Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

ہنگور۔۔۔۔خاموش ضرب

دنیاکی تاریخ میں کچھ قوتیں ایسی ہوتی ہیں جواپنی نمودسے نہیں بلکہ اپنی عدمِ نمود سے پہچانی جاتی ہیں۔سمندرہمیشہ سے طاقت، خاموشی اوررازداری کا استعارہ رہاہے۔اس کی گہرائیوں میں وہ قوت پوشیدہ ہے جوبظاہرخاموش مگرحقیقت میں فیصلہ کن ہوتی ہے۔ اس کےباطن میں طاقت کی ایسی لہریں موجزن رہتی ہیں جوتاریخ کارخ بدل سکتی ہیں۔ آبدوزاسی باطنی قوت کی مجسم صورت ہےوہ ہتھیارجونظرنہیں آتامگرخوفناک اثر رکھتا ہے۔سمندرکی تہہ میں رواں آبدوزبھی انہی قوتوں میں شامل ہےایک ایسی خاموش نگہبان، جونظرنہ آنے کے باوجودفیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔پاکستان کے بحری افق پرنئی ہنگورکلاس آبدوزوں کاظہوراسی خاموش پوشیدہ قوت کے نئے عہدکااعلان اورموثر قوت کی علامتی تجدیدہےجس میں تاریخ کاتسلسل،سیاست کاشعوراور سائنس کی مہارت یکجاہوکرایک نئی حکمت عملی کوجنم دیتےہیں۔ایک ایساتسلسل جوماضی کے فخرکوحال کی ضرورت اور مستقبل کی حکمتِ عملی سے جوڑتاہےجہاں سائنس،حکمت عملی اورقومی ارادہ ایک نقطے پرمجتمع ہوتے ہیں۔
عسکری دنیامیں بعض نام محض شناخت نہیں بلکہ ’’نفسیاتی ہتھیار‘‘بن جاتے ہیں۔55برس بعد ’’ہنگور‘‘کی واپسی محض ایک عسکری پیش رفت نہیں بلکہ قومی حافظے کی تجدیدہے۔ ہنگورمحض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک علامت ہےایک ایسااستعارہ جو صبر ، مستور اوراچانک کاری ضرب کے مفہوم کواپنے اندرسموئے ہوئے ہے۔ نصف صدی کے بعداس نام کی بازیافت دراصل قومی عسکری شعورکی بازیافت ہے۔یہ ایک نفسیاتی تسلسل بھی ہے،جس کے ذریعے ماضی کی یادکوحال کی قوت میں ڈھالاجاتاہے تاکہ دشمن کے ذہن میں ایک خاموش ہیبت برقراررہے۔
1971ء کی جنگ میں ہنگورنے جس جرات اورمہارت سے دشمن کے جہازکونشانہ بنایا،وہ بحری تاریخ کاایک درخشاں باب ہے۔آج یہی نام ایک بارپھر خاموشی،صبر اورکاری ضرب کااستعارہ بن کرلہروں کے سینے پررقم ہو رہاہے۔ہنگورایساہی ایک نام ہے جودشمن کے ذہن میں غیرمرئی خطرے کااحساس پیداکرتاہے۔ جدیدجنگ میں نفسیاتی برتری بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے جتنی مادی طاقت،اوریہی نام اس پہلو کوتقویت دیتاہے۔
بین الاقوامی تعلقات میں عسکری تعاون محض ہتھیاروں کے تبادلے تک محدودنہیں رہتا بلکہ اس میں علم،مہارت اوراعتمادکی ترسیل بھی شامل ہوتی ہے۔اس منصوبے کے تحت حاصل ہونے والی آبدوزیں دراصل ایک وسیع ترصنعتی وتکنیکی اشتراک کی نمائندگی کرتی ہیں، جہاں ایک ملک کی انجینیئرنگ صلاحیت دوسرے ملک کی آپریشنل ضرورت سے ہم آہنگ ہو کر ایک نیانظام تشکیل دیتی ہے۔یہ آبدوزیں پاکستان اورچین کے اسٹریٹجک تعاون کا ثمر ہیں۔ جدیدسینسرز،سٹیلتھ ٹیکنالوجی اوراے آئی پی نظام سے مزین یہ منصوبہ محض دفاعی نہیں بلکہ صنعتی اورتکنیکی خودانحصاری کی جانب پیش قدمی ہے۔یہ منصوبہ اس حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ جدید جنگی نظام صرف خریدے نہیں جاتے بلکہ سیکھے اوراپنائے جاتے ہیں۔ مشترکہ انجینئرنگ،مشترکہ تربیت ، اورمشترکہ پیداواریہ تینوں عناصرکسی بھی دفاعی منصوبے کوپائیداربناتے ہیں۔ہرعسکری پیشرفت کےپیچھے ایک گہری ضرورت کارفرماہوتی ہے۔ سمندری راستے عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں،اوران پرکنٹرول یاان کاتحفظ کسی بھی ریاست کے لئےناگزیرہے۔ بدلتے ہوئے علاقائی حالات، بحری سرگرمیوں میں اضافہ، اورٹیکنالوجی کی برق رفتاری نے ایک نئی قسم کی تیاری کولازم کردیاہے ایسی تیاری جومحض ردعمل نہیں بلکہ پیش بندی ہو۔یہ سوال محض عسکری نہیں بلکہ جغرافیائی، سیاسی اورتکنیکی عوامل سے جڑا ہوا ہے۔ بحرِہندمیں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں ، علاقائی کشیدگی اورپرانی آبدوزوں کی فرسودگی نے اس ضرورت کو ناگزیربنادیا۔تاہم یہ اقدام کسی جارحانہ عزائم کا مظہر نہیں بلکہ ’’اسٹریٹجک توازن‘‘ برقراررکھنے کی کوشش ہے۔ سمندری حدودمیں بڑھتی ہوئی نگرانی ،تجارتی راستوں کاتحفظ،اورتوانائی کی ترسیل یہ سب عوامل ایسی قوت کا تقاضا کرتے ہیں جو خاموش مگرمؤثرہو۔
آبدوزوں کی دنیا میں توانائی کاذریعہ ان کی اصل شناخت متعین کرتا ہے۔ چھ نظام محدود وسائل کے ساتھ کام کرتے ہیں،کچھ جدیدکیمیائی یا مکینیکل طریقوں سے اپنی خودمختاری بڑھاتے ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جوطویل المدتی توانائی کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ تقسیم دراصل ان کی آپریشنل حکمتِ عملی کومتعین کرتی ہے۔ قارئین کے لئے موجودہ دورمیں آبدوزوں کی اقسام کی وضاحت بھی ضروری ہےتاکہ آئندہ زمانے میں سمندری دفاع کی ضرورتوں کاادراک ہوسکے۔عام قاری کے لئے یوں سمجھ لیجیے،کچھ آبدوزیں ’’سانس لینے‘‘کے لئے اوپرآتی ہیں،کچھ زیادہ دیرتک چھپی رہتی ہیں اور چھ تقریبا ہمیشہ زیرِ آب رہ سکتی ہیں۔یہ فرق دراصل ان کے توانائی کے نظام سے پیدا ہوتا ہے۔گویا آبدوزوں کی تین بنیادی اقسام ہیں جن کو ان کے پروپلشن نظام کے لحاظ سے تقسیم کیاجاتاہے ۔ پہلاہے ڈیزل الیکٹرک،دوسرااے آئی پی اور تیسر ااور آخری جوہری آبدوزیں ہیں۔
جدیدبحری قوتوں کے پاس موجودجوہری آبدوزیں ایک مستقل موجودگی کااحساس پیداکرتی ہیں۔ ان کی دوبنیادی اقسام ایک جارحانہ کارروائیوں کے لئے اوردوسری دورمار دفاعی صلاحیت کےلئےدراصل عالمی طاقت کے توازن میں کلیدی کرداراداکرتی ہیں۔یہ آبدوزیں ایک طرح کی خاموش بازڈیٹرنس ہوتی ہیں۔ جوہری آبدوزیں ایک ایسے محافظ کی مانند ہیں جوکبھی سوتی نہیں۔ان کی رفتارزیادہ،قیام طویل اور کارروائی کادائرہ وسیع ہوتاہے،مگران کی لاگت اور پیچیدگی بھی اسی قدرزیادہ ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایس ایس این (حملہ آور)اورایس ایس بی این(بیلسٹک میزائل بردار)آبدوزیں عالمی طاقتوں کی جوہری حکمتِ عملی کاستون ہیں۔
1960ء کی دہائی میں ٹینچ کلاس آبدوزوں سے شروع ہونے والاسفر،ڈیفنے اوراگوسٹا کلاس سےگزرتاہوااب ہنگورکلاس تک پہنچاہے ۔اگراس سفرکی ارتقائی داستان بیان کی جائے توپاکستان کابحری سفرایک سادہ آغازسے شروع ہوکرتدریجی ارتقاکے مراحل سے گزرا ہے۔ ابتدامیں بیرونی انحصار،پھر مرمت کی مہارت، اوربعدازاں جزوی خودکفالت یہ تمام مراحل ایک قومی ادارے کی بلوغت کی کہانی بیان کرتے ہیں۔وقت کے ساتھ پاکستان نے نہ صرف آبدوزیں چلاناسیکھابلکہ ان کی دیکھ بھال،اپ گریڈیشن اورجزوی تیاری کی مہارت بھی حاصل کی جوکسی بھی بحری قوت کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔بین الاقوامی معاہدے صرف کاغذی کارروائی نہیں ہوتے بلکہ وہ مستقبل کی سمت کاتعین کرتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی سیاست پیچیدہ ہورہی تھی،ایک طویل المدتی بحری منصوبے پراتفاق دراصل دوراندیشی اورسفارتی بصیرت کامظہرتھا۔طویل المدتی دفاعی منصوبے دراصل آنے والی دہائیوں کی ضرورت کومدنظر رکھ کربنائےجاتے ہیں۔یہ فیصلہ بھی اسی سوچ کاعکاس ہے۔شی جن پنگ کے2015ء کے دورہ پاکستان کے دوران اس منصوبے کی بنیادرکھی گئی،آٹھ آبدوزوں کامعاہدہ،جس میں نصف مقامی تیاری شامل ہے۔
نئی آبدوزوں کےڈیزائن میں صوتی انجینئرنگ، ہائیڈروڈائنامکس اورمٹیریل سائنس کاحسین امتزاج نظر آتاہے۔ہنگورکلاس آبدوزکےڈیزائن، ساخت کی جدت کے ساتھ یہ جدید سونار ،ریڈار ،اوپٹرونکس اورکم شور پیداکرنے والی ٹیکنالوجی سے لیس ہیں یعنی’’نظرنہ آنا ہی اصل طاقت ہے‘‘۔ہنگورآبدوزکی ساخت اس طرح ترتیب دی جاتی ہے کہ پانی کی مزاحمت کم سے کم ہو۔آبدوزکاجسم اس طرح بنایاجاتاہے کہ وہ پانی کو چیرنے کی بجائے اس میں ’’گھل‘‘ جائے۔یہی وجہ ہے کہ اس کی شکل گولائی لیے ہوتی ہے،اور اس کی سطح خاص موادسے ڈھکی ہوتی ہے۔بیرونی سطح پرخاص مواداستعمال کیاجاتاہے جو شورپیداہونے کے امکانات کوانتہائی محدوداور آوازکو جذب کرلیتاہے۔ یہ آبدوزیں ایک طرح سے’’سمندری جاسوس‘‘بھی ہوتی ہیں آبدوزکاکردارصرف جنگی کارروائی تک محدود نہیں ہوتابلکہ خاموشی سے نگرانی اورمعلومات اکٹھی کرناانکااہم فریضہ ہے۔یہ دشمن کی نقل وحرکت کاسراغ لگاتی ہے، سمندری حدودکی نگرانی کرتی ہے اورایک غیر مرئی حفاظتی دیوا قائم کرتی ہے۔گویایہ صرف ہتھیارنہیں بلکہ ’’خاموش محافظ‘‘ہیں دشمن کی نقل وحرکت پرنظر،سمندری راستوں کاتحفظ اورخفیہ معلومات کاحصول سمجھی جاتی ہیں۔
جدیدآبدوزی ٹیکنالوجی میں ایک ایسانظام ایئرانڈیپنڈنٹ پروپلشن متعارف ہواہے۔یہ نظام دراصل توانائی کے متبادل ذرائع یعنی بیرونی فضا پرانحصارکوکم کرکے آبدوزکوطویل مدت تک زیرِآب متحرک اورسطحِ آب سے بے نیازکردیتا ہے۔یہ ٹیکنالوجی آبدوزکوہفتوں بلکہ مہینوں تک زیرِآب رہنے کی صلاحیت دیتی ہے،جس سے اس کی بقااور کارکردگی میں غیرمعمولی اضافہ ہوتا ہے۔ جس سے اس کی بقااور مؤثریت میں غیرمعمولی اضافہ ہوتاہے۔سادہ لفظوں میں یہ نظام آبدوز کو ’’سانس لیے بغیر‘‘طویل عرصے تک پانی کے اندر رہنے کے قابل بناتاہے۔تکنیکی طورپر،یہ ایندھن کے خلیوں یابندسائیکل انجنوں کے ذریعے توانائی پیداکرتاہے۔
اصل برتری صرف چھپنے میں نہیں بلکہ طویل عرصے تک مثررہنے میں ہے۔سٹیلتھ ہنگورکلاس اسی فلسفے’’خاموشی میں تسلسل ‘‘کی عملی تعبیر ہے۔سٹیلتھ محض کم شورپیداکرنے کانام نہیں بلکہ ایک مکمل انجینیئرنگ فلسفہ ہے۔ہرآبدوزکی ایک ’’آواز‘‘ہوتی ہے،جس طرح ہرانسانی آوازمنفرد ہوتی ہے۔جدیدآبدوزوں میں اس آوازکوکم کرنے کے لئے اس میں مشینری کو نجن سے الگ تھلگ خصوصی ماؤنٹس پر رکھاجاتا ہے۔ پروپیلر بلیڈ کی ایک خاص جیومیٹری ہوتی ہے۔ پروپرائلر کے ڈیزائن کواس اندازمیں بنایاجاتاہے کہ کاویٹیشن کم سے کم ہو، اور ہل کی شکل اس طرح ترتیب دی جاتی ہے کہ پانی کے بہاؤمیں خلل پیدانہ ہو۔یہ تمام عوامل مل کرایک’’صوتی پوشیدگی‘‘یعنی سونارکا پتہ لگانامشکل بنادیتے ہیں۔۔
جدید آبدوزوں میں ہتھیارصرف نصب نہیں ہوتے بلکہ ایک مربوط نظام کے طورپرکام کرتے ہیں ۔ ہیوی ویٹ ٹارپیڈوز،اینٹی شپ میزائل، جدیدوار ہیڈز،اورملٹی اسپیکٹرم سینسرزیہ سب مل کر ایک ’’سمندری شکاری‘‘کی تشکیل کرتے ہیں۔ فائر کنٹرول سسٹم، ٹارگٹ ٹریکنگ الگورتھم، اور گائیڈنس سسٹم مربوط ہیں۔ ٹارپیڈو میں فعال اور غیرفعال ہومنگ کی صلاحیتیں ہوتی ہیں، ٹارپیڈوکویوں سمجھیں جیسے پانی کے اندرچلنے والاخودکار میزائل ہے۔جدید ٹارپیڈوزخودہدف تلاش کرتے ہیں،رفتاراورگہرائی بدل سکتے ہیں۔دھوکہ دینے والے سگنلزکو پہچان سکتے ہیں جبکہ میزائل لانچ کے بعدنیویگیشن اورٹرمینل گائیڈنس کے ذریعے اپنے اہداف تک پہنچ جاتے ہیں۔اسی طرح کروز میزائل سطح کے اہداف کودور سے نشانہ بناسکتے ہیں۔
نئی آبدوزیں نہ صرف پرانی کامتبادل ہیں بلکہ مجموعی صلاحیت،رفتار،رینج اورفیصلہ سازی کی بہترین کارکردگی میں کئی گنااضافہ کرتی ہیں۔ آبدوزوں میں مختلف قسم کے سینسرزفیوژن ہوتے ہیں،جوآبدوز کے کان اورآنکھوں کاکام کرتے ہیں،۔یہ دیگرسینسرزسے ڈیٹا اکٹھاکرکے مرکزی نظام میں تجزیہ کرتے ہیں لیکن اصل چال یہ ہے کہ ان سب کوایک نظام میں جوڑ دیا گیاہے اورحاصل کردہ معلومات کوشوراورسگنل کے درمیان فرق کرنے کے لئے الگورتھم کے ذریعے فلٹرکرکے غیرضروری شورکوالگ کرتاہے۔گویایہ ایک واضح حکمت عملی کی تصویر بناتاہے اورکمانڈرکوحقیقی وقت میں درست فیصلے کرنے میں مددکرتاہے۔
ہرآبدوزکی ایک محدودآپریشنل عمرہوتی ہے، جو اس کی ہل کی سا لمیت،سنکنرن مزاحمت اور تھکاوٹ کی حدودپرمنحصرہوتی ہے۔آبدوزپر پانی کادباؤ بہت زیادہ ہوتاہے۔مثال کے طور پر300میٹر کی گہرائی میں دباؤسینکڑوں ٹن فی مربع میٹرہوسکتاہے ۔ اس لئے طویل مدتی دبا کوبرداشت کرنے کے لئے خصوصی مرکبات استعمال کیے جاتے ہیں، لہذااعلیٰ طاقت سٹیل استعمال کیاجاتاہے، ویلڈنگ اعلیٰ ترین معیار کی ہے اور وقتاً فوقتاًمعائنہ ضروری ہے۔اس کے باوجودوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ خوردبینی دراڑیں پیداکرسکتے ہیں،جن کی مرمت کرنا ایک پیچیدہ عمل ہیک یونکہ35سال سے زائدپرانی آبدوزیں اپنی عمر پوری کرچکی تھیں۔نئی ہنگورکلاس محض اضافہ نہیں بلکہ ایک ناگزیرتبدیلی ہے۔
بحرہند میں مختلف بحری افواج اپنی متعلقہ ٹیکنالوجیزکے ساتھ پیچیدہ توازن برقراررکھتی ہیں۔ رفتار، اسٹیلتھ،ہتھیاروں کی حد،اورپتہ لگانے کی صلاحیتیں یہ تمام تکنیکی عوامل مل کرایک ایساماحول بناتے ہیں جہاں برتری کاتعین صرف تعدادسے نہیں،بلکہ معیارسے ہوتاہے۔جدیدبحری جنگ میں،تعدادواحدعنصرنہیں ہے، لیکن خاموشی،پتہ لگانے کی حد،ہتھیارکی درستگی،یہ عناصر فیصلہ کن ہیں۔ علاقائی تناظر میں پاکستان نیوی خطے کی قدیم ترین آبدوزآپریٹرہے۔علاقائی توازن برقرار رکھنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کاحصول اس کی روایت کا تسلسل ہے۔
علاقے سے انکار کامطلب دشمن کومکمل طورپر روکنانہیں ہے،بلکہ اس کے لئے کسی مخصوص علاقے میں داخل ہونے کواتناخطرناک بناناہے کہ وہ خودہی اس سے بچ جائے۔خطرہ بننے سے پہلے روک دینا یہ دفاعی حکمتِ عملی دشمن کوقریب آنے سے روکنے پرمبنی ہے۔ہنگور کلاس اس نظریے کوتقویت دیتی ہے۔اس حکمتِ عملی کو یوں سمجھیں جیسے کسی راستے پرایساخطرہ پیداکردیا جائے کہ کوئی وہاں آنے کی جرأت نہ کرے۔اس کے لئے آبدوزوں کوچوک پوائنٹس،شپنگ لین اوراسٹریٹجک کوریڈورز میں تعینات کیاجاتاہے تاکہ دشمن کی نقل وحرکت کو محدود کردیاجائے۔یہ آبدوزیں خفیہ کارروائیوں، انٹیلی جنس اورسمندری دفاع میں ایک نئی جہت پیداکرتی ہیں۔آبدوزوں اورہیڈ کوارٹرکے درمیان مواصلات ایک بڑاچیلنج ہے کیونکہ پانی کے اندربات کرنامشکل ہوتاہے اورریڈیولہریں بھی غیرمؤثرہوتی ہیں۔اس کے لئے انتہائی کم فریکوئنسی(ای ایل ایف) یابہت کم فریکوئنسی(وی ایل ایف)سگنلز استعمال کیے جاتے ہیں، جومحدود معلومات منتقل کرتے ہیں لیکن خفیہ رہتے ہیں۔
کسی بھی آبدوزکے بیڑے کی کامیابی اوراس کے پس پردہ نظام کاانحصارنہ صرف اس کی ٹیکنالوجی پرہوتاہے بلکہ اس کی سپلائی چین پربھی ہوتاہے۔ مرمت کے مراکز،اسپیئرپارٹس کی دستیابی، دیکھ بھال کی سہولیات اورتربیت یافتہ افرادکی دستیابی ایک مسلسل عمل ہے، جس کے بغیرجدید ترین نظام بھی ناکارہ ہوسکتاہے۔ ماضی کی پابندیوں نے یہ سبق دیاکہ دفاعی خودمختاری کے لئے قابلِ اعتماد اتحادی ضروری ہیں۔چین اس تناظرمیں ایک مضبوط ستون ہے۔جب کوئی ملک آبدوزبنانے کی جزوی یامکمل صلاحیت سیکھ لیتاہے تویہ صرف فوجی کامیابی نہیں بلکہ صنعتی انقلاب ہے۔یہ دھات کاری، الیکٹرانکس،سافٹ ویئرانجینئرنگ اورسسٹم انٹیگریشن جیسے شعبوں میں ترقی کاباعث بنتاہے۔سائنسی تحقیق کوفروغ ملتا ہے اور ملک میں روزگارپیداہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ کراچی شپ یارڈمیں تیاری،انجینیئرزکی تربیت،اورمقامی مہارت کافروغ یہ سب اس منصوبے کومحض خریداری سے بڑھاکر ایک’’قومی سرمایہ‘‘بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔آبدوزوں کامستقبل مزید خود کار نظاموں،مصنوعی ذہانت اوربغیرپائلٹ کے زیرآب گاڑیوں کی طرف بڑھ رہاہے۔ہنگورکلاس جیسے منصوبے اس مستقبل کی بنیادہیں،جہاں انسان اورمشین کاامتزاج ایک نئی بحری حکمت عملی کوجنم دے گا۔
آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت، بغیر پائلٹ ذہین آبدوزیں،خودمختارفیصلہ سازی میں اہم کرداراداکریں گی۔نصف صدی پہلے ہنگور ایک کارنامہ تھا،آج ایک نظریہ ہے، خاموشی میں طاقت،صبرمیں حکمت،اورگہرائی میں برتری۔یہ آبدوزصرف ایک ہتھیارنہیں بلکہ پاکستان کی بحری خودمختاری،تکنیکی ترقی اوراسٹریٹجک بصیرت کامظہر ہے۔سمندرکی گہرائیوں میں حرکت کرتی ہوئی آبدوزایک ایسی خاموش نظم ہے جس کاہرمصرعہ حساب،ہرلفظ توازن اورہروقفہ حکمت سے لبریز ہوتاہے۔اس نظم کاایسانیا باب ہے جس میں تاریخ کی بازگشت،ماضی کی جرأت،حال کی ضرورت اورمستقبل کی امیدایک ساتھ سنائی دیتی ہے۔تاریخ کے افق پربعض نام محض الفاظ نہیں ہوتے،وہ عہدہوتے ہیں۔ہنگورکلاس آبدوزیں دراصل ایک خاموش انقلاب کی علامت ہیںایساانقلاب جوشورنہیں کرتا مگر اثر رکھتاہے۔یہ فولادکی ساخت سے بڑھ کرایک نظریہ ہے، ایک حکمت ہے،اور ایک ایسی قوت ہے جونظرنہ آکربھی تاریخ کادھاراموڑ سکتی ہے۔
ہنگوریہ محض فولادکاڈھانچہ نہیں بلکہ ایک فکری جہت،ایک قومی عزم اورایک تکنیکی خواب کی تعبیرہے ،سمندرکی خاموشی میں گونجتی یہ بازگشت دراصل ایک قوم کے عزم کی آوازہے۔یہ آبدوزیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اصل طاقت ہمیشہ ظاہرنہیں ہوتی،وہ اکثر گہرائی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں