Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اسلامی دفاعی اتحادبقا کا راستہ، وقت کی ضرورت

مسلم دنیا اس وقت جن داخلی و خارجی بحرانوں سے دوچار ہے وہ کسی صاحبِ شعور سے پوشیدہ نہیں۔ فرقہ واریت کی آگ، سیاسی بے یقینی، باہمی بداعتمادی اور عالمی طاقتوں پر انحصار نے امت کی اجتماعی قوت کو اس حد تک کمزور کر دیا ہے کہ بے پناہ وسائل کے باوجود مسلمان دنیا کے مختلف خطوں میں بے بسی اور محکومی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں جذباتی نعروں، رسمی بیانات اور وقتی سفارتی سرگرمیوں سے نہ امت کا دفاع مضبوط ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس کی بقا یقینی بن سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم ممالک ایک منظم، مربوط اور پائیدار اسلامی دفاعی اتحاد کی بنیاد رکھیں۔ ایک ایسا اتحاد جو مشترکہ حکمتِ عملی، عملی تعاون اور اجتماعی ذمہ داری کے اصولوں پر قائم ہو۔
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب مسلمان نسلی، لسانی اور علاقائی تعصبات سے بلند ہو کر ایک امت بنے تو انہوں نے نہ صرف اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا بلکہ عالمی امن کے ضامن بھی رہے۔ خلافتِ راشدہ کے دور میں مدینہ طیبہ کی مرکزی قیادت کے تحت مختلف قبائل اور خطے ایک متحد سیاسی و عسکری نظم میں ڈھلے تو داخلی استحکام بھی پیدا ہوا اور قیصر و کسریٰ جیسی طاقتیں بھی اس وحدت کے سامنے ٹھہر نہ سکیں۔ اس کے برعکس جب امت اندرونی اختلافات، مسلکی تنازعات اور بیرونی سازشوں کا شکار ہوئی تو اندلس سے بغداد تک اور برصغیر سے وسط ایشیا تک زوال کی ایسی داستانیں رقم ہوئیں جن کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
آج مسلم دنیا کو اسی فکری ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کی ضرورت ہے۔ علاقائی رقابتیں، مسلکی اختلافات اور سیاسی بدگمانیاں مسلم ریاستوں کو ایک دوسرے سے دور کیے ہوئے ہیں جبکہ عالمی طاقتوں پر دفاعی انحصار نے انہیں اپنی سلامتی کے معاملے میں بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ دفاعی بجٹ بڑھنے کے باوجود خود انحصاری کا فقدان واضح ہے اور کوئی ایسا مؤثر اجتماعی دفاعی ڈھانچہ موجود نہیں جو امت کے مشترکہ مفادات کا تحفظ کر سکے یا مظلوم مسلمانوں کے لیے باوقار آواز بن سکے۔ ایک حقیقی دفاعی اتحاد کا تقاضا صرف مشترکہ فوجی مشقیں یا وقتی معاہدے نہیں بلکہ ایک جامع اور دیرپا فریم ورک ہے جس میں مشترکہ دفاعی پالیسی، قابلِ اعتماد انٹیلی جنس شیئرنگ، دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں مربوط ردِعمل کا نظام شامل ہو۔ ایک ایسا نظام جو پوری امت کو ایک جسم کی مانند متحرک کر سکے۔
اگرچہ مجموعی منظرنامہ مایوس کن دکھائی دیتا ہے لیکن بعض مثبت پیش رفت کی مثالیں امید بھی دلاتی ہیں۔ مثلا خلیجی تعاون کونسل کی کوششیں، او آئی سی کے پلیٹ فارم پر سلامتی سے متعلق قراردادیں اور ترکی، پاکستان، آذربائیجان اور ملائیشیا کے درمیان بڑھتا عسکری تعاون اس بات کا ثبوت ہے کہ مشترکہ دفاعی اشتراک نہ صرف ممکن بلکہ مفید بھی ہے۔ خصوصاً تھری برادرز” جیسی مشترکہ مشقوں نے ثابت کیا ہے کہ مضبوط ارادہ ہو تو جغرافیہ اور زبان رکاوٹ نہیں بنتے۔ تاہم ان کوششوں کو ایک مستقل اور ہمہ جہت نظام میں ڈھالنے کے لیے جراتمندانہ سیاسی فیصلے اور طویل المدت حکمتِ عملی ناگزیر ہیں۔
کسی بھی دفاعی اتحاد کی کامیابی کے لیے شفافیت، باہمی اعتماد اور فکری ہم آہنگی بنیادی شرائط ہیں۔ جب تک مسلم ممالک ایک دوسرے کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار رہیں گے، کوئی مضبوط اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔ فیصلہ سازی میں تمام ممالک کو برابر کا شریک سمجھنا ہوگا ورنہ اتحاد اندر سے کمزور ہوجائے گا۔ ہر ملک کو اس کی استعداد کے مطابق کردار دیاجائے اورنمائندگی میں توازن برقرار رکھا جائے۔ اسی طرح مشترکہ تربیت، مربوط کمانڈ اسٹرکچر، ہم آہنگ فوجی ڈاکٹرائن اور ایک مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک اس اتحاد کی ریڑھ کی ہڈی ہوں گے۔ جدید دور کے خطرات جیسے دہشت گردی، سائبر حملے اور ہائبرڈ جنگ وغیرہ صرف اسی وقت مؤثر طور پر روکے جا سکتے ہیں جب مسلم دنیا ایک متحد دفاعی نظام رکھتی ہو۔
عسکری اتحاد کی پائیداری کے لیے معاشی خود کفالت بھی ضروری ہے۔ اگر سیاسی قیادتیں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف رہیں تو عسکری اتحاد محض ایک کمزور ڈھانچہ ثابت ہوگا۔ اسی لیے مسلم ممالک کو چند بنیادی اصولوں پر متفق ہونا ہوگا۔ (1) سرحدی خودمختاری کا احترام (2) باہمی عدم مداخلت (3) اجتماعی مفاد کی ذاتی و مسلکی مفادات پر ترجیح (4) دفاعی صنعتوں میں مشترکہ سرمایہ کاری (5) ڈرون، میزائل و سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میں خود کفالت۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے ایک مشترکہ سلامتی و دفاعی سرمایہ کاری فنڈ کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ عسکری طاقت اتحاد کا صرف ظاہری پہلو ہے۔ اس کی اصل روح فکری وحدت میں مضمر ہے۔ جب تک نئی نسل کے اذہان میں امت کا وسیع تصور راسخ نہیں ہوگا اس وقت تک یہ اتحاد محض حکومتوں کا ایک منصوبہ بن کر رہ جائے گا مگر عوامی تحریک نہیں بن سکے گا۔ اگر مسلم دنیا تدریجاً ایک مشترکہ دفاعی کمیشن سے آغاز کر کے ایک مربوط کمانڈ اسٹرکچر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ تاریخ کا ایک اہم موڑ ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے امت اپنی بقا، وقار اور خودمختاری کو یقینی بنا سکتی ہے۔ قرآن گواہ ہے کہ کامیابی اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان، باہمی اعتماد اور ایک مضبوط، مخلص اور ہمہ جہت دفاعی اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ ایسا اتحاد جو امت کو انتشار سے نکال کر استحکام اور عزت کی منزل تک پہنچا سکے۔

یہ بھی پڑھیں