Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

خاک و خون سے ابھرتی ہوئی نئی دنیا

(گزشتہ سے پیوستہ)
جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران کی اعلی قیادت کونشانہ بنایاگیا،جس کے نتیجے میں ایک بڑا خلا پیدا ہوا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کا نیا رہبراعلیٰ انتخاب ایک نئے سیاسی دورکاآغازثابت ہوا۔ یہ تبدیلی بظاہرایک کمزوری سمجھی جارہی تھی،مگرعملی طورپراس نے نظام کومزید سخت گیر اورمنظم بنادیا۔ پاسدارانِ انقلاب کا کردارمضبوط اوراثرورسوخ بڑھ گیاہے اورداخلی اختلافات وقتی طور پردب کرپس منظرمیں چلے گئے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ایران نے اس جنگ میں بھاری نقصان اٹھایا۔یہ سب اس کی قیمت کاحصہ ہیں۔ ایران نے اس نقصان کوایک قومی بیانیے میں ڈھال دیا۔مزاحمت کو ایمان کا درجہ دیا گیا،اورعوام نے اس بیانیے کواپنے عمل سے تقویت دی۔یہی وہ مقام ہے جہاں تمثیلی زبان میں قومیں اپنے الفاظ اور اپنے بیانیے سے زندہ رہتی ہیں۔
اس جنگ نے عالمی طاقت کے توازن پربھی گہرے اثرات مرتب کئے۔جہاں پہلے دنیاکو امریکا ، روس اورچین کے تین مراکزِ قوت میں تقسیم کیاجارہاتھا،وہیں اب ایران جیسے ممالک بھی اس نظام کوچیلنج کرتے نظرآرہے ہیں۔یہ ایک نئی عالمی ترتیب کاآغازہو سکتا ہے ایک ایسی ترتیب جس میں طاقت کامعیارصرف معاشی یاعسکری قوت نہیں بلکہ تزویراتی مقام اورمزاحمتی صلاحیت بھی ہو۔
اس جنگ نے عالمی طاقت کے تصورکوبھی چیلنج کیاہے۔جہاں پہلے طاقت کوصرف معاشی اور عسکری پیمانوں سے ناپاجاتاتھا،وہیں اب تزویراتی مقام، علاقائی اثرورسوخ، اورمزاحمتی صلاحیت بھی اہم عوامل بن کرسامنے آئے ہیں۔یہ جنگ عالمی طاقت کے تصورکو بدل رہی ہے۔اب طاقت صرف معیشت یافوجی قوت کانام نہیں رہی بلکہ تزویراتی مقام،بیانیہ سازی،اور مزاحمتی صلاحیت بھی اس کا حصہ بن چکی ہیں۔ایران جیسے ممالک اب عالمی نظام کوچیلنج کررہے ہیں۔ایران نے ثابت کیاکہ ایک نسبتاکمزورملک بھی اگردرست حکمت عملی اختیار کرے تووہ بڑی طاقتوں کے مقابلے عالمی نظام میں اپنامقام اورجگہ بناسکتا ہے ۔
ٹرمپ کواس جنگ کے باعث داخلی اورخارجی دباؤکاسامناہے۔کانگریس کی منظوری،مالی اخراجات اورآئندہ انتخابات،یہ سب عوامل امریکاکی پالیسی کو محدود کررہے ہیں۔ عالمی سطح پرامریکاکی ساکھ متاثر ہوئی ہے،اس جنگ کے نتیجے میں ایران کی عالمی شبیہ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے جبکہ ایران کوگلوبل ساتھ میں پذیرائی ملی ہے۔گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں اسے ایک مزاحمتی قوت کے طورپر دیکھا جارہاہے،جبکہ امریکا کے خلاف جذبات میں اضافہ ہواہے۔ایران نے اس صورتحال کوبخوبی سمجھتے ہوئے وقت کواپنے حق میں استعمال کیاہے اورخود کو کسی جلدی میں نہ دکھایا۔یہ ایک دلچسپ تضادہے کہ جس جنگ کامقصد ایران کوکمزور کرنا تھا،اسی نے اسے عالمی سطح پرزیادہ نمایاں اورایک مضبوط فریق بنادیا جبکہ امریکاکے خلاف جذبات میں اضافہ ہواہے۔
یہ ایک دلچسپ تضادہے کہ جس جنگ کا مقصد ایران کوکمزورکرناتھا،اسی نے اسے عالمی سطح پرزیادہ نمایاں کردیا۔ایران کے اندر ایک مضبوط قومی بیانیہ ابھراہے جس میں مزاحمت کو قومی فریضہ قراردیا گیا ہے۔عوام نے نہ صرف حکومت کاساتھ دیابلکہ اپنے عمل سے یہ ثابت کیاکہ بیرونی خطرات کے سامنے داخلی اختلافات ثانوی حیثیت اختیارکرلیتے ہیں۔یہ منظرہمیں اس تمثیل کی یاد دلاتا ہے جہاں زبان اورقوم ایک دوسرے کاسہارابنتے ہیںیہاں بھی قوم اوربیانیہ ایک دوسرے کے محافظ بن گئے۔اگراس پوری جنگ کاحاصل دیکھاجائے تودوسوالات کے جواب واضح ہوتے ہیں۔
اول:جانی،مالی،معیشت،انفراسٹرکچراورعسکری لحاظ سے ایران نیایک بھاری قیمت اداکی ہے۔
دوم:اس کے باوجود،ایران آج بین الاقوامی سطح پرایک مضبوط اورموثر فریق کے طورپرابھرا ہے۔
یہ ایک ایساتضادہے جوتاریخ میں اکثردیکھنے کوملتاہیجہاں شکست کے سائے میں بھی کامیابی کے چراغ جلتے ہیں۔یہ جنگ محض ہتھیاروں کی جنگ نہیں تھی بلکہ بیانیوں کی جنگ تھیارادوں کی جنگ تھی۔ایران نے اس جنگ میں یہ ثابت کیا کہ مزاحمت اگرحکمت کے ساتھ ہوتووہ محض دفاع نہیں بلکہ ایک نئی تاریخ کی بنیادبھی بن سکتی ہے۔کمزور سمجھاجانے والا فریق بھی اگرحکمت، صبراور استقامت سے کام لے،اورمزاحمت اگرشعوراور صبر کے ساتھ ہوتووہ نہ صرف تاریخ کا دھارا موڑ سکتی ہے بلکہ وہ عالمی طاقتوں کے مقابلے میں اپنامقام منوا سکتاہے۔آج دنیاایک نئے موڑپرکھڑی ہے جہاں طاقت کی تعریف بدل رہی ہے،اورجہاں کمزورسمجھے جانے والے بھی اپنی تقدیرخود لکھنے لگے ہیں۔تاریخ کے اس موڑپرکھڑے ہوکریہ کہنابے جانہ ہوگاکہ یہ جنگ ایک نئے عالمی بیانیے کی تمہیدہے ۔ایک ایسابیانیہ جس میں طاقت کی تعریف بدل رہی ہے،اورجس میں مزاحمت ایک نئی لغت لکھ رہی ہے۔
طاقت کی تعریف بدل رہی ہے۔اب صرف اسلحہ کافی نہیں،بیانیہ،استقامت،اورحکمت بھی ضروری ہیں۔ایران نے ثابت کیاکہ کمزورسمجھا جانے والا بھی اگرڈٹ جائے،تو تاریخ کارخ موڑسکتاہے۔اگراس پوری داستان کوایک جملے میں سمیٹاجائے توکہاجاسکتاہے کہ ایران نے اس جنگ میں نقصان اٹھایا،مگراپنی حیثیت حاصل کرلی۔یہی تاریخ کاوہ سبق ہے جوبارہا دہرایا جاتاہے کہ طاقت صرف وسائل سے نہیں بلکہ ارادے سے پیداہوتی ہے۔آج دنیاایک نئے موڑپر کھڑی ہے۔طاقت کی تعریف بدل رہی ہے،اوروہ اقوام جوکل کمزورسمجھی جاتی تھیں،آج اپنے لیے نئی جگہ بنارہی ہیں۔ایران کی یہ داستان اسی تبدیلی کی ایک ایسی نمایاں مثال ہے ،جوآنے والے برسوں میں عالمی سیاست کے رخ کومتعین کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں