’’چاردن،ایک صدی کاسبق‘‘
(گزشتہ سے پیوستہ) پاکستانی عسکری قیادت نے واضح کردیاہے کہ مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنزپرمشتمل ہوں گی۔اس کامطلب یہ ہے کہ جنگ بیک وقت مختلف میدانوں میں لڑی جائے گی، سائبر ،فضا،زمین اور خلا تک، یہ تصورایک ہمہ جہت
(گزشتہ سے پیوستہ) پاکستانی عسکری قیادت نے واضح کردیاہے کہ مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنزپرمشتمل ہوں گی۔اس کامطلب یہ ہے کہ جنگ بیک وقت مختلف میدانوں میں لڑی جائے گی، سائبر ،فضا،زمین اور خلا تک، یہ تصورایک ہمہ جہت
(گزشتہ سے پیوستہ) چنانچہ جب دفاعی بجٹ میں بیس فیصد اضافہ کیاگیااوراسے 2550ارب روپے تک پہنچایا گیاتویہ فیصلہ محض عسکری اداروں کے لئے وسائل کی فراہمی نہ تھا بلکہ ایک اجتماعی عزم کااظہاراور توانا پیغام تھاکہ ہم اپنے تحفظ کی
(گزشتہ سے پیوستہ) دفاعی تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ 88 گھنٹوں کی جنگ دراصل ایک ریفرنس پوائنٹ،ایک حوالہ بن چکی ہے،ایک ایسانمونہ جس کی روشنی میں مستقبل کی جنگوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔اس جنگ نے دنیاکوایک بارپھریاددلایاکہ
تاریخ کے سینے میں بعض واقعات ایسے ثبت ہوجاتے ہیں جومحض وقتی معرکے نہیں رہتے بلکہ ایک عہدکی علامت بن جاتے ہیں۔مئی کی چار روزہ پاک وہندجنگ بھی اسی نوع کا ایک باب ہے ،مختصر،فیصلہ کن،محدودمگراثرانگیز۔یہ وہ لمحہ تھاجب دنیانے
(گزشتہ سےپیوستہ) ہم نے اپنی تاریخ میں ایک بڑی غلطی کی،ہم نے اتھارٹی کوپھیلادیا۔ہم نے حدیث کو،فقہ کو،تصوف کو،حتی کہ تاریخ کوبھی اتھارٹی بنا لیا،سب کوفیصلہ کن درجہ دے دیا۔نتیجہ؟ مرکز دھندلاگیا، اوراطراف نمایاں ہوگئے۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ
(گزشتہ سےپیوستہ) عالمی میڈیاکے ذرائع کی اطلاعات اس تاثرکومزیدمضبوط اورتصدیق کرتی ہیں کہ اصل مذاکرات جاری ہیں۔فاصلے کم ہیں،اورایک مرحلہ وارمعاہدہ تشکیل پارہاہے۔یعنی وہی تصور جوایران نے پیش کیا،اورجسے امریکی تجزیہ کاربھی تسلیم کررہے ہیں۔یہ وہ دنیاہے جہاں اصل فیصلے
(گزشتہ سےپیوستہ) مگرتاریخ کامزاج بھی ایک بے قرارشاعرکی مانند فکرمیں مبتلاہے،وہ کسی ایک مصرعے پرٹھہرتانہیں۔ جولمحہ سب سے زیادہ یقینی دکھائی دیتاہے،وہی اکثرسب سے زیادہ لغزش آمادہ ہوتاہے۔وہ میز،جوایک معاہدے کی گواہ بننے والی تھی،خاموشی سے اٹھالی گئی۔یوں لگا جیسے
تاریخ کے اوراق میں بعض لمحات ایسے ثبت ہوجاتے ہیں جوبظاہرمختصرہوتے ہیں مگراپنے اندر صدیوں کی کشمکش،تہذیبوں کی آویزش اورطاقت کے توازن کی پوری کہانی سمیٹے ہوتے ہیں۔یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب زمانہ اپنی رفتارکچھ دیرکوتھام لیتاہے،اوردنیا کے بڑے
(گزشتہ سے پیوستہ) جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران کی اعلی قیادت کونشانہ بنایاگیا،جس کے نتیجے میں ایک بڑا خلا پیدا ہوا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کا نیا رہبراعلیٰ انتخاب ایک نئے سیاسی دورکاآغازثابت ہوا۔
(گزشتہ سے پیوستہ) امریکانے دعوی کیاکہ اس نے ایران کے ہزاروں اہداف کوتباہ کردیاہے،مگرزمینی حقیقت اس سے مختلف دکھائی دی۔ایران کی جوابی کارروائیاں اس بیانیے کوچیلنج کرتی رہیں۔ ایران نے اپنی جوابی کارروائیو ں،میزائل حملوں اوراتحادی نیٹ ورکس کے ذریعے