Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

خاک و خون سے ابھرتی ہوئی نئی دنیا

(گزشتہ سے پیوستہ)
امریکانے دعوی کیاکہ اس نے ایران کے ہزاروں اہداف کوتباہ کردیاہے،مگرزمینی حقیقت اس سے مختلف دکھائی دی۔ایران کی جوابی کارروائیاں اس بیانیے کوچیلنج کرتی رہیں۔ ایران نے اپنی جوابی کارروائیو ں،میزائل حملوں اوراتحادی نیٹ ورکس کے ذریعے یہ ثابت کیاکہ وہ اب بھی فعال اورمؤثر ہے۔یہ تضاد عالمی سطح پربھی محسوس کیاگیاکہ کیاواقعی ایران کمزورہواہے،یاوہ ایک نئے اندازمیں ابھر رہاہے؟ٹرمپ کاہرلمحہ بدلتابیانیہ ہمیں اس فکرکی یاددلاتا ہے کہ ظاہری قوت ہمیشہ حقیقی طاقت کی عکاسی نہیں کرتی،یہی وجہ ہے کہ پہلی مرتبہ امریکی صدر کابیانیہ بری طرح پِِِٹ رہاہے۔
اسلام آبادمیں ہونے والے مذاکرات اس پوری کشمکش کاایک اہم باب ہیں۔پاکستان کی ثالثی میں امریکااورایران کابراہِ راست آمنے سامنے آناایک غیرمعمولی پیش رفت اور ایک تاریخی موڑ تھے مگراس سے بھی زیادہ اہم بات یہ تھی کہ ایران نے ان مذاکرات میں شرکت کسی کمزورفریق کے طورپرنہیں بلکہ ایک خودمختار اور بااعتمادریاست کے طورپرکی جو اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ہرمحاذ پرسرگرم ہے۔
ایران کااندازِگفتگو اورمطالبات اس بات کی نشاندہی کرتے تھے کہ وہ سفارت کاری کوجنگ کاتسلسل سمجھتاہے،نہ کہ اس کااختتام ۔ یہی وہ انداز ہے جہاں الفاظ محض اظہارنہیں بلکہ حکمت کاوسیلہ ہوتے ہیں۔یہی وہ دانشمندانہ اسلوب کی جھلک بھی ہے جہاں اصولی مؤقف کووقتی دباؤپر ترجیح دی جاتی ہے۔ایران نے واضح کیاکہ وہ مذاکرات کرے گا،مگراپنی شرائط پر۔اس نے واضح کیاکہ سفارت کاری اس کے لئے جنگ کاتسلسل ہے،نہ کہ اس کا متبادل۔یہ طرزِ فکر اس بات کا غماز ہے کہ ایران نے نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی میدان میں بھی اپنی جگہ مضبوط کی۔اگرچہ مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ رہا، مگر اس نے ایک نئی راہ ضرور ہموار کی۔یہاں ہمیں ایرانی خارجہ پالیسی کی وہ جھلک دکھائی دیتی ہے جہاں وہ تاریخ کومحض واقعات کاتسلسل نہیں بلکہ ارادوں کی کشمکش قراردیتے ہیں۔ایران نے اسی اصول پرعمل کرتے ہوئے سفارت کاری کوجنگ کاتسلسل بنایا ایک ایسا تسلسل جس میں ہتھیاروں کی جگہ الفاظ نے لے لی،مگر مقصد وہی رہا:، خودمختاری کا تحفظ۔
امریکانے ایک طرف جنگ بندی کااعلان کیا، مگردوسری طرف ایران پردبابڑھانے کے لئے بحری ناکہ بندی نافذکردی اورایک ایرانی جہازکو قبضے میں لے لیا۔یہ طرزِعمل اس تضادکی عکاسی کرتا ہے جوامریکی پالیسی میں اکثردکھائی دیتاہے ایک ہاتھ میں امن کا پرچم اوردوسرے میں دباؤکاہتھیار ۔ ایران نے اس صورتحال کواپنے حق میں استعمال کیا۔اس نے نہ صرف جنگ بندی کوقبول کیابلکہ اسے ایک وقفہ سمجھتے ہوئے اپنی سفارتی پوزیشن کومضبوط کیا۔
ایران نے مذاکرات میں ایک دس نکاتی منصوبہ پیش کیاجس میں جنگ بندی،پابندیوں میں نرمی، اورسلامتی کی ضمانتیں شامل تھیں۔یہ مطالبات ایک ایسے ملک کی ترجمانی کرتے ہیں جواپنے حقوق کے لئے کھڑاہے اورکسی دباؤمیں آنے کوتیارنہیں، گویایہ اس کی مزاحمت کاسفارتی اظہارتھا۔یہ وہ سفارتی اندازکی یاد دلاتاہے جہاں وہ اصولی مؤقف کووقتی مصلحتوں پرترجیح دیتے ہیں۔ایران نے بھی یہی کیا،اس نے وقتی نقصان کے باوجود اپنے اصولی مؤقف کوبرقراررکھا۔یہ مطالبات اس بات کا اظہار تھے کہ ایران کسی بھی قیمت پر اپنی خود مختاری اور تزویراتی اثاثوں پرسمجھوتہ کرنے کوتیارنہیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ایران نے اس جنگ میں بھاری نقصان اٹھایا۔ہزاروں افرادشہید ، لاکھوں لوگ بے گھرہوئے،اربوں ڈالر کا معاشی نقصان، اوراہم انفراسٹرکچر کی تباہ ، تیل وگیس کی تنصیبات،صنعتی کارخانے،تعلیمی ادارے، اور بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔یہ سب اس قیمت کاحصہ ہیں جوایران نے اداکی مگرسوال یہ ہے کہ کیایہ نقصان اس کی کمزوری کی علامت ہے یااس کی استقامت کا ثبوت؟اقوام کی تاریخ میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب نقصان محض نقصان نہیں رہتابلکہ ایک اجتماعی شعورکوجنم دیتاہے۔
ایران میں بھی یہی ہوا،تباہی نے ایک نئے قومی بیانیے کوجنم دیا۔ایک ایسابیانیہ جومزاحمت کوجواز فراہم کرتاہے۔ایران کے اندرایک مضبوط بیانیہ ابھراکہ بیرونی جارحیت کامقابلہ کرناایمان کاحصہ ہے۔ عوام نے اپنے عمل سے اس بیانیے کوتقویت دی،وہ پلوں، تنصیبات اور قومی علامات کے ساتھ کھڑے ہوگئے،گویاوہ خودایک زندہ ڈھال بن گئے ہوں۔یہ منظرہمیں اس تمثیلی زبان کی یاددلاتاہے جہاں قوم اوراس کی شناخت ایک دوسرے میں ضم ہوجاتی ہیں۔مگرتاریخ میں ایسی مثالیں کم نہیں جہاں نقصان نے قوموں کوکمزور کرنے کی بجائے مضبوط کیاہو۔قومیں اپنے الفاظ اوراپنے بیانیے سے زندہ رہتی ہیں۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران کی اعلی قیادت کونشانہ بنایاگیا،جس کے نتیجے میں ایک بڑا خلا پیدا ہوا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کا نیا رہبراعلیٰ انتخاب ایک نئے سیاسی دورکاآغازثابت ہوا۔ یہ تبدیلی بظاہرایک کمزوری سمجھی جارہی تھی،مگرعملی طورپراس نے نظام کومزید سخت گیر اورمنظم بنادیا۔ پاسدارانِ انقلاب کا کردارمضبوط اوراثرورسوخ بڑھ گیاہے اورداخلی اختلافات وقتی طور پردب کرپس منظرمیں چلے گئے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ایران نے اس جنگ میں بھاری نقصان اٹھایا۔یہ سب اس کی قیمت کاحصہ ہیں۔ ایران نے اس نقصان کوایک قومی بیانیے میں ڈھال دیا۔مزاحمت کو ایمان کا درجہ دیا گیا،اورعوام نے اس بیانیے کواپنے عمل سے تقویت دی۔یہی وہ مقام ہے جہاں تمثیلی زبان میں قومیں اپنے الفاظ اور اپنے بیانیے سے زندہ رہتی ہیں۔
اس جنگ نے عالمی طاقت کے توازن پربھی گہرے اثرات مرتب کئے۔جہاں پہلے دنیاکو امریکا ، روس اورچین کے تین مراکزِ قوت میں تقسیم کیاجارہاتھا،وہیں اب ایران جیسے ممالک بھی اس نظام کوچیلنج کرتے نظرآرہے ہیں۔یہ ایک نئی عالمی ترتیب کاآغازہو سکتا ہے ایک ایسی ترتیب جس میں طاقت کامعیارصرف معاشی یاعسکری قوت نہیں بلکہ تزویراتی مقام اورمزاحمتی صلاحیت بھی ہو۔
اس جنگ نے عالمی طاقت کے تصورکوبھی چیلنج کیاہے۔جہاں پہلے طاقت کوصرف معاشی اور عسکری پیمانوں سے ناپاجاتاتھا،وہیں اب تزویراتی مقام، علاقائی اثرورسوخ، اورمزاحمتی صلاحیت بھی اہم عوامل بن کرسامنے آئے ہیں۔یہ جنگ عالمی طاقت کے تصورکو بدل رہی ہے۔اب طاقت صرف معیشت یافوجی قوت کانام نہیں رہی بلکہ تزویراتی مقام،بیانیہ سازی،اور مزاحمتی صلاحیت بھی اس کا حصہ بن چکی ہیں۔ایران جیسے ممالک اب عالمی نظام کوچیلنج کررہے ہیں۔ایران نے ثابت کیاکہ ایک نسبتاکمزورملک بھی اگردرست حکمت عملی اختیار کرے تووہ بڑی طاقتوں کے مقابلے عالمی نظام میں اپنامقام اورجگہ بناسکتا ہے ۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں