Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اسلامی تعلیمات اور صحت مند معاشرہ

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی روحانی، اخلاقی، سماجی اور جسمانی زندگی کے ہر پہلو کو فطری اور متوازن انداز میں سنوارتا ہے۔ اسلام محض چند رسوم و عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک جامع نظامِ حیات ہے جو جسم کی صحت، ذہن کے توازن اور معاشرے کی پرامن فضا کی ضمانت دیتا ہے۔ جو مسلمان اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھال لے وہ دینی کامیابی کے ساتھ ساتھ جسمانی اور ذہنی صحت کا بھی زندہ نمونہ بن سکتا ہے۔
افسوس کہ آج ترقی اور سہولت کے اس دور میں ہم فطری اصولوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ رات بھر جاگنا، دن نیند میں گزارنا، مصنوعی اور غیر صحت بخش غذا اور سماجی بے ترتیبی نے ان گنت بیماریوں کو جنم دیا ہے۔ دل کے امراض، ذیابیطس، موٹاپا، ذہنی تناؤ اور نیند کی کمی عام ہو چکی ہے۔ یہ سب غیر فطری طرزِ زندگی کا براہِ راست نتیجہ ہے اور جب تک ہم یہ حقیقت تسلیم نہیں کریں گے اس وقت تک ہمارے معاشروں کی ان اجتماعی بیماریوں کا کوئی علاج نہیں۔ اگر ہم اس حوالے سے قرآن حکیم کی روشنی میں جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ رات اور دن کا نظام اللہ تعالیٰ نے ایک خاص حکمت کے تحت انسان کی فطری صحت و تندرستی کے لیے بنایا ہے۔ سورۃ النبأ آیت 10-11 میں ارشاد ہے: ’’اور رات کو ہم نے بنا دیا ڈھانپ لینے والی اور دن کو ہم نے بنا دیا معاش (کی جدوجہد) کے لیے۔‘‘ اسی طرح سورۃ القصص آیت 73 میں فرمایا: ’’اور اُس کی رحمت (کے مظاہر) میں سے ہے کہ اُس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تا کہ اس (رات ) میں تم لوگ آرام کرو اور (دن میں) اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم (اُس کی ان نعمتوں کا) شکر ا دا کرو۔‘‘ سورۃ الفرقان آیت 47 میں ارشاد ہوا:’’وہی ہے جس نے رات کو لباس، نیند کو آرام کا ذریعہ اور دن کو اٹھنے پھرنے کا وقت بنایا۔۔‘‘ یہ تینوں آیات مل کر انسانی زندگی کا مکمل نظام الاوقات پیش کرتی ہیں جسے جدید سائنس بھیCircadian Rhythm سرکیڈین ریدم‘‘ کا نام دیتی ہے جو جسم کی قدرتی اندرونی گھڑی ہے جو تقریباً 24 گھنٹے میں ایک بار چکر لگاتی ہے اور نیند، جاگنے، ہارمونز اور جسم کے دیگر افعال کو دن اور رات کے مطابق منظم کرتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کی سنتِ مبارکہ اسی فطری نظام کی عملی تصویر ہے۔ آپ ﷺ عشاء کے بعد جلد استراحت فرماتے اور فجر سے پہلے بیدار ہو کر تہجد کی ادائیگی، نماز فجر اور ذکرِ الٰہی سے دن کا آغاز فرماتے۔ آپ ﷺ نے دعا فرمائی:اے اللہ! میری امت کے لیے اس کی صبح میں برکت عطا فرما۔ (ابو داؤد، ترمذی) یہ برکت محض روحانی نہیں، جسمانی، ذہنی اور معاشی بھی ہے۔ اس کے برعکس آج ہم راتیں موبائل اور سوشل میڈیا کی نذر کر دیتے ہیں جس سے ہارمونز متاثر ہوتے ہیں، ذہنی دباؤ بڑھتا ہے اور قلبی امراض کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
پاکستان میں رات دیر تک جاگنے اور کاروبار جاری رکھنے کا رجحان نہ صرف غیر متوازن طرزِ زندگی کو جنم دیتا ہے بلکہ توانائی کے بے جا استعمال کا بھی سبب بنتا ہے۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں لوگ جلدی سونے اور جاگنے کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے ان کی صحت، نظم و ضبط اور معاشی سرگرمیوں میں بہتری آتی ہے۔ اگر پاکستان میں بھی ایسا نظام اپنایا جائے کہ فجر کے بعد کاروبار شروع ہوں اور غروبِ آفتاب کے ساتھ بند ہو جائیں تو نہ صرف بجلی کی نمایاں بچت ممکن ہے بلکہ لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے، اور مجموعی طور پر ایک صحت مند اور متوازن معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔
حلال و طیب غذا کے بارے میں اسلامی تعلیمات بھی اتنی ہی جامع اور حکیمانہ ہیں۔ سورۃ البقرہ (آیت 168) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اے لوگو! زمین میں جو کچھ حلال اور پاکیزہ ہے اسے کھاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو۔” سورۃ البقرہ (آیت 172) میں فرمایا: “جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں رزق میں دی ہیں ان سے کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔” قابلِ غور بات یہ ہے کہ اسلام صرف حلال پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ “طیب” یعنی پاکیزہ اور صحت بخش غذا کی بھی تاکید کرتا ہے۔ آج ہماری خوراک مصنوعی رنگوں، زیادہ تیل، ملاوٹ اور فاسٹ فوڈ کی زد میں آ کر ہمارے جسموں کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انسان نے پیٹ سے برا کوئی برتن نہیں بھرا۔ ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں اور اگر زیادہ ضروری ہو تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے چھوڑ دے۔” (ترمذی، ابن ماجہ)
رمضان المبارک کے روزے جنہیں جدید سائنس انٹرمیٹنٹ فاسٹنگIntermittent کے طور پر تسلیم کر چکی ہے۔ یہ ایک ایسا غذائی طریقہ ہے جس میں آپ کھانے اور نہ کھانے کے اوقات کو منظم کرتے ہیں۔ اس میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کیا کھانا ہے بلکہ یہ کہ کب کھانا ہے”۔ اس طرح روزے وزن کو قابو میں رکھنے اور دماغی صحت کو تقویت دینے میں مدد گار ہیں۔
جسمانی قوت اور طہارت کو بھی اسلام نے فضیلت کا درجہ دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے، اگرچہ دونوں میں خیر ہے۔ (صحیح مسلم)۔ پانچ وقت کی نماز جو ہر مسلمان پر فرض ہے، درحقیقت جسم کی بہترین ورزش بھی ہے۔ رکوع اور سجدے جوڑوں کی لچک بڑھاتے ہیں، ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط کرتے ہیں اور خون کی گردش کو بہتر بناتے ہیں۔ طہارت کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: پاکیزگی ایمان کا آدھا حصہ ہے۔ (صحیح مسلم)۔ دن میں پانچ بار وضو جلد کو صاف رکھتا ہے، جراثیم اور انفیکشن سے بچاتا ہے اور ذہن کو تازگی عطا کرتا ہے۔
غرض یہ کہ اسلام نے جو طرزِ زندگی پیش کیا ہے وہ فطرت کے عین مطابق اور پائیدار صحت کا ضامن ہے۔ ہماری موجودہ اجتماعی بدحالی کی اصل وجہ اسلام کی عملی تعلیمات سے دوری ہے۔ اگر ہم وقت کی پابندی، صبح سویرے اٹھنے، حلال و طیب غذا، اعتدال، جسمانی سرگرمی، طہارت، نماز کی پابندی جیسے اصولوں کو اپنی زندگی میں نافذ کر لیں تو ہم نہ صرف ایک صحت مند اور پرامن معاشرہ قائم کر سکتے ہیں بلکہ دنیا کی نگاہ میں بھی عزت و وقار کے حقدار بن سکتے ہیں۔ اسلامی طرزِ زندگی محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظام حیات ہے جس پر عمل کرنے سے جسم تندرست، ذہن متوازن اور معاشرہ پرسکون رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

یہ بھی پڑھیں