(گزشتہ سے ییوستہ)
جب بندوقیں خاموش ہوتی ہیں تو زبانیں بولنے لگتی ہیں، اور کبھی کبھی یہ زبانیں بندوقوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔سیاسی قیادت کے بیانات اس تناؤکومزیدواضح کرتے ہیں۔ایک طرف سخت الفاظ کااستعمال اوردوسری جانب جوابی دعوے دراصل ایک ایسی نفسیاتی حکمت عملی کاحصہ ہیں جس کامقصدحریف کومرعوب کرنااوراپنے مؤقف کومضبوط دکھاناہے۔یہ بیانات بسااوقات عملی اقدامات سیزیادہ اثررکھتے ہیں۔
امریکی صدرکے سخت بیانات اورایرانی قیادت کے جوابی اعلانات دراصل ایک نفسیاتی جنگ کاحصہ ہیں۔ان بیانات کامقصدصرف مخالف کو خبردارکرنانہیں بلکہ اپنے عوام کومطمئن کرنااورعالمی سطح پراپنی پوزیشن مضبوط کرنابھی ہوتاہے۔تھنک ٹینکس اورتجزیہ کارکی آرااس امرکی نشاندہی کرتی ہیں کہ موجودہ جنگ بندی نے اصل تنازع کے بنیادی اسباب کوحل نہیں کیا۔ پابندیاں،بحری ناکہ بندی،علاقائی مداخلتیں، اورخطے میں اس کے اتحادیوں پرحملے یہ سب وہ عناصر ہیں جواس تنازع کوزندہ رکھتے ہیں اوراس آگ کوٹھنڈاہونے نہیں دیتے۔اس عارضی سکون کے باوجوداصل مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔ ایران کے نزدیک یہ ایک ایسا بندوبست ہے جس میں امریکابالادستی برقراررکھتے ہوئے جنگ سے گریزکرتے ہوئے دباؤڈال رہاہے،جوکہ ایک’’نرم جنگ‘‘ کی صورت اختیارکرچکاہے۔ ایران اسے ایک غیرمنصفانہ نظام سمجھتاہے۔جب تک وہ تمام عوامل جواس تنازع کی جڑ میں شامل ہیں،ان کاحل تلاش نہیں کیاجاتا،کسی بھی مفاہمت کی کامیابی مشکوک رہے گی۔
ایران کویہ اندیشہ لاحق ہے کہ اگرامریکاکم شدت کے ساتھ مسلسل دباؤبرقراررکھتاہے تویہ ایک مستقل پالیسی خطرناک حکمت عملی بن جائے گی۔اس صورت میں ایران کی علاقائی حیثیت بتدریج کمزور ہو سکتی ہے،جواس کے اسٹریٹجک مفادات کے خلاف ہے جس سے اس کے علاقائی مفادات کونقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔یہی خوف ایران کومزیدمحتاط اوربسا اوقات جارحانہ رویہ اختیارکرنے پرمجبورکرتا ہے۔
کسی بھی ملک کی قیادت کے لئے بیرونی تعلقات کاتعین کرتے وقت داخلی عوامل کونظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ہرریاست کی خارجہ پالیسی اس کی داخلی سیاست سے جڑی ہوتی ہے۔ ایران کی قیادت بھی اس حقیقت سے مستثنی نہیں۔ایران میں بھی عوامی جذبات، انقلابی ورثہ اور قومی وقارایسے عناصرہیں جوفیصلہ سازی کومتاثرکرتے ہیں۔ایرانی قیادت کے لئے یہ ایک نازک مرحلہ ہے۔اگروہ نرمی دکھاتی ہے توداخلی سطح پرکمزوری کاتاثرپیداہوسکتاہے،اوراگرسختی اختیارکرتی ہے توجنگ کاخطرہ بڑھ سکتاہے۔عوامی توقعات،انقلابی بیانیہ،اورقومی وقاریہ سب عوامل قیادت پردباؤڈالتے ہیں کہ وہ کسی بھی کمزوری کامظاہرہ نہ کرے۔یہ وہ باریک لکیرہے جس پرچلناہرقیادت کے بس کی بات نہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہاں کی قیادت کسی بھی کمزوری کاتاثردینے سے گریزکرتی ہے اورایران جنگ بندی کے باوجود سخت مؤقف اختیارکیے ہوئے ہے۔
اس پورے منظرنامے میں اسرائیل کاکردار نہایت اہم ہے اوروہ ایک فعال کرداراداکررہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اس جنگ بندی کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ اس کی حکمت عملی ایران کوعلاقائی طاقت کے طورپرا بھر نے سے روکناہے۔وہ ایران کوایک وجودی خطرہ سمجھتاہے اورکسی بھی ایسے انتظام یامعاہدے کوقبول کرنے کے لئے تیارنہیں جو ایران کو مضبوط کرے۔یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کوسبوتاژکرنے کی کوشش کرتاہے جوایران کے لئے فائدہ مندہو۔اس لئے وہ سفارتی کوششوں کوناکام بنانے کے لئے سرگرم رہتاہے۔اس کاہر قدم اس بات کی غمازی کرتاہے کہ وہ اس خطے میں طاقت کے توازن کواپنے حق میں رکھناچاہتا ہے۔جس کے لئے وہ ہروقت سفارتی کوششوں میں خلل ڈالنے کی حکمت عملی اپناتاہے تاکہ اپنے مفادات کاتحفظ کرسکے۔
اگرچہ اسرائیل کے پاس جدیدعسکری وسائل موجودہیں اوروہ ایک مضبوط عسکری طاقت ہے، مگرطویل جنگ اس کے لئے بھی ایک چیلنج ہے۔ اسرائیلی ماہرین خوداس حقیقت کااعتراف کرتے ہیں کہ وہ طویل جنگ تنہانہیں لڑسکتے،وہ تنہاایک طویل تنازع کابوجھ نہیں اٹھا سکتے۔اس کی عسکری طاقت اگرچہ نمایاں ہے،مگروسائل محدودہیں۔ اسلحہ،وسائل اورانسانی قوت یہ سب محدود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بیرونی حمایت،خصوصاً امریکاکی مدد پر انحصارکرتاہے۔اگرچہ امریکا ظاہر اسرائیل کی حمایت کرتا ے، لیکن بعض مواقع پر اس کے مفادات مختلف ہوسکتے ہیں۔ٹرمپ کااسرائیل کی کارروائیوں سے لاتعلقی ظاہر کرنااسی پیچیدگی کی عکاسی کرتاہے۔بعض مواقع پر امریکاوسیع ترعلاقائی استحکام کوترجیح دیتا ہے،جبکہ اسرائیل اپنی فوری سکیورٹی کو۔یہی تضادبعض اوقات پالیسی میں ابہام پیداکرتاہے اورپالیسی سازی میں پیچیدگی پیداکرتا ہے۔
یہ تصورکہ کشیدگی ہمیشہ منفی ہوتی ہے،مکمل طورپردرست نہیں۔بعض اوقات ریاستیں کشیدگی کو بطور حکمت عملی استعمال کرتی ہیں تاکہ اپنی پوزیشن مضبوط کرسکیں۔ایران بھی اسی اصول پرکاربنددکھائی دیتاہے۔ایران کے لئے محدودحملے ایک’’پیغام‘‘ہیں،نہ کہ مکمل جنگ کی تمہید۔ایران کی حکمت عملی سادہ ہے اوراس کی حکمت عملی کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اگردشمن کے لئے جنگ سستی ہے تواسے مہنگی بنادو ۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس کی قیمت بڑھائی جائے،اوروہ اسے بارباردہرائے گا۔یہی وجہ ہے کہ ایران اپنے اتحادیوں کے ذریعے خطے میں ایسی کارروائیاں کرتاہے جن سے مخالفین کوزیادہ نقصان کاخدشہ لاحق ہواورجومخالف کے لئے خطرات میں اضافہ کریں۔اس مقصد کے لئے وہ مختلف طریقوں سے ایسے حالات پیداکرتاہے۔یہ فلسفہ تاریخ میں کئی بارکامیاب ثابت ہواہے۔
امریکااس کھیل کاسب سے طاقتورکھلاڑی ہے اوراس تمام صورتحال میں امریکاکاکردارنہایت اہم اورکلیدی حیثیت رکھتاہے۔اگروہ چاہے توجنگ بندی کومضبوط بناسکتاہے، اور اگرنظراندازکرے تویہ لمحوں میں ٹوٹ سکتی ہے۔اس کااثرورسوخ ہی اس تنازع کی سمت کاتعین کرتاہے۔اس کے پاس وہ وسائل،اثرورسو خ اورطاقت موجودہے جواس تنازع کی سمت کاتعین کرسکتی ہے اگروہ سنجیدگی سے سفارت کاری کوفروغ دے اوراپنی طاقت کودانشمندی سے استعمال کرے توصورتحال بہتر ہو سکتی ہے،ورنہ کشیدگی میں اضافہ ناگزیرہے۔
تمام ترعوامل اس امرکی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ جنگ بندی ایک نازک دھاگے سے بندھی ہوئی ہے۔اگرسفارت کاری کومحض ایک پردہ سمجھاگیاتوایران اپنی حکمت عملی بدل سکتاہے،جس سے کشیدگی ایک نئے اورزیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے۔کسی ایک فریق نے بھی حدسے تجاوزکیاتویہ توازن بگڑسکتاہے۔ اگرفریقین نے احتیاط کادامن چھوڑدیاتویہ تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوسکتاہے،جوپہلے سے زیادہ پیچیدہ اورخطرناک ہوگا۔اس لیے سفارت کاری ہی واحدراستہ ہے،مگرشرط یہ ہے کہ اسے خلوصِ نیت سے اپنایاجائے۔فریقین نے اس کشیدگی کودانش مندی،حکمت،صبراوردوراندیشی سے نہ سنبھالاتویہ آگ نہ صرف خطے کوبلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔اگر فریقین نے صبر، تدبر اور بصیرت کاراستہ اختیارکیاتویہی بحران ایک نئے توازن اورپائیدارامن کی بنیادبھی بن سکتاہے اور سفارت کاری کوصدقِ دل سے اپنایاگیاتوشاید یہ تنازع ایک نئے توازن کی بنیادبن سکے وگرنہ بصورتِ دیگریہ خطہ ایک طویل بے چینی کی گرفت میں رہ سکتاہے۔
جب ہم اس تمام منظرنامے پرنظرڈالتے ہیں تویوں محسوس ہوتاہے کہ ہم ایک ایسے پل پرکھڑے ہیں جس کے ایک جانب تدبرکاراستہ ہے اوردوسری جانب تباہی کی کھائی۔حالات کی نزاکت اس امرکی متقاضی ہے کہ فیصلے جذبات کی بجائے بصیرت کے ساتھ کیے جائیں، کیونکہ طاقت کابے مہاراستعمال ہمیشہ آگ کوہوادیتاہے،جبکہ ضبط اورحکمت اسے راہ دکھاتے ہیں۔ یہ کشمکش ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دنیاکی بڑی لڑائیاں میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ارادوں،حکمت عملیوں اور ذہنی استقامت میں طے ہوتی ہیں۔اگرفریقین نے اپنی روش میں اعتدال پیدانہ کیاتویہ تناؤایک ایسے دائرے میں داخل ہوسکتاہے جہاں سے واپسی دشوارہوجائے گی لیکن اگردوراندیشی کورہنمابنایاجائے،تویہی بحران ایک نئے توازن کی بنیادبھی رکھ سکتاہے۔
فیصلہ اب بھی انسان کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے توتاریخ کوایک اورالمیے میں ڈھال دے،یااسے ایک نئی حکمت کی مثال بنادے۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں طاقت کے ساتھ شعور،اور مفادکے ساتھ انصاف کوہم آہنگ کرناناگزیرہے۔بصورتِ دیگر،جوآگ آج سرحدو ں تک محدود ہے،وہ کل انسانیت کے دامن تک پہنچ سکتی ہے۔او اگردانائی غالب آگئی، تو یہی کشیدگی کل امن کی ایک پائیدارتعبیرمیں بدل سکتی ہے۔