تاریخ کے اوراق میں بعض لمحات ایسے ثبت ہوجاتے ہیں جوبظاہرمختصرہوتے ہیں مگراپنے اندر صدیوں کی کشمکش،تہذیبوں کی آویزش اورطاقت کے توازن کی پوری کہانی سمیٹے ہوتے ہیں۔یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب زمانہ اپنی رفتارکچھ دیرکوتھام لیتاہے،اوردنیا کے بڑے فیصلے بندکمروں میں سرگوشیوں کی صورت جنم لیتے ہیں۔ سفارت کاری کی یہی خاموش سرگوشیاں بعدازاں اقوام کے مقدر کی بلندآوازتعبیربن جاتی ہیں۔ عصرِحاضر کی بین الاقوامی سیاست بھی ایسے ہی ایک نازک موڑسے گزررہی ہے جہاں قوت،مفاد،انااور مجبوری ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہوچکے ہیں کہ ان کی حدِفاصل کو متعین کرناآسان نہیں رہا۔
یہ عہدمحض عسکری برتری کانہیں،بلکہ بیانیے کی قوت کاعہدہے؛جہاں الفاظ گولہ وبارودسے زیادہ اثررکھتے ہیں،اورخاموشی بعض اوقات سب سے بلنداعلان بن جاتی ہے۔عالمی طاقتیں اب محض میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ سفارتی میزوں،معاشی پابندیوں،اورابلاغی حکمتِ عملیوں کے ذریعے اپنی برتری منوانے کی کوشش کررہی ہیں۔ اس تناظرمیں مشرقِ وسطیٰ ایک بارپھرتاریخ کے اسٹیج پرمرکزی کردارکے طورپرابھراہے ،ایک ایساخطہ جہاں ہرقدم پرماضی کی پرچھائیاں اورمستقبل کے خدوخال ایک دوسرے سے ہم آغوش دکھائی دیتے ہیں۔
یہاں ہونے والی ہرپیش رفت محض علاقائی اہمیت نہیں رکھتی،بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت،توانائی کے بہا،اورسیاسی اتحادوں کی تشکیلِ نوتک پھیل جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں جاری کشمکش کومحض ایک جنگ یاتنازع کے طورپرنہیں دیکھاجاسکتا، بلکہ یہ ایک وسیع ترعالمی بیانیے کاحصہ ہے جس میں ہرفریق اپنی بقا،برتری اورشناخت کے لئے کوشاں ہے۔اس بیانیے میں کہیں مزاحمت کارنگ غالب ہے،کہیں مفاہمت کی جھلک،اورکہیں طاقت کے اظہارکی گونج۔پاکستان جیسے ممالک کے لئے یہ صورتحال ایک آزمائش بھی ہے اور ایک موقع بھی۔آزمائش اس لیے کہ عالمی سیاست کے اس پیچیدہ جال میں اپنی خودمختاری اوروقارکوبرقرار رکھناآسان نہیں،اورموقع اس لئے کہ بدلتے ہوئے حالات میں ایک فعال اورمؤثرکرداراداکرکے اپنی سفارتی حیثیت کومستحکم کیاجاسکتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں قومی حکمتِ عملی،قیادت کی بصیرت،اورتاریخی شعورکاامتحان ہوتا ہے۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں سے مصالحتی مذاکرات کی تکونی میزپرآمنے سامنے بیٹھنے کی بجائے مذاکرات بیک ڈورچینل پر سلجھانے کی سرتوڑکوششیں جاری ہیں لیکن ٹرمپ کے بیانات بہت سے ڈرامائی موڑلئے عالمی توجہ کامرکز بن چکاہیں۔ آج کامضمون اسی پیچیدہ منظرنامے کاایک تجزیاتی اورفکری مطالعہ ہے،جس میں واقعات کے ظاہری تسلسل کے پیچھے کارفرماقوتوں،محرکات اور امکانات کوسمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ محض خبری روداد نہیں،بلکہ ایک ایسافکری سفرہے جوہمیں یہ بتاتاہے کہ دنیاکی بساط پرکھیلے جانے والے کھیل میں اصل داؤکیاہے،اورکن اصولوں کے تحت یہ کھیل آگے بڑھ رہاہے۔
اسلام آبادکی فضاؤں میں اس روزایک عجیب سی سنجیدگی گھلی ہوئی تھی۔جب سریناہوٹل کے اس خاموش کمرے میں رکھی وہ تکونی میزجومحض ایک لکڑی کاایک ڈھانچہ یافرنیچرنہ تھی، بلکہ تاریخ کے ممکنہ دھارے کاایک سنگِ میل اورعہدِ حاضرکی سفارت کاری کاایک مجسم استعارہ بننے کی منتظرتھی۔اگرتاریخ کوکبھی شکل دی جاسکتی،توشاید وہ اسی میزکی صورت اختیار کرتی ،تین زاویوں پر کھڑی،مگرایک مرکزکی اسیر؛تین قوتوں کی نمائندہ،مگر ایک توازن کی متلاشی۔یہ میزکسی معمولی ہنرمندکے ہاتھوں کی تراشیدہ نہ تھی،بلکہ وقت کے کندن سے ڈھلی ہوئی ایک علامت تھی،جس کے ہرکنارے پرایک تہذیب،ایک سیاست،اورایک خواب آکرٹھہر گیا تھا۔
تین کنارے،تین کرسیاں،اورتین جھنڈے، گویا دنیاکے تین زاوئیے ایک نقطے پرسمٹ آئے ہوں۔اس منظرمیں ایک علامتی جاذبیت تھی، جیسے تقدیرخوداپنے دستخط کے لئے ٹھہرگئی ہو۔ یہاں امریکا،ایران،اورپاکستان صرف ریاستیں، نہ تھیں؛یہ تین بیانیے تھے،طاقت، مزاحمت، اورمصالحت کے۔اس میز کی ساخت میں ایک عمیق فلسفہ پوشیدہ تھا:دائرہ وحدت کی علامت ہے،مربع استحکام کی،مگر تکون کشمکش اورتوازن کااستعارہ ہے۔گویا اس میزنے خوداعلان کردیاتھاکہ یہاں ہونے والامکالمہ سیدھاسادہ نہ ہوگا،بلکہ زاویوں،تضادات اور مفاہمتوں کاایک پیچیدہ جال ہوگا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیرکااس میزکامعائنہ کرنامحض ایک عسکری افسرکی رسمی کارروائی نہ تھی،بلکہ یہ اس امرکی تصدیق تھی کہ پاکستان اس عالمی کھیل میں محض ایک مہرہ یاتماشائی نہیں،بلکہ تاریخ کاشریکِ مصنف اوربساط کاایک اہم ستون بن چکاہے۔ان کی نگاہ گویامیزکی لکڑی پرنہیں،بلکہ اس کے ممکنہ نتائج پرمرکوزتھی،وہ نتائج جونہ صرف خطے بلکہ پوری دنیاکے سیاسی نقشے کوبدل سکتے تھے بلکہ بات توہزاروں سال وجودمیں آنے والی تہذیب کے حامل ملک ایران کوپتھرکے دورمیں پہنچانے کی دھمکیوں سے گونج رہی تھی۔
یہ منظرکسی حدتک ہمیں ماضی کے ان تاریخی لمحات کی یاددلاتاہے جب چھوٹے کمروں میں بڑے فیصلے ہوئے ،چاہے وہ کیمپ ڈیوڈ ہو،اوسلوہو یاڈیٹن ۔ مگراسلام آبادکی اس میزمیں ایک اضافی جہت تھی:یہ صرف طاقت کے توازن کی نہیں،بلکہ تہذیبی خوداعتمادی کی بھی علامت تھی۔یہ اس بات کااعلان تھی کہ اب فیصلے صرف مغرب کے ایوانوں میں نہیں ہوں گے،بلکہ مشرق بھی اپنی آواز،اپنی جگہ،اور اپنی شرائط کے ساتھ سامنے آئے گا۔
(جاری ہے)