Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

پاکستان ‘سعودی دفاعی اتحاد: ایک تاریخی قدم

اسلامی دنیا آج ایک نہایت نازک اور فیصلہ کن دور سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک مسلم ممالک بیرونی دباؤ، داخلی انتشار اور معاشی مشکلات کے طوفانوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں 17 ستمبر 2025 کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ محض دو ریاستوں کے درمیان ایک رسمی دستاویز نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے امید اور اتحاد کی ایک تازہ کرن ہے۔ یہ معاہدہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اگر مسلمان ممالک متحد ہو کر باہمی اعتماد کو بنیاد بنائیں تو وہ نہ صرف اپنی سلامتی اور خودمختاری کو محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی بنیاد محض سفارتی یا وقتی مفادات پر نہیں بلکہ یہ رشتہ صدیوں پر محیط تاریخی اور روحانی تعلقات کا تسلسل ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سعودی عرب ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے سب سے پہلے نئی اسلامی ریاست کو تسلیم کیا۔ تب سے آج تک یہ تعلق مذہبی، تہذیبی اور روحانی رشتوں پر قائم ہے۔
سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا جبکہ پاکستان نے بھی حرمین شریفین کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سعودی سلامتی کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔ یہ تعلق صرف رسمی معاہدوں یا کاغذی وعدوں تک محدود نہیں بلکہ عملی اور مضبوط بنیاد پر قائم ہے۔ حالیہ دفاعی معاہدہ اسی تاریخی رشتے کا نیا باب ہے۔ اس معاہدے کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کا عہد کیا ہے، جو دراصل اسلامی اخوت کی عملی تعبیر ہے۔ اس دفاعی معاہدے میں فوجی مشقیں، دفاعی ٹیکنالوجی کے تبادلے، معلومات کا باہمی اشتراک اور انسدادِ دہشت گردی کے تعاون جیسے پہلو شامل ہیں۔ پاکستان کے پاس دنیا کی چھٹی سب سے بڑی فوج اور ایٹمی صلاحیت ہے، جبکہ سعودی عرب دنیا کے طاقتور معاشی مراکز میں سے ایک ہے۔ دونوں ممالک کا یہ امتزاج اسلامی دنیا کے لیے ایک متوازن طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور جنوبی ایشیا میں بھارت کے مکروہ عزائم مسلمانوں کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں یہ اتحاد خطے میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے اور عالمی سطح پر مسلم مفادات کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرسکتا ہے۔ معاشی پہلو بھی اس معاہدے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سعودی وژن 2030 کے تحت پاکستان میں توانائی، بنیادی ڈھانچے اور گوادر پورٹ جیسے منصوبوں میں سرمایہ کاری نہ صرف پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرے گی بلکہ خطے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے امکانات بھی پیدا کرے گی۔ پاکستانی افرادی قوت پہلے ہی سعودی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ لاکھوں پاکستانی نہ صرف سعودی عرب کی ترقی میں حصہ لے رہے ہیں بلکہ اپنے وطن کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی بھیج رہے ہیں۔ یہ معاشی اور دفاعی تعاون نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرے گا بلکہ پورے خطے میں خوشحالی اور استحکام کی فضا قائم کرے گا۔ تاہم، اس معاہدے کے تناظر میں ایک نکتہ نہایت اہم ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ یہ کہ عالمی سازشیں ہمیشہ سے مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ ضروری ہے کہ پاکستان کو کسی بھی صورت سعودی عرب کے ساتھ ایسے تنازعات میں نہ گھسیٹا جائے جو اصل مفادِ امت سے تعلق نہ رکھتے ہوں، مثلاً یمن یا دیگر اسلامی ممالک میں باہمی لڑائیوں میں ملوث ہونے کے بجائے امت کے حقیقی دشمن اسرائیل کے خلاف مشترکہ موقف اپنانا سب سے ضروری ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سعودی عرب اسرائیل کے خلاف عملی طور پر قدم اٹھائے گا؟ اس معاملے میں واضح اور محتاط حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کو کسی غیر ضروری جنگ میں ملوث ہونے سے بچایا جا سکے اور اتحاد صرف اسلامی مفادات کے تحفظ کیلئے استعمال ہو۔
اسرائیل کو غزہ میں ظلم و بربریت سے روکنا اور اس کے خلاف عملی کاروائی وقت کی ضرورت ہے اور اس معاہدے کا یہی مشترکہ محاذ ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان اور سعودی عرب اس اتحاد کو کامیابی سے آگے بڑھاتے ہیں تو یہ دوسرے مسلم ممالک کے لیے بھی ایک عملی مثال ہوگی کہ کس طرح باہمی تعاون اور یکجہتی کے ذریعے مشترکہ مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ موجودہ عالمی منظرنامے میں جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی اور سیاسی کشمکش شدت اختیار کر رہی ہے اور نئی عالمی طاقتیں ابھر رہی ہیں، تو مسلمان ممالک کا متحد ہونا ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہو گیا ہے۔ تاہم، ہر معاہدے کی طرح اس اتحاد کو کامیاب بنانے کے لیے ایک واضح روڈمیپ کی ضرورت ہے۔ اگر یہ محض بیانات اور کاغذی وعدوں تک محدود رہا تو اس کے اثرات عارضی رہیں گے، لیکن اگر عملی اقدامات کے ذریعے اسے بروئے کار لایا گیا تو یہ امتِ مسلمہ کے مستقبل کو یکسر بدل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس معاہدے کے تناظر میں طویل مدتی اقدامات کی بھی اشد ضرورت ہے، جیسے کہ وسیع تر اسلامی دفاعی بلاک قائم کرنا، مشترکہ مالیاتی نظام پر غور کرنا، توانائی، زراعت، ٹیکنالوجی اور تعلیم میں ہمہ گیر فریم ورک کی مضبوط تیاری کرنا اور عالمی سطح پر ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دینا جو فلسطین، کشمیر، شام اور یمن جیسے مسائل پر اجتماعی موقف اختیار کرے۔ یہ محض ایک دفاعی معاہدے کا اعلان تک محدود نہ ہو بلکہ امتِ مسلمہ کو انتشار سے نکال کر وحدت کی جانب لے جانے کا تاریخی موقع ثابت ہونا چاہئے۔یہ بھی ذہن نشین رہے کہ دشمن ہماری کمزوریوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اگر ہم نے اس موقع کو ضائع کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی، لیکن اگر دونوں ممالک نے اس معاہدے کو ایمانداری، اخلاص اور اسلامی اخوت کے جذبے کے ساتھ عملی جامہ پہنایا تو 17 ستمبر 2025 کا یہ دن تاریخ میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں