Search
Close this search box.
هفته ,04 جولائی ,2026ء

بوسنیا و غزہ : ہماری اجتماعی غفلت کا آئینہ

جولائی 1995 میں بوسنیا کے شہر سریبرینیتسا میں جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک قتلِ عام نہیں تھا بلکہ انسانیت کے ماتھے پر ایک ایسا سیاہ دھبہ تھا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ ہزاروں بوسنیائی مسلمان مردوں اور نوجوانوں کو چند دنوں کے اندر قتل کر دیا گیا۔ خواتین کی بے حرمتی کی گئی، خاندان بکھر گئے اور ایک پوری قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ایک حقیقت جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، یہ ہے کہ سریبرینیتسا کا سانحہ 1992 سے 1995 تک بوسنیائی مسلمانوں کے خلاف جاری وسیع تر ظلم و ستم کا صرف ایک باب تھا۔بوسنیا کی نسل کشی کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص ایک بنیادی حقیقت تک ضرور پہنچتا ہے: قاتلوں کے نزدیک مسلمانوں کے درمیان موجود داخلی اختلافات کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ کون زیادہ مذہبی ہے اور کون کم، کون داڑھی رکھتا ہے اور کون نہیں، کون سی عورت حجاب پہنتی ہے اور کون نہیں، کون مسجد کا مستقل نمازی ہے اور کون دین سے دور ہے۔ ان کی نظر میں سب ایک ہی شناخت رکھتے تھے، اور وہ تھی “مسلمان”۔یہ حقیقت ہمیں اپنے معاشروں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ آج مسلم دنیا جن بحرانوں سے گزر رہی ہے، ان میں بیرونی عوامل کے ساتھ ساتھ اندرونی کمزوریاں بھی برابر کی شریک ہیں۔ فرقہ واریت، لسانی و علاقائی تعصب اور گروہی مفادات نے امتِ مسلمہ کو بے شمار حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ایمان، نیت اور وابستگیوں کے فیصلے کرنے میں اتنی جلدی کرتے ہیں کہ باہمی احترام اور اخوت کا دائرہ مسلسل سکڑتا جا رہا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کو نشانہ بنایا گیا، دشمن نے سب سے پہلے اس کے اندرونی اختلافات کا فائدہ اٹھایا۔ بوسنیا میں بھی ایسا ہی ہوا۔ وہاں نفرت کی بنیاد نسلی قوم پرستی تھی، جس نے انسانوں کو صرف ان کی شناخت کی بنیاد پر زندگی کے حق سے محروم کر دیا۔ یہی سوچ آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہے۔ کبھی یہ نسل کے نام پر ظاہر ہوتی ہے، کبھی مذہب کے نام پر اور کبھی قومیت کے نام پر۔ اور بدقسمتی سے، کہیں یہ خود ہماری اپنی صفوں کے اندر، سیاسی اور انتظامی تقسیم کی صورت میں بھی سراٹھاتی ہے۔آج غزہ کی صورتحال بھی ہمیں یہی سبق دے رہی ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان جب فلسطینی عوام کی تکالیف دیکھتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ ظلم کرنے والوں کے نزدیک مسلمانوں کے اندرونی اختلافات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ جو چیز نمایاں ہوتی ہے، وہ صرف ایک مشترکہ شناخت ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے: اگر ہم خود ایک دوسرے کو تقسیم کرتے رہیں، ایک دوسرے کی نیتوں پر شک کرتے رہیں اور معمولی اختلافات کو دشمنی میں بدلتے رہیں، تو ہماری اجتماعی طاقت کہاں باقی رہے گی؟
یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ محض “اتحاد اتحاد” کا نعرہ لگا دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اگر عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں تو اس کے پیچھے حقیقی، ٹھوس شکایات ہوتی ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، بنیادی سہولتوں کی کمی اور یہ احساس کہ فیصلے مقامی نمائندوں کے بجائے کہیں اور ہو رہے ہیں۔ اسی طرح حکومتی سطح پر بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کے جائز مطالبات کو طاقت کے بجائے مکالمے سے حل کیا جائے اور تصادم کی نوبت نہ آنے دی جائے۔ اتحاد کا مطلب اختلافِ رائے کو دبانا نہیں بلکہ اسے احترام اور تحمل کے دائرے میں رکھنا ہے تاکہ داخلی تنقید اور اصلاح کی گنجائش باقی رہے، مگر یہ اختلاف دشمنی اور باہمی نفرت میں تبدیل نہ ہو۔
اسلام کی تعلیمات اسی توازن کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔ قرآن مسلمانوں کو “اخوت” کا درس دیتا ہے اور رسول اکرم ﷺ نے امت کو ایک جسم کی مانند قرار دیا، جس کے ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے لیکن افسوس کہ ہم نے کئی بار اختلاف کو دشمنی، تنقید کو تذلیل اور اصلاح کو تحقیر میں بدل دیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اپنے ہی ہاتھوں اپنی اجتماعی قوت کو کمزور کر بیٹھتے ہیں، چاہے وہ عالمی سطح پر امتِ مسلمہ کی تقسیم ہو یا مقامی سطح پر مختلف خطوں کے اندر حکومت اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج۔بوسنیا کا سانحہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جس میں ہم اپنی موجودہ حالت دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نفرت، تعصب اور تقسیم کا انجام ہمیشہ تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ اسی طرح غزہ کا المیہ بھی صرف ایک انسانی بحران نہیں بلکہ ایک اخلاقی پیغام ہے کہ مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا اور اپنے اندر اتحاد پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شاید بوسنیا کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جب مشکل وقت آتا ہے تو وہ اختلافات جو ہم نے خود پیدا کیے ہوتے ہیں، اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ اس وقت صرف انسانیت، اخوت اور باہمی وفاداری ہی کام آتی ہے۔ اگر ہم نے اس سبق کو نہ سیکھا، تو تاریخ خود کو مختلف شکلوں میں دہراتی رہے گی، اور ہم ہر بار یہی سوال کرتے رہ جائیں گے کہ آخر ہم نے ماضی سے کچھ کیوں نہیں سیکھا۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے عقیدے، مسلک، علاقائی یا سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ انسانی، قومی اور اسلامی اقدار کو بنیاد بنائیں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن احترام، برداشت، مکالمہ اور اتحاد اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ حکومتوں کو چاہیے کہ عوامی شکایات کو سنجیدگی سے سنیں اور مکالمے کا راستہ اختیار کریں اور عوام کو بھی چاہیے کہ اپنے جائز مطالبات کے ساتھ ساتھ اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کی صفوں میں پیدا ہونے والا خلا کسی اور کے مفاد میں استعمال نہ ہو۔اگر ہم نے بوسنیا اور غزہ کے پیغامات کو سمجھ لیا، تو شاید ہم ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھ سکیں۔ بصورتِ دیگر تاریخ کے المیے صرف کتابوں میں نہیں رہیں گے، بلکہ نئی نسلوں کی زندگیوں میں دوبارہ جنم لیتے رہیں گےکبھی سریبرینیتسا کی گلیوں میں اور کبھی غزہ کے کھنڈرات میں۔

یہ بھی پڑھیں