مشرقِ وسطیٰ آج محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں رہا بلکہ بارود، آگ اور دھوئیں سے گھرا ایسا دہکتا ہوا دائرہ بن چکا ہے جس کی تپش غزہ، لبنان اور ایران سے نکل کر پوری مسلم دنیا کے دل و دماغ کو جھلسا رہی ہے۔ غزہ کی گلیاں اب بھی بکھرے ہوئے گھروں، جلی ہوئی عمارتوں اور تازہ خون کی بو سے بھری پڑی ہیں۔ ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں مگر بمباری کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لیتا۔ لبنان کے زخم ابھی بھرنے بھی نہ پائے تھے کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں نے پورے خطے کو ایک نئی اور نہایت خطرناک جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ ایسی صورتحال ہے جہاں کسی بھی غلط قدم سے وسیع علاقائی تصادم اور عالمی توانائی بحران کے بادل گہرے ہو سکتے ہیں۔یہ محض دو ریاستوں کی لڑائی نہیں بلکہ ایسی آگ ہے جو مسلکی، لسانی اور قومی تعصبات کے راستے پوری امت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ خاص طور پر اس امت کو جو زبان سے تو خود کو ’’امتِ واحدہ‘‘ کہتی ہے مگر عملی طور پر ریاستی مفادات، مسلکی ترجیحات اور عالمی دباؤ کے زیر اثر چھوٹے چھوٹے خیموں میں بٹی ہوئی ہے۔ شام اس تقسیم اور بےحسی کی شاید سب سے دردناک مثال بن کر سامنے آیا۔ 2011 میں شروع ہونے والا سیاسی احتجاج چند ہی برسوں میں ایسی خانہ جنگی اور عالمی مداخلت میں بدل گیا جس نے پورے ملک کے خدوخال بدل کر رکھ دیے۔ لاکھوں انسان مارے گئے اور کروڑوں اپنے ہی وطن میں بے گھر یا بیرونِ ملک پناہ گزین بننے پر مجبور ہوئے۔ دمشق، حلب، حمص اور حما جیسے تاریخی شہر، جو صدیوں تک علم و تہذیب اور اسلامی تاریخ کی عظمت کے امین رہے، آج ٹوٹے ہوئے میناروں، خالی کتب خانوں اور اجڑی بستیوں کی صورت میں ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں کہ امت نے اپنی اندرونی کمزوریوں اور باہمی بے اعتمادی کی قیمت انسانی خون میں ادا کی ہو۔ ایران۔عراق جنگ نے پورے خطے کو مسلکی خطوط پر اس طرح تقسیم کیا کہ بھائی بھائی سے اور ہمسایہ ہمسایہ سے بدگمان ہو گیا۔ اس کے اثرات برصغیر تک پہنچے اور کراچی، کوئٹہ، پاراچنار اور گلگت جیسے علاقوں میں فرقہ وارانہ تصادم اور قتل و غارت کی شکل میں ظاہر ہوئے۔ آج صورتحال اس لیے بھی زیادہ نازک ہے کہ نفرت اب صرف منبر یا بند کمروں کی تقریروں تک محدود نہیں رہی۔ سوشل میڈیا کے ایک جملے، ایک ویڈیو کلپ یا ایک جعلی تصویر کے ذریعے چند لمحوں میں لاکھوں ذہنوں کو متاثر کیا جا سکتا ہے اور جھوٹ کو حقیقت کا روپ دے کر پیش کیا جاتا ہے۔اصل مسئلہ صرف بیرونی سازشیں نہیں بلکہ ہمارا داخلی انتشار، ایک دوسرے کی نیتوں پر بدگمانی اور اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھ لینے کی عادت بھی ہے۔ یمن اس حقیقت کی ایک دردناک مثال ہے جہاں عالمی اور علاقائی طاقتوں نے اپنی پراکسی جنگوں کے لیے زمین، سمندر اور آسمان کو میدانِ جنگ بنا دیا، مگر بمباری، بھوک اور بیماری کا اصل بوجھ عام یمنی عوام نے اٹھایا۔ جب انصاف کی جگہ مسلک، جماعت، قبیلہ یا سیاسی وابستگی معیار بن جائے تو عدالتیں کمزور اور معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ پورا علاقائی منظرنامہ غیر معمولی حساسیت رکھتا ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ طویل زمینی سرحد اور تاریخی و تجارتی روابط ہیں، دوسری طرف افغانستان کی غیر یقینی صورتحال، داخلی سیاسی کشمکش اور دباؤ کا شکار معیشت ملک کو کسی بھی بڑے جھٹکے کے لیے غیر مستحکم بنا سکتی ہے۔ اگر خلیجِ ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان جیسی درآمدی تیل پر انحصار کرنے والی معیشت کے لیے توانائی کی فراہمی، ڈالر کی قیمت اور مہنگائی کی نئی لہریں تقریباً ناگزیر ہو جائیں گی، جس کا براہِ راست اثر عام شہری کی زندگی پر پڑے گا۔ایسے نازک دوراہے پر بحیثیتِ امت اور بحیثیتِ قوم چند بنیادی اصولوں کو ہمیشہ سامنے رکھنا ہوگا۔ سب سے پہلی بات یہ کہ ظلم کو ظلم کہا جائے، چاہے وہ کسی کے ہاتھ سے ہو اور چاہے وہ ’’اپنوں‘‘ کے نام پر ہی کیوں نہ کیا جا رہا ہو۔ دوسری بات یہ کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا میں پھیلنے والی ہرخبر یا ویڈیو کو تحقیق کے بغیر قبول نہ کیا جائے تاکہ ہم جھوٹے بیانیوں اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں۔ تیسری بات قومی و ملی اتحاد کو شعوری طور پر مضبوط بنانے کی ہے کیونکہ متحد قوم ہی عالمی دباؤ اور سفارتی چیلنجوں کا مؤثر مقابلہ کر سکتی ہے۔ اسی کے ساتھ پاکستان کو، مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہونے کے ناطے، دانشمندانہ سفارت کاری اور مصالحتی کردار کے ذریعے امت کو جوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔غزہ کی تباہ حال گلیاں، فلسطینی مہاجر کیمپوں کے کچے خیمے، شام کے ٹوٹے ہوئے مینار اور یمن کے بھوک سے نڈھال بچے ہمیں ہر روز یاد دلاتے ہیں کہ جنگ کا اصل خمیازہ ہمیشہ وہ عام انسان بھگتتا ہے جس کے پاس نہ اسلحہ ہوتا ہے، نہ سفارتی اثر و رسوخ اور نہ ہی عالمی میڈیا تک رسائی۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے بموں کے سائے کے بغیر سو سکیں، اس کا گھر محفوظ رہے اور وہ خوف کے بجائے امید کے ساتھ صبح کا سورج دیکھ سکے۔آج کا وقت غفلت یا وقتی جذبات کا نہیں بلکہ بیداری، ذمہ داری اور اجتماعی خود احتسابی کا ہے۔ اگر ہم نے انصاف کو اصول بنایا، مظلوم کی حمایت کو مسلک سے بلند رکھا اور اتحاد کو قومی و ملی ترجیح بنایا تو ممکن ہے کہ آنے والی نسلیں وہ ہولناک مناظر نہ دیکھیں جو ہماری نسل نے عراق سے افغانستان، شام سے یمن اور غزہ سے ایران تک دیکھے ہیں۔ اگر ہم نے آج خود کو سنبھال لیا تو کل کی تاریخ ہمیں اس بات پر ضرور یاد رکھے گی کہ ہم نے دہکتے دائرے میں گھرے ہونے کے باوجود آگ میں تیل نہیں بلکہ پانی ڈالنے کی کوشش کی تھی۔