Search
Close this search box.
جمعرات ,11 جون ,2026ء

سب سے پہلے پاکستان: قومی فلاح اور عالمی کردار

پاکستان کا قیام محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھا بلکہ برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی صدی پر محیط محکومی، جبر اور بے بسی کے بعد ان کے ایمان، وقار اور آزادی کے خواب کی عملی تعبیر تھی۔ یہ ایک ایسے وطن کی بنیاد تھی جہاں’’ رب کی دھرتی پر رب کا نظام‘‘ قائم ہو اور انسان کسی غیر کی غلامی سے آزاد ہو کر عزت و احترام کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ قرآنِ حکیم ارشاد فرماتا ہے ’’اور ہم چاہتے تھے کہ زمین میں کمزور کر دیے گئے لوگوں پر احسان کریں، انہیں پیشوا بنا دیں اور انہیں ہی زمین کا وارث ٹھہرائیں۔‘‘ (القصص: ۵)
پاکستان اسی ربانی مشیت کا مظہر ہے۔ تاہم نظریاتی ریاستیں صرف نعروں اور جوش سے نہیں چلتیں۔ ان کی بنیاد عدل، علم، اخلاقیات اور اداروں کی مضبوطی پر ہوتی ہے۔
’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کوئی محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک گہرا فکری عہد اور اخلاقی میثاق ہے۔ یہ ہمیں ذاتی خواہشات، وقتی مفادات اور گروہی تعصبات سے بلند ہو کر قومی بھلائی اور اجتماعی فلاح کا راستہ اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ حقیقی حب الوطنی محض جذبات کا نام نہیں بلکہ ذمہ داریوں کی ادائیگی، قانون کی پاسداری اور قومی نظم و نسق میں خلوصِ دل سے حصہ لینے کا نام ہے۔ نبی کریم ﷺ کے ارشادات سے واضح ہے کہ اپنی سرزمین اور بستی سے محبت ایمان کا تقاضا ہے۔ جب ایمان کی حرارت اور وطن دوستی ایک ہو جائیں تو قومیں ناقابلِ تسخیر ہو جاتی ہیں جس کی زندہ مثال ایران ہے۔
قوموں کی ترقی صرف بلند بانگ نعروں یا عارضی جوش سے نہیں ہوتی۔ اس کے لیے درست ترجیحات، معیاری تعلیم، منصفانہ نظام اور دیانت دار قیادت کا ہونا ضروری ہے۔ تعلیم محض فرد کی ذاتی کامیابی کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی شعور کی وہ بنیاد ہے جس پر ایک باوقار ریاست کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ کیونکہ افراد کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیر ہوتی ہے۔
تاریخ کا غیر جانبدار مطالعہ بتاتا ہے کہ وہی قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جنہوں نے اداروں کو مضبوط کیا، میرٹ کو معیار بنایا اور بدعنوانی کو اجتماعی جرم سمجھ کر اس کے خلاف بے لاگ احتساب کیا۔ خلافتِ راشدہ اس کا روشن ترین نمونہ ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں بیت المال کا نظم ہو، عدلیہ ہو یا انتظامیہ، ہر شعبہ امانت، شفافیت اور جواب دہی پر قائم تھا۔ خلیفۂ وقت خود کو عام شہری کے سامنے جواب دہ سمجھتے تھے اور قانون امیر و غریب کے لیے یکساں تھا۔ اگر پاکستان اپنے اداروں میں انہی اصولوں کو خلوص کے ساتھ اپنائے تو سیاسی استحکام، معاشی مضبوطی اور سماجی امن اس کے لیے دور کی بات نہیں رہے گی۔
عالمی سطح پر پاکستان کا کردار تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے۔ علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان کی متوازن، ذمہ دارانہ اور اصول پسند سفارت کاری نے عالمی برادری میں اعتماد پیدا کیا ہے۔ اگر ہم اندرونِ ملک ایک مضبوط، شفاف اور مستحکم نظام قائم کر سکیں، اداروں میں شفافیت لائیں اور قومی یکجہتی کو فروغ دیں تو پاکستان نہ صرف خطے بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے اخلاقی، سیاسی اور سفارتی رہنمائی کا ایک قابلِ اعتماد مرکز بن سکتا ہے۔
قومی اتحاد ہر زندہ قوم کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ قرآنِ مجید ارشاد فرماتا ہے’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘ (آل عمران: 103)۔ فرقہ واریت، لسانی تعصبات اور ذات پات کی بنیاد پر نفرت نے ہمیشہ قوموں کو کمزور کیا ہے۔ اگر ہم اختلافِ رائے کو مہذب انداز میں قبول کرنا سیکھیں، ایک دوسرے کے وجود کو برداشت کریں اور قومی مفاد کو ذاتی و گروہی مفادات پر مقدم رکھیں تو یہی اتحاد پاکستان کی اصل قوت بن کر ابھرے گا اور ہمیں اندرونی و بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت دے گا۔
نوجوان نسل پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ اور روشن مستقبل کی سب سے بڑی امید ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے اندر شعور کی وہی بیداری اور عزم مصمم پیدا کیا جائے جس نے تحریکِ پاکستان کے کارکنوں کو بے مثال قربانی کا جذبہ بخشا تھا۔ حضرت علیؓ سے منسوب یہ قول ہے کہ ’’جس قوم کے نوجوان بیدار ہوں، اسے کوئی طاقت مغلوب نہیں کر سکتی۔‘‘
نوجوانوں کی معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق، ہنر مندی اور کردار سازی پر سنجیدہ سرمایہ کاری دراصل ایک مضبوط ریاست اور پائیدار ترقی کی ضمانت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا، تعلیمی اداروں اور مساجد کو بھی اپنے فکری اور اخلاقی رہنمائی کے کردار پر از سرِ نو غور کرنا ہوگا۔
معاشی خودکفالت ہر آزاد قوم کی حقیقی آزادی کی بنیاد ہے۔ جب کوئی قوم معاشی طور پر دوسروں پر انحصار کرتی ہے تو یہ انحصار آہستہ آہستہ سیاسی اور فکری غلامی کا سبب بن جاتا ہے۔ پاکستان کو زراعت، معدنی وسائل، صنعت، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت طرازی میں انقلابی پیش رفت کرنی ہوگی۔ شفاف ٹیکس نظام، بدعنوانی کا خاتمہ اور امانت و دیانت پر مبنی معیشت وہ تین بنیادی ستون ہیں جن پر ایک باوقار اور خودمختار ریاست قائم ہوتی ہے۔سب سے پہلے پاکستان” آج کا وہ پیغام ہے جو ہمیں اتحاد، خدمت، قربانی اور قومی شعور کی بیداری کی راہ دکھاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قول و فعل میں اخلاص پیدا کریں، ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر قربان کریں اور ریاستی و سماجی نظام کو عدل و انصاف کی بنیاد پر استوار کریں۔ ان شاء اللہ، اسی راستے پر چل کر پاکستان عدلِ فاروقیؓ، شجاعتِ حیدریؓ اور صداقتِ صدیقیؓ کا حسین نمونہ بن کر عالمِ اسلام کی اجتماعی قیادت کا سب سے مخلص اور قابلِ اعتماد امیدوار بنے گا۔
اس سفر میں ہمارے لیے قرآنِ حکیم کی یہ آیت راہنمائی کرتی ہے کہ ’’بے شک اللہ تعالٰی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔‘‘ (سورۃ الرعد: ۱۱)۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے اداروں، رویوں اور اجتماعی شعور کی اصلاح ہی وہ کنجی ہے جس سے پاکستان کی تقدیر کے بند دروازے کھلیں گے۔ اِن شاء اللہ۔

یہ بھی پڑھیں