دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب نیا عالمی نظام وجود میں آیا تو امریکہ نے خود کو قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار کا علمبردار بنا کر پیش کیا۔ اس بیانیے کو جامعات کے نصاب، عالمی میڈیا اور سفارتی چینلز کے ذریعے پوری دنیا میں پھیلایا گیا۔ مگر عملی میدان میں اس کی پالیسیوں نے ایک بالکل مختلف تصویر پیش کی۔ یہی وہ ریاست ہے جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا بانی ہونے پر فخر کرتی ہے، مگر جب اپنے مفادات کا سوال آتا ہے تو اسی چارٹر کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ یہی ملک جس نے نیورمبرگ ٹرائلز” میں نازی جرائم کا احتساب کیا آج اپنے جرنیلوں اور صدور کو کسی عالمی عدالت کے سامنے جواب دہ ٹھہرانے سے انکاری ہے۔ طاقت اور اخلاق کے اسی تضاد نے اس کے دعووں کو کھوکھلا اور اس کے نظامِ عدل کو مشکوک بنا دیا ہے۔
اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ کائنات کی حقیقی حاکمیت اعلی صرف اللہ رب العالمین کے پاس ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے کہ بادشاہی اسی کی ہے اور عزت و ذلت اسی کے اختیار میں ہے۔ جن قوموں نے اس یقین کو محض نعرہ نہیں بلکہ اپنی اجتماعی زندگی اور سیاسی فیصلوں کی بنیاد بنایا انہوں نے تاریخ کی بڑی سلطنتوں کو بھی للکارا اور سرخرو ہوئیں۔ مگر آج مسلم دنیا کے بیشتر حکمرانوں کا حال یہ ہے کہ زبان پر اللہ اکبر کا نعرہ ہوتا ہے لیکن عملی سیاست میں واشنگٹن کو سیاسی قبلہ بنا کر وہ مقام دے دیا جاتا ہے جو صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ ان حکمرانوں کے نزدیک اصل سپر پاور امریکہ ہے جس کی ناراضگی سے حکومتیں گر جاتی ہیں اور جس کی خوشنودی سے تخت قائم رہتے ہیں۔ اسی خوشنودی کے لیے وہ اپنی عوام پر ظلم روا رکھتے ہیں اور اپنے دین و سرزمین کے تقاضوں تک کو قربان کرنے سے گریز نہیں کرتے۔
اس دوہرے معیار کا سب سے بڑا نقصان مسلم دنیا نے اٹھایا۔ 1953 میں ایران کے جمہوری وزیر اعظم ڈاکٹر محمد مصدق نے ایرانی تیل کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا تاکہ برطانوی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہو۔ یہ اقدام امریکہ اور برطانیہ کے معاشی مفادات کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ چنانچہ سی آئی اے اور برطانوی ایم آئی 6 نے “آپریشن ایجیکس” کے ذریعے جمہوریت کا تختہ الٹ دیا اور محمد رضا شاہ پہلوی کو مطلق العنان حکمران بنا دیا۔ بعد ازاں ایران کی خفیہ ایجنسی “ساواک” کو منظم کرنے میں سی آئی اے اور موساد نے اہم کردار ادا کیا۔ ساواک نے برسوں تک ایرانی عوام پر تشدد، قید، جبری گمشدگیوں اور سیاسی قتل کا سلسلہ جاری رکھا تاکہ شاہ کی حکومت قائم رہے۔ یوں امریکہ نے نہ صرف ایران میں جمہوریت کا خاتمہ کیا بلکہ تقریباً پچیس سال تک اس آمریت کی پشت پناہی بھی کرتا رہا۔
سرد جنگ کے دوران افغانستان کو سوویت یونین کے خلاف ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ سی آئی اے نے افغان گروہوں کو “مجاہدین” کے نام سے اربوں ڈالر کے ہتھیار اور تربیت فراہم کی اور انہیں آزادی کے ہیرو بنا کر پیش کیا۔ مگر جب سوویت افواج افغانستان سے نکل گئیں تو یہ ملک جنگ کے زخموں کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا گیا۔ ریاستی ادارے تباہ ہو چکے تھے اور سیاسی مفاہمت کا کوئی نظام قائم نہ ہو سکا۔ اسی خلا سے طالبان اور القاعدہ جیسے گروہ ابھرے۔ بعد ازاں 9/11 کے بعد شروع ہونے والی بیس سالہ امریکی جنگ میں لاکھوں افغان براہِ راست یا بالواسطہ ہلاک ہوئے، دیہات، شادی کی تقریبات اور مسافر قافلے فضائی حملوں کا نشانہ بنتے رہے۔ جب بھی بے گناہ شہری مارے گئے تو اسے “کولیٹرل ڈیمیج” (ضمنی نقصان) کہہ کر ایک سرد جملے میں لپیٹ دیا گیا۔
اسی طرح 2003 میں عراق پر حملہ “تباہ کن ہتھیاروں” کے جھوٹے جواز پر کیا گیا۔ اقوام متحدہ میں پیش کیے گئے ثبوت بعد میں دھوکہ ثابت ہوئے مگر اس جھوٹ کی قیمت لاکھوں عراقیوں نے اپنی جانوں اور تباہ حال معاشرے کی صورت میں ادا کی۔ ابوغریب جیل میں انسانیت کی توہین نے امریکی اخلاقی دعووں کو مزید بے نقاب کر دیا۔ اسی بربادی کے ملبے سے داعش جیسی تنظیم ابھری جس نے خطے کو مزید خونریزی اور خوف میں مبتلا کیا۔پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں سے بھی بے شمار شہری مارے گئے، مگر انہیں بھی “ضمنی نقصان” قرار دے کر نظر انداز کر دیا گیا۔ لیبیا میں قذافی کے خلاف انسانی حقوق کا نعرہ لگا کر حکومت تو گرا دی گئی مگر آج وہی لیبیا خانہ جنگی اور ٹوٹے ہوئے اداروں کی علامت بن چکا ہے۔
(جاری ہے)