم ﷺ پر وحی کا آغاز ہوا اور جہاں سے پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا نور پھیلا۔
بیت اللہ کی پہلی جھلک شاید انسان کی زندگی کے سب سے عظیم لمحات میں سے ایک ہوتی ہے۔ الفاظ میں اس کیفیت کو بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ کعبۃ اللہ کو سامنے دیکھتے ہی کچھ لوگ زار و قطار رو پڑتے ہیں، کچھ سجدے میں گر جاتے ہیں، کچھ حیرت و عقیدت سے کھڑے رہ جاتے ہیں جیسے زبان ہی ساتھ چھوڑ گئی ہو۔ اس لمحے انسان کو شدت سے احساس ہوتا ہے کہ دنیا کی ساری دوڑ دھوپ، ساری خواہشات اور ساری پریشانیاں کتنی حقیر ہیں اور اللہ کی عظمت و جلال کتنا عظیم ہے۔
طوافِ کعبہ کرتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے انسان اپنی پوری زندگی اللہ کے گرد گھومتا ہوا دیکھ رہا ہے۔ یہ سات چکر صرف ایک عبادت نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت و بندگی کا عملی اعلان ہیں۔ صفا و مروہ کے درمیان سعی حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی جدوجہد کی یاد دلاتی ہے کہ توکل کے ساتھ محنت اور کوشش بھی ضروری ہے۔ انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا مگر بیٹھے نہیں رہے، دوڑ لگائی — تو اللہ نے ان کی محنت کو زمزم کی شکل میں قبول فرمایا۔
پھر حج کے وہ عظیم ایام آتے ہیں جو انسان کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ منیٰ کا میدان لاکھوں انسانوں کے اجتماع سے سادگی، نظم اور اجتماعیت کا شاندار درس دیتا ہے۔ عرفات کا میدان تو گویا قیامت کا منظر پیش کرتا ہے۔ سفید احرام میں ملبوس لاکھوں حاجی جب ہاتھ اٹھا کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں تو دل کہتا ہے کہ یہ وہی منظر ہے جو قیامت کے دن پیش آئے گا۔
مزدلفہ کی رات کھلے آسمان کے نیچے زمین پر لیٹ کر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل سکون محلات اور آسائشوں میں نہیں بلکہ اللہ کی یاد اور اطاعت میں ہے۔ شیطان کو کنکریاں مارنا محض کنکریاں پھینکنے کا عمل نہیں بلکہ اپنے اندر کے تکبر، حسد، لالچ اور گناہوں کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بے مثال اطاعت کی یاد دلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانور کی قربانی کے ساتھ ساتھ ہماری انا، خواہشات اور محبتوں میں اللہ کو سب سے زیادہ اہمیت دینے کا تقاضا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ حج پوری امت مسلمہ کو اتحاد، مساوات اور اخوت کا عملی سبق دیتا ہے۔ دنیا کے ہر کونے سے آنے والے مسلمان ایک ہی لباس میں، ایک ہی قبلے کے سامنے اور ایک ہی رب کے حضور کھڑے ہوتے ہیں۔ شاید دنیا میں انسانیت کی برابری اور بھائی چارے کا اس سے زیادہ خوبصورت منظر کہیں اور نہ ہو۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بعض لوگ حج کو صرف ایک سماجی اعزاز یا فخر کا نشان سمجھنے لگے ہیں۔ حالانکہ حج کا اصل مقصد انسان کے اندر ایک انقلاب پیدا کرنا ہے۔ اگر حج سے واپس آ کر بھی انسان کے اخلاق، معاملات، بات چیت اور رویے میں کوئی مثبت تبدیلی نہ آئے تو اسے اپنے حج کی روح اور قبولیت پر غور کرنا چاہیے۔ مقبول حج وہ ہے جس کے بعد انسان زیادہ نرم دل، زیادہ سچا، زیادہ متواضع، زیادہ دوسروں کا خیال رکھنے والا اور زیادہ خدا ترس بن جائے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کی حاضری، طواف، سعی، دعائیں اور عاجزانہ التجائیں قبول فرمائے۔ اس مقدس سفر کو صرف جسم کا سفر نہ رہنے دے بلکہ ہماری روحوں کی حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنا دے۔ ہمیں اخلاص عطا فرمائے اور بار بار اپنے گھر کی حاضری نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔