Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

امریکی بالادستی اور مسلم دنیا کا زوال

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس پوری داستان میں مسلم حکمرانوں کا کردار سب سے زیادہ افسوسناک ہے۔ خلیجی ریاستوں کے حکمران اپنی عوام پر جبر کے ذریعے حکومت کرتے ہیں، اختلاف رائے رکھنے والوں کو جیلوں اور قتل گاہوں تک پہنچاتے ہیں اور ان تمام اقدامات کی سند واشنگٹن سے حاصل کرتے ہیں۔ سستے تیل، اسلحہ کے معاہدوں اور سیکورٹی ضمانتوں کے بدلے میں امریکہ کے ساتھ اقتدار کا سودا طے ہو جاتا ہے۔ مصر، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں فوجی آمروں کو امریکی امداد اور سفارتی پشت پناہی ملی اور بدلے میں انہوں نے اپنی سرزمین اور فضائی حدود امریکی مفادات کے لیے کھول دیں۔ یہ حکمران مذہبی نعرے تو لگاتے ہیں مگر ان کے سیاسی قبلے کا رخ ہمیشہ واشنگٹن کی طرف رہتا ہے۔
جب غزہ میں اسرائیلی بربریت اور بد ترین نسل کشی کے نتیجے میں فلسطینی بچوں کی لاشیں ملبے سے نکالی جا رہی ہوں تو ان کی زبانیں خاموش رہتی ہیں تاکہ ان کی “اصل سپر پاور” ناراض نہ ہو۔ مسلم دنیا میں امریکہ کے خلاف سب سے بڑا اخلاقی سوال اس کی اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت ہے۔ 1948 سے اب تک فلسطین کے حق میں آنے والی مضبوط قراردادوں کے راستے میں امریکہ کی ویٹو پاور دیوار بنی رہی ہے اور اسرائیل کو مسلسل فوجی و سفارتی تحفظ فراہم کیا جاتا رہا ہے۔
موجودہ غزہ جنگ میں مارچ 2026 تک غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ کئی رپورٹس اس تعداد کو 75 ہزار سے بھی زیادہ بتاتی ہیں۔ ہسپتال، اسکول، مساجد اور امدادی قافلے تک حملوں کا نشانہ بنے۔ اس کے باوجود امریکی قیادت اسرائیل کے “دفاعی حق” کی حمایت اور عالمی عدالتوں کی تنبیہات کو نظر انداز کرتی رہی ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہی دوہرا معیار مسلمانوں کے دلوں میں امریکہ کے خلاف گہرا زخم بن چکا ہے۔
اس گھپ اندھیرے میں ایران اپنے آپ کو ظلم و جبر کے خلاف ایک مزاحم قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ایران نے یہ مؤقف اپنایا کہ وہ کسی زمینی سپر پاور کو نہیں مانتا بلکہ صرف اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتا ہے۔ امریکہ نے اس موقف کی سزا دینے کے لیے صدام حسین کی پشت پناہی میں آٹھ سالہ جنگ مسلط کی، پابندیاں لگائیں اور سفارتی تنہائی پیدا کی، مگر ایران اپنی پالیسی سے پیچھے نہ ہٹا۔ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ایران نے براہ راست ردعمل دے کر یہ دکھایا کہ وہ صرف نعرے نہیں لگاتا بلکہ قیمت ادا کرنے کو بھی تیار ہے۔ 28 فروری کی امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے جواب میں ایران نے بھرپور مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیلسٹک میزائلوں سے اسرائیل اور خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ ایران کا دوٹوک مؤقف ہے کہ اپنی خودمختاری اور جوہری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ جوابی حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک جارحیت کا سلسلہ بند نہیں ہو جاتا۔
آج مسلم دنیا کی عوام اصولی طور پر جمہوریت، شفافیت اور انسانی حقوق کی حامی ہے، مگر امریکی خارجہ پالیسی پر شدید عدم اعتماد رکھتی ہے۔ جب کسی عالمی طاقت کی پالیسی ظالموں کی پشت پناہی کرے اور مظلوموں کے خون کو نظر انداز کرے تو اس پر اعتماد کا ختم ہو جانا فطری عمل ہے۔ اپنی انہیں غیر منصفانہ پالیسیوں کی وجہ سے آج امریکہ داخلی تقسیم، معاشی عدم مساوات اور نئی عالمی طاقتوں کے چیلنج سے دوچار ہے۔بحقیقت یہ ہے کہ طاقت کی اصل بنیاد اسلحہ، ڈالر اور میڈیا نہیں بلکہ عدل، اخلاق اور حق پر استقامت ہے۔ حقیقی سپر پاور وہ ذات ہے جس کا اقتدار ابدی ہے اور جس کی بادشاہی پر کبھی زوال نہیں آتا۔ ایران نے اپنی حد تک یہ سبق عملی طور پر پیش کیا ہے کہ سر جھکانا ہو تو صرف اللہ کے سامنے اور تلوار اٹھانی ہو تو ظالم کے خلاف۔ بدقسمتی سے مسلم دنیا کے بیشتر حکمران ابھی تک اس سبق کو سیکھنے سے گریزاں ہیں۔ اسی لیے ان کے سر جھکے ہوئے ہیں اور جب تلواریں اٹھتی ہیں تو اپنوں کے خلاف، نہ کہ وقت کے ظالموں کے خلاف۔

یہ بھی پڑھیں