عالمی سیاست کے اس بے رحم دور میں ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف بنیامین نیتن یاہو، ولادیمیرپیوٹن، شی جن پنگ اورڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنما ہیں جو اپنے قومی مفادات اوراپنے ایجنڈے کو پوری بےباکی کے ساتھ دنیا کےسامنے رکھتے ہیں۔ ان کی زبان میں جھجک نہیں،لہجے میں تردد نہیں اورموقف میں ابہام نہیں۔ دوسری طرف پچپن سےزائدمسلم اکثریتی ممالک کی قیادت ہےجو ایک غیر فطری سکوت، ایک ناقابلِ فہم بےعملی اورایک شرمناک مصلحت پسندی میں گھری دکھائی دیتی ہے۔ یہ محض گفتار کا فرق نہیں بلکہ ارادے، بصیرت اور ذمہ داری کے احساس کا فرق ہے۔
قیادت خوشگوار موسموں میں نہیں پرکھی جاتی بلکہ اس کی اصل پہچان طوفان کے دنوں میں ہوتی ہے۔ جب حق پرست لوگوں پر ظلم ہو، جب بے گناہوں کا خون بہے اور جب طاقت کے بل بوتے پرحق کو دبایاجائے تواسی لمحے قیادت کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔ آج فلسطین کی خاک پر جاری نسل کشی، کشمیر کی وادیوں میں گھٹتی سسکیاں اور دنیا کے مختلف خطوں میں مسلم اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اس بات کے گواہ ہیں کہ مسلم دنیا کی اجتماعی خاموشی ایک ایسا تاریخی المیہ بن چکی ہےجسے آنے والی نسلیں فراموش نہیں کر سکیں گی۔ قیادت کا مفہوم محض جذباتی تقریریں کرنا یا رسمی بیانات جاری کرنا نہیں ہوتا بلکہ باہمی اعتماد، مشترکہ حکمتِ عملی اور ٹھوس عملی اقدام کرنا ان کی اصل ذمہ داری ہوتی ہے۔
مصلحت پسندی بظاہر سیاسی دانش مندی معلوم ہوتی ہے، مگر جب یہ اصولوں کی قربانی پر قائم ہو تو رفتہ رفتہ قوموں کے وقار کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ یہ ایک خاموش زوال ہے جس کے مراحل ہمیشہ ایک ہی ترتیب سے آتے ہیں۔ پہلے ضمیر مردہ ہوتا ہے، پھر غیرت مدھم پڑتی ہے، پھر خودداری کمزور ہوتی ہے اور آخرکار خودمختاری بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ مسلم دنیا کے حکمرانوں سے یہ سوال آج شدت کے ساتھ پوچھا جانا چاہیے کہ جب تمہارے پاس اسلام جیسا مکمل ضابطۂ حیات موجود ہے جو عدل، جرات، خودداری اور حق گوئی کا درس دیتا ہے، تو پھر تم کس خوف اور کس لالچ کے باعث اسے عملی زندگی میں نافذ کرنے سے گریزاں ہو؟ کیا یہ بزدلی ہے یا دنیاوی چمک کا فریب؟ مصلحت ہے یا ضمیر کی موت؟
اس تاریکی میں ایک پہلو قابلِ غور ضرور ہے۔ ایرانی قیادت چاہے اس سے اتفاق کیا جائے یا اختلاف بہرکیف کم ازکم اس اعتبار سے نمایاں ہے کہ وہ عالمی دباؤ کے باوجود اپنے اصولی موقف کا کھل کر اظہار کرتی ہے۔ جراتِ اظہار اور مزاحمت کی ایک علامت وہاں نظر آتی ہے اور یہی وہ وصف ہےجو قیادت کو محض اقتدار سے بلند کر کے نظریے کا درجہ دیتا ہے۔ اس کے برعکس دیگر مسلم حکمرانوں کی اکثریت نہ صرف خاموش ہے بلکہ بعض اوقات اپنے ہی اجتماعی مفاد کے خلاف مصلحتوں کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
مسلم دنیا کی داخلی تقسیم اس زوال کا ایک بڑا سبب ہے۔ باہمی بدگمانیاں، سیاسی رقابتیں، فرقہ وارانہ کشیدگیاں اور ذاتی مفادات نے امت کے جسم کو تو باقی رکھا ہے مگر اس کی اجتماعی روح کو کمزور کر دیا ہے۔ دشمن اس کمزوری کو نہ صرف گہرائی سے سمجھتا ہے بلکہ اسے بھرپور طریقے سے استعمال بھی کرتا ہے، اور یوں مسلم دنیا کو اندر سے کھوکھلا کرتا چلا جاتا ہے۔تاہم اس تمام تر صورتحال کا ذمہ دار صرف بیرونی قوتوں کو ٹھہرا دینا بھی خود فریبی ہے۔ ہماری اپنی اندرونی کمزوریاں بھی کم مجرم نہیں۔ جب حکمران اپنے عوام کو انصاف، تعلیم اور بنیادی حقوق دینے میں ناکام ہوں، جب معیشتیں قرضوں کے بوجھ تلےدبی ہوں اورجب احتساب کانظام مفلوج ہوتو عالمی سطح پر خودمختاری کا دعویٰ محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتا ہے اور مظلوموں کے حق میں بلند ہونے والی آواز بھی اپنا اثر کھو دیتی ہے۔
تاریخ گواہ ہےکہ جب مسلمانوں نے اتحاد، بصیرت اورجرات کو اپنایا تو انہوں نے دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ صلاح الدین ایوبی نے منتشر قوتوں کو یکجا کرکےتاریخ کا رخ موڑ دیا۔ ان مثالوں میں ایک مشترک حقیقت ہے: مضبوط ارادہ، واضح مقصد اور بے خوف قیادت۔ زوال ہمیشہ اس وقت آیا جب قیادت مصلحتوں کا شکار ہوئی اور امت اپنے مقصد سے دور ہو گئی۔
آج بھی مسلم دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں بلکہ قدرتی دولت، انسانی سرمایہ اور جغرافیائی اہمیت سب کچھ موجود ہے مگر جو چیز ناپید ہے وہ ہے اجتماعی بصیرت، اخلاقی جرات اور عملی وحدت۔ اگر مسلم قیادت اب بھی محلات کی آسائشوں میں مگن رہی اور اس نے اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں چرائیں، تو تاریخ اسے صرف ناکامی نہیں بلکہ خیانت کے طور پر یاد رکھے گی۔ خاموشی اب غیر جانبداری نہیں رہی بلکہ یہ ظلم کی شراکت ہے۔
مجرمانہ خاموشی کا یہ باب اب بند ہونا چاہیے۔ مسلم دنیا کو جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ عملی بصیرت، اخلاقی جرات اور اجتماعی حکمت سے اپنا راستہ متعین کرنا ہوگا۔ یہی وقت کی آواز ہے، یہی تاریخ کا مطالبہ ہے اور یہی امت کے وقار کی بقا کا واحد راستہ بھی۔