رمضان المبارک اپنی تمام برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ رخصت ہونے کو ہے۔ یہ وہ مقدس مہینہ تھا جس نے دلوں کو نرم کیا، آنکھوں کو اشکبار کیا اور ہمیں اپنے رب کے قریب ہونے کا موقع دیا۔ لیکن اس رخصتی کے لمحے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ رمضان ہمیں آخر کیا دے کر جا رہا ہے؟ اس سوال کا جواب خود قرآن مجید میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روزے کی فرضیت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ روزہ اس لیے فرض کیا گیا ہے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ گویا رمضان کا اصل ہدف ہی یہ ہے کہ ہمارے اندر تقویٰ کا جوہر پیدا ہو اور ہم اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالنے لگیں۔
تقویٰ دراصل ایک روحانی قوت کا نام ہے جو انسان کو گناہ سے بچاتی اور نیکی کی راہ پر گامزن رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسا اخلاقی حصار ہے جو انسان کو فتنوں اور آزمائشوں کے درمیان بھی سیدھا کھڑا رہنے کی طاقت دیتا ہے۔ اسی لیے قرآن نے تقویٰ کو لباس سے تشبیہ دی ہے۔ جس طرح لباس انسان کو موسم کی سختیوں سے بچاتا ہے، اسی طرح تقویٰ انسان کو اخلاقی آندھیوں اور خواہشات کے طوفانوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
انسان کی ایک پرانی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے اخلاقی زوال کا الزام ماحول پر ڈال دیتا ہے۔ لوگ اکثر کہتے ہیں کہ زمانہ خراب ہے، معاشرہ بگڑ گیا ہے، ہر طرف فتنہ و فساد ہے اس لیے ہم بھی ویسے ہی ہو گئے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ماحول انسان کو مجبور نہیں کرتا بلکہ مضبوط کردار والا انسان نہ صرف ماحول کا مقابلہ کر سکتا ہے بلکہ ماحول کو بدل بھی سکتا ہے۔ زندگی کا اصول بھی یہی ہے کہ جب موسم بدلے تو انسان اپنا لباس بدل لیتا ہے۔ سردی بڑھے تو گرم کپڑے پہن لیے جاتے ہیں۔ بارش ہو تو چھتری استعمال کر لیتا ہے۔ اسی طرح جب معاشرے میں فتنوں کی سردی بڑھ جائے تو سمجھدار مومن تقویٰ کا گرم لباس مزید مضبوطی سے پہن لیتا ہے۔
اسلامی تاریخ اس حقیقت کی روشن مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ بعثتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے عرب کا معاشرہ اخلاقی انحطاط کی بدترین تصویر تھا۔ مگر اسی تاریک ماحول میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا پاکیزہ کردار پیش کیا کہ دشمن بھی آپ کو صادق اور امین کہنے پر مجبور تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خراب ماحول انسان کو لازماً خراب نہیں بناتا بلکہ جس انسان کے اندر تقویٰ اور خشیتِ الٰہی کی جڑیں مضبوط ہوں، وہ ماحول کی فضاؤں کا رخ بھی بدل سکتا ہے۔
ابتدائے اسلام میں سرزمین مکہ مکرمہ پر دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے اسلام کے درخشندہ ستارے بھی اسی حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔ حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کو مکہ کی تپتی ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھا گیا۔ مگر وہ درد کے عالم میں بھی احد احد” کی صدا بلند کرتے رہے۔ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کی بجائے شہادت کو قبول کیا مگر ایمان کا سودا نہ کیا۔ یہ وہ کردار تھے جنہوں نے ثابت کیا کہ تقویٰ انسان کو دگرگوں حالات کے طوفان میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے۔
اسلامی تاریخ سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ طاقت اور اختیار بھی انسان کے کردار کو نہیں بگاڑتے، بشرطیکہ اس کے اندر تقویٰ کا جوہر زندہ ہو۔ خلفائے راشدین کے ادوار میں وسیع و عریض خلافت تھی، مگر ان کا دورِ حکومت رہتی دنیا تک عدل و انصاف، پاکیزگی اور شوکت اسلام کی مثال بن گیا۔ تقویٰ کی اسی دولت نے اقتدار کی طاقت کو خدمتِ خلق اور خدمتِ دین میں بدل دیا۔
رمضان ہمیں یہی عملی تربیت دیتا ہے۔ دن بھر بھوک اور پیاس برداشت کرنا دراصل ایک مسلسل مشق ہے کہ انسان اپنی خواہشات پر قابو پانا سیکھے۔ جب کوئی شخص تنہائی میں بھی پانی نہیں پیتا تو اس کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا احساس ہے کہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے، میری ہر بات سن رہا ہے۔ یہی احساسِ نگرانی تقویٰ اور للہیت کی اصل بنیاد ہے۔
یہ پیغام آج خاص طور پر ان مسلمانوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے جو مغربی معاشروں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یورپ، برطانیہ اور امریکہ جیسے معاشروں میں سہولتیں تو بے شمار ہیں، لیکن اخلاقی آزادی کے نام پر شراب نوشی، بے پردگی اور جنسی بے راہ روی کو بھی عام سماجی کلچر کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں مسلمان خاندانوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی نئی نسل کی تربیت ہے۔
بہت سے والدین کہتے ہیں کہ ماحول بہت خراب ہے اور بچوں کو بچانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مگر تاریخ اور دین دونوں یہی سبق دیتے ہیں کہ ماحول ہمیشہ ایک امتحان ہوتا ہے اور امتحان کے مقابلے میں ہی کردار کی اصل طاقت پیدا ہوتی ہے۔ اگر ماحول ہی سب کچھ طے کر دیتا تو مکہ کے ابتدائی مسلمان کبھی اپنے ایمان پر قائم نہ رہ پاتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کو صرف مذہبی معلومات نہ دی جائیں بلکہ انہیں ایک مضبوط اسلامی شناخت اور پختہ کردار بھی عطا کیا جائے۔ گھر کے اندر نماز، قرآن اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موافق ماحول بنایا جائے تاکہ بچوں کے دل میں دین کی محبت جاگزیں ہو۔ والدین بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں، ان کے سوالات سنیں اور انہیں اعتماد دیں تاکہ وہ بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی اقدار کو نہ چھوڑیں۔
نوجوانوں کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ آزادی کا مطلب بے راہ روی نہیں۔ اصل آزادی یہ ہے کہ انسان اپنے ضمیر کے مطابق زندگی گزار سکے۔ جو انسان صرف ماحول کے دباؤ میں آ کر اپنی دینی اقدار چھوڑ دے، وہ دراصل آزاد نہیں بلکہ معاشرتی دباؤ کا غلام بن جاتا ہے۔
رمضان کے اختتام پر ہمیں اپنے دل سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کیا اس مہینے نے ہمارے اندر واقعی تقویٰ پیدا کیا؟ اگر ایسا ہوا تو ہم رمضان کی اصل روح کو پا گئے، اور اگر نہیں تو ہم نے صرف بھوک اور پیاس برداشت کی مگر اصل مقصد سے محروم رہ گئے۔
جب رمضان رخصت ہو تو ہمیں یہ پختہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم تقویٰ کا یہ لباس رمضان کے ساتھ نہیں اتاریں گے بلکہ اسے اپنی پوری زندگی کا حصہ بنا لیں گے۔ یہی رمضان کا اصل پیغام ہے کہ دنیا کے فتنوں اور آزمائشوں کے درمیان بھی انسان تقویٰ کے ذریعے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتا ہے اور اپنے کردار کی روشنی سے معاشرے کو بھی بدل سکتا ہے۔
الوداع رمضان! تو ہمیں تقویٰ کا اثاثہ دے کر جا رہا ہے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس اثاثے کی حفاظت کریں اور اسے اپنی زندگیوں میں اجاگر کرتے رہیں۔