اعتماد انسانی معاشرت کا وہ بنیادی ستون ہے جس پر زندگی کے تمام رشتے، تعلقات اور ادارے قائم ہیں۔ یہی وہ قوت ہے جو انسانوں کے درمیان اطمینان، محبت اور باہمی تعاون پیدا کرتی ہے۔ جب یہ ستون کمزور ہو جائے تو پوری سماجی عمارت لرزنے لگتی ہے۔ ایبٹ آباد کا حالیہ سانحہ، جہاں نوجوان ڈاکٹر وردہ مشتاق اپنی قریبی سہیلی ردا جدون کے ہاتھوں محض سونے کی لالچ میں زندگی سے محروم کر دی گئیں، اسی متزلزل اعتماد کی ایک ہولناک تصویر ہے۔ یہ جرم صرف ایک جان کا نقصان ہی نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک گہرا زخم ہے جو چیخ چیخ کر پوچھتا ہے کہ ہمارے دلوں سے امانت اور ضمیر کی روشنی کیوں بجھتی جا رہی ہے؟ اسلام نے امانت کو ایمان کا جزوِ لازم قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے: “اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل تک پہنچاؤ” (النساء:58)۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جس شخص میں امانت داری نہیں، اس میں ایمان نہیں۔” ردا جدون کا جرم اسی زوالِ اخلاق کی آئینہ دار تصویر ہے جس میں انسان نے اپنے باطن کی طہارت کھو کر خود کو مفادات کا غلام بنا لیا ہے۔ امانت اور اعتماد کا یہ زوال اچانک نہیں آیا، بلکہ یہ ایک بتدریج اخلاقی انحطاط کا نتیجہ ہے۔ اس کی جڑیں ہماری سماجی، تعلیمی اور ادارتی کمزوریوں میں پیوست ہیں۔ سماجی سطح پر سچائی، دیانت اور رحم جیسے اوصاف کمزور پڑ چکے ہیں۔ مادی لالچ اور خود غرضی نے انسان کو اندھی وادیوں میں بھٹکا دیا ہے۔ ہمارا نظامِ تعلیم علم تو دیتا ہے مگر کردار کی تعمیر سے خالی ہے۔ جب تعلیم کا مقصد صرف معاشی دوڑ میں آگے بڑھنا رہ جائے تو معاشرہ ایسے افراد پیدا کرتا ہے جو ذہین ضرور ہوتے ہیں مگر ضمیر سے خالی۔ادارہ جاتی بدعنوانی، قانون کا غیر مؤثر نفاذ، اور انصاف میں تاخیر نے اس بحران کو مزید گہرا کیا ہے۔
جب ریاستی نظام شفافیت کھو دے اور انصاف پر یقین اٹھ جائے تو عوامی شعور میں بے یقینی جڑ پکڑ لیتی ہے اور یہی بے یقینی آگے چل کر بے ضمیری میں بدل جاتی ہے۔ آج موقع پرستی کو “دانائی” اور دوغلے پن کو “چالاکی” سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ اجتماعی ذہنیت ہے جو امانت کے مفہوم کو محض مادی اشیاء تک محدود کر دیتی ہے، حالانکہ حقیقی امانت انسانی رشتوں، قدروں اور ذمہ داریوں کا نام ہے۔ ڈاکٹر وردہ مشتاق کا قتل دوستی، وفا اور بھروسے کے ان رشتوں کو چکناچور کر گیا جو انسانی معاشرت کی بنیاد ہیں۔ اب ہر تعلق کے پیچھے مفاد کی پرچھائیں محسوس ہوتی ہے۔ احساسِ تحفظ زوال پذیر ہو چکا ہے اور انسان انسان سے خوفزدہ ہے۔ اعتماد کے ٹوٹنے سے معیشت، تعلیم، عدل اور سیاست، سب متاثر ہوتے ہیں۔ کاروباری دنیا میں دھوکہ دہی کو معمول سمجھا جانے لگا ہے، عدلیہ میں تاخیر، تعلیم میں نقل اور ریاستی اداروں میں کرپشن عام ہے۔ اس طرح پورا معاشرہ اعتماد کے بحران میں مبتلا ہے۔اس اعتماد کو بحال کرنے کے لیے محض وعظ و نصیحت کافی نہیں۔ ہمیں اجتماعی طور پر ایسے عملی اقدامات کرنا ہوں گے جو شفافیت، انصاف اور جوابدہی کو یقینی بنائیں۔ قیادت کو اپنے عمل سے مثال قائم کرنی ہوگی۔ قانون کو ایسی قوت عطا کرنی ہوگی کہ جرم کے انجام سے کوئی بے خوف نہ رہے۔ میڈیا کو سنسنی نہیں بلکہ سماجی بیداری کا فریضہ انجام دینا ہوگا۔ نظامِ تعلیم میں کردار سازی کو بنیادی جزو بنایا جائے تاکہ نئی نسل صرف کامیاب نہیں بلکہ صالح اور باکردار بن سکے۔
اسی طرح اصلاح کا آغاز خاندان سے ہونا چاہیے۔ بچہ اپنے گھر سے سچائی، امانت داری اور عزت و احترام کے اصول سیکھتا ہے۔ جب والدین خود جھوٹ، وعدہ خلافی یا بداعتمادی کا مظاہرہ کریں تو یہ روش نسلوں تک سرایت کر جاتی ہے۔اسلام ہمیں تنبیہ کرتا ہے کہ جب امانت ضائع ہو جائے تو قیامت قریب آ جاتی ہے۔ یہ صرف مذہبی اشارہ نہیں بلکہ ایک سماجی حقیقت ہے۔ جس قوم میں ضمیر مر جائے اور اعتماد مٹ جائے، وہ خود اپنے زوال کی ضمانت لکھ دیتی ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ معاشرے، جیسے جاپان، ناروے اور سویڈن، خوشحالی کی بنیاد وسائل یا طاقت پر نہیں بلکہ دیانت اور شفافیت پر رکھتے ہیں۔ وہاں قانون سے زیادہ اخلاقیات کا دباؤ کارفرما ہے، اسی لیے وہاں اعتماد زندہ اور معاشرہ منظم ہے۔ ہمیں بھی یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ ترقی وسائل سے نہیں، امانت داری سے جنم لیتی ہے۔ڈاکٹر وردہ مشتاق کا سانحہ ایک فرد کے خلاف جرم نہیں، یہ ہماری اجتماعی روح کا نوحہ ہے۔ یہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم نے اخلاقی اصولوں کو کہاں دفن کر دیا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم خود احتسابی کے عمل سے گزریں، اپنی زندگیوں میں دیانت اور سچائی کو ازسرِ نو بیدار کریں، اور اپنے آپ سے یہ عہد کریں کہ اب کسی نئی “ردا” کو اپنے اندر جنم نہیں لینے دیں گے۔اعتماد کی بحالی نعرے یا قانون سے نہیں، بلکہ ضمیر کی بیداری سے ممکن ہے۔ جب ہر فرد اپنی ذات میں امانت دار اور سماجی طور پر ذمہ دار بننے کا عہد کرے گا، تبھی معاشرہ دوبارہ سانس لے سکے گا۔ وہ سانس جو اعتماد، سچائی اور امانت کی خوشبو لیے ہو اور جہاں ایمان کا اصل چہرہ پہچانا جائے۔