Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

احتجاج، مذاکرات اور مستقبل کے امکانات

آزاد جموں و کشمیر جغرافیائی طور پر ایک اہم خطہ ہے، جس کی سرسبز وادیاں، بلند پہاڑ اور پانی کے وسائل اسے نہ صرف قدرتی حسن عطا کرتے ہیں بلکہ ہائیڈرو پاور کے منصوبوں کے ذریعے توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ان منصوبوں نے خطے کی معیشت میں حصہ ڈالا ہے، لیکن مقامی لوگوں کا دیرینہ مسئلہ یہ ہے کہ ان وسائل کے فائدے مقامی سطح پر مناسب طور پر نہیں پہنچ رہے۔ ستمبر 2025 میں اس احساس محرومی نے احتجاجی تحریک کی صورت اختیار کی۔ یہ تحریک “جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی” کے زیر قیادت شروع ہوئی، جس نے 38 نکاتی مطالبات پیش کیے۔ ان مطالبات میں ہائیڈرو پاور رائلٹی کی شفاف تقسیم، افسران کی غیر ضروری مراعات کا خاتمہ، مہاجرین کے لیے مخصوص اسمبلی نشستوں پر نظرثانی، بجلی و گیس پر سبسڈی کی بحالی، اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے جیسے نکات شامل تھے۔ ابتدائی طور پر احتجاج پرامن تھا، تاہم مذاکرات کی ناکامی اور وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث حالات بگڑ گئے۔ 29 ستمبر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال اور سڑکوں کی ناکہ بندی نے خطے کی روزمرہ زندگی متاثر کی۔ یکم اکتوبر تک نیلم برج جیسے علاقوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس میں پتھراؤ، آنسو گیس کے استعمال اور فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان جھڑپوں میں نو افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے، جن میں مظاہرین اور پولیس اہلکار شامل تھے۔ اس کے نتیجے معاشرتی اور اقتصادی اثرات فوری طور پر ظاہر ہوئے۔ تجارتی سرگرمیاں رُک گئیں، ٹرانسپورٹ معطل ہوئی، طلباء اور مریض مشکلات کا سامنا کرنے لگے اور مزدور طبقہ روزگار سے محروم ہوا۔ احتجاج نے نوجوانوں میں مایوسی میں اضافہ کیا، جو پہلے ہی تعلیم اور روزگار کے مسائل کے باعث ہجرت کی سوچ رکھتے تھے۔ حکومت نے ابتدائی طور پر سخت رویہ اپنایا، مگر بعد میں مذاکرات کی ضرورت تسلیم کی گئی۔ وزیر اعظم پاکستان اور آزاد کشمیر کی قیادت نے عوامی نمائندوں سے بات چیت شروع کرنے کا اعلان کیا اور ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو جائنٹ ایکشن کمیٹی کے قائدین سے مذاکرات کرے گی۔ اگرچہ یہ پیش رفت مثبت ہے، عوام میں اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، نہ کہ محض وعدے۔ یہ صورتحال صرف آزاد جموں و کشمیر کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے دیگر خطوں میں وسائل کی تقسیم کے مسائل کی عکاسی بھی کرتی ہے، جیسا کہ بلوچستان میں گیس اور معدنی وسائل، سندھ میں پانی، اور پنجاب میں زرعی پیداوار کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے۔آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ریاست شفافیت، انصاف اور عوامی شمولیت کو اپنی پالیسیوں کا مرکز بنائے۔ کرپشن کے خاتمے، آزاد آڈٹ اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے نہ صرف اعتماد بحال ہوگا بلکہ خطے میں پائیدار ترقی کے امکانات بھی بڑھیں گے۔ بصورت دیگر احتجاجی تحریکیں بار بار ابھر سکتی ہیں، جو معاشرتی اور اقتصادی ڈھانچے کو متاثر کر سکتی ہیں۔
یہ وقت ایک موقع بھی ہے کہ ریاست اور عوام مل کر اعتماد قائم کریں، تاکہ ہر شہری وسائل اور ترقی میں اپنا حصہ محسوس کرے۔ مستقبل کی سمت کا انحصار عملی اقدامات پر ہوگا: اگر وعدے حقیقت میں ڈھل گئے تو یہ بحران ترقی اور خوشحالی کی بنیاد بن سکتا ہے، اور اگر یہ موقع ضائع ہوا تو اثرات آزاد کشمیر کے ساتھ ساتھ پورے خطے میں دیرپا عدم استحکام کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آزاد کشمیر کی یہ آگ ایک بار پھر راکھ کا ڈھیر بن جائے گی یا یہ وہ شعلہ ہے جو روشنی کی کرنیں پھیلا دے گا؟ یہ بحران محض ایک خطے کا امتحان نہیں، بلکہ ہماری جمہوریت، انصاف اور شفافیت کا بھی امتحان ہے۔ اگر عوام کی آواز کو دبایا گیا اور وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ رہی، تو یہ عدم استحکام مقامی حدود سے نکل کر پورے خطے کے امن اور خوشحالی کو نگل لے گا۔ مگر سوچیں، اگر حکومت، عوامی قائدین اور جائینٹ ایکشن کمیٹی کے قائدین باہمی اعتماد، حکمت اور تحمل سے آگے بڑھیں تو یہ تاریک لمحہ ایک سنہری دور کا آغاز بن سکتا ہے۔ ایک ایسا دور جہاں شفافیت انصاف کی ضمانت ہو، ہر شہید کا خون بےکار نہ جائے اور ہر شہری خود کو ان وسائل کا حصہ دار محسوس کرے۔ کیا ہم تیار ہیں کہ مظاہرین کو محض احتجاج کرنے والا نہ سمجھیں بلکہ انہیں تبدیلی کے معمار تسلیم کریں؟ یہ سوال ہر کشمیری و پاکستانی کا ہے اور اس کا جواب ہی طے کرے گا کہ ہمارا خطہ محض زندہ رہے گا یا واقعی امن و آشتی اور ترقی کی منازل طے کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں