مشرقِ وسطیٰ کا طوفان
اگراس جنگ کوصرف ایران اوراسرائیل کے درمیان ایک عسکری تصادم کے طورپردیکھاجائے تو شاید اس کی اصل نوعیت سمجھ میں نہ آئے۔حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی تقریباًہربڑی جنگ دراصل علاقائی اورعالمی طاقتوں کے درمیان طاقت کے
اگراس جنگ کوصرف ایران اوراسرائیل کے درمیان ایک عسکری تصادم کے طورپردیکھاجائے تو شاید اس کی اصل نوعیت سمجھ میں نہ آئے۔حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی تقریباًہربڑی جنگ دراصل علاقائی اورعالمی طاقتوں کے درمیان طاقت کے
دنیاکی تاریخ ہمیں بارباریہ سبق سکھاچکی ہے کہ طاقت،شہرت یاذاتی جذبات کے ہاتھوں کئے گئے فیصلے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پرنہ صرف اثرڈال سکتے ہیں بلکہ جلدبازی، غروراورذاتی رنجشیں انسانیت کے لئے قیامت کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔ دنیا
(گزشتہ سے پیوستہ) چین کی تیزرفتارعسکری ترقی اورفرانس کااپنے جوہری پروگرام کووسعت دینے کاارادہ دراصل اس بات کاثبوت ہے کہ طاقت کی سیاست میں اخلاقیات کی گنجائش محدودہوتی جارہی ہے۔جب بڑے ممالک خوداس دوڑمیں شامل ہوں توچھوٹے ممالک کے لئے
(گزشتہ سے پیوستہ) یہ بحران کسی ایک لمحے کانتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل سلسلہ غلط فیصلوں کاحاصل ہے۔مذاکرات جاری تھے،امکانات موجودتھے، سفارتی راستے کھلے تھے، مگر طاقت کے نشے نے تدبرکی راہوں کو مسدود کر دیا۔ یہاں یہ حقیقت سامنے
انسانی تاریخ کے طویل وپیچیدہ سفرمیں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جومحض واقعات نہیں ہوتے بلکہ تقدیرکے دھارے کوموڑدینے والے سنگِ میل بن جاتے ہیں۔یہ وہ ساعتیں ہوتی ہیں جب زمانہ خوداپنے آپ سے سوال کرتاہے،جب تہذیب اپنے آئینے میں
(گزشتہ سے پیوستہ) غزہ اوردیگرتنازعات میں اسرائیل کی کارروائیوں نے اسے عالمی قانونی فورمزکے کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔عالمی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت جیسے ادارے اب اس کے اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔مگراس سب کے باوجود
عین قرینِ قیاس ہے کہ امریکا،اسرائیل اورایران کے مابین برپاحالیہ کشمکش کواس نوخیزعالمی نظام کی اولین بڑی تمہیدی جنگوں میں شمارکیاجائے جوابھی اپنی ہیئت وماہیت متعین کرتے ہوئے اپنی فکری اورعملی تشکیل کے مراحل سے گزررہاہے۔ تاریخ کاچلن یہ رہاہے
(گزشتہ سے پیوستہ) پاکستان کی جانب سے بظاہرخاموشی اختیار کرنا ایک معنی خیزحکمت عملی اوردانشمندانہ سکوت معلوم ہوتا ہے، جس میں شایدغوروفکر کی گونج پوشیدہ ہے۔ سفارتکاری میں بعض اوقات خاموشی ہی سب سے بلیغ بیان ہوتی ہے اورالفاظ سے
عالمی سیاست کے افق پرجب کشیدگی کے بادل چھٹنے لگتے ہیں توسفارت کاری کے چراغ ازخود روشن ہوجاتے ہیں۔عالمی سیاست کے پیچیدہ اور پرآشوب منظرنامے میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب کشیدگی کے بادل چھٹنے لگتے ہیں اورافق
(گزشتہ سے پیوستہ) ایران کاپراکسی نیٹ ورک،جس میں حزب اللہ،حوثی،حماس اوردیگرگروہ شامل ہیںاس کی ’’فارورڈ ڈیفنس حکمت عملی‘‘ کابنیادی جزو اورجنگی حکمت عملی کا ستون ہیں۔ یہی وہ جال ہے جس کے ذریعے ایران اپنے دشمنوں کودورسے الجھائے رکھتاہے،اوربراہِ راست