Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

’’چاردن،ایک صدی کاسبق‘‘

(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستانی عسکری قیادت نے واضح کردیاہے کہ مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنزپرمشتمل ہوں گی۔اس کامطلب یہ ہے کہ جنگ بیک وقت مختلف میدانوں میں لڑی جائے گی، سائبر ،فضا،زمین اور خلا تک، یہ تصورایک ہمہ جہت نظام کے طورپر دیکھنے کی دعوت دیتا ہے کہ جنگ اب ایک پیچیدہ نظام بن چکی ہے جہاں ہرعنصردوسرے سے جڑاہوا ہے۔ کامیابی اسی کوملے گی جواس پیچیدگی کوسمجھ کر اسے اپنے حق میں استعمال کرے۔اب جنگ صرف میدانِ کارزارتک محدودنہیں بلکہ سائبر، خلا،اوراطلاعاتی دنیاتک پھیل چکی ہے۔ کامیابی اسی کوحاصل ہوگی جوان تمام میدانوں میں بیک وقت برتری حاصل کرے۔
سائبروارفیئراورآرٹیفیشل انٹیلی جنس کابڑھتا ہوا کرداراس بات کی علامت ہے کہ جنگ اب ڈیجیٹل دنیامیں بھی منتقل ہوچکی ہے۔اب دشمن کے نظام کو مفلوج کرنا،اس کی معلومات تک رسائی حاصل کرنا،اوراس کی حکمت عملی کوسمجھنااورقبل ازوقت جان لیناممکن ہوچکا ہے۔یہ وہ میدان ہے جہاں گولی نہیں چلتی،مگرنتائج تباہ کن ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان ا میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کوبڑھا رہاہے اورخطے میں اپنی برتری کاسکہ منواچکاہے۔
چارروزہ جنگ نے پاکستان کویہ سبق دیاکہ اسے طویل فاصلے تک مارکرنے والے ہتھیاروں اور راکٹ سسٹمزکی ضرورت ہے۔یہ وہ خلاء تھاجسے اب پر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں قومیں اپنی غلطیوں سے سیکھتی ہیں اورخود کوبہتر بناتی ہیں اور اپنی کمزوریوں کوطاقت میں بدلتی ہیں۔پاکستان کے پاس موجوداسٹریٹجک میزائل جوہری صلاحیت رکھتے ہیں،مگران کا استعمال محدود ہے۔اسی لیے روایتی جنگی صلاحیتوں کوبڑھانا ضروری ہے۔جس کے لئے روایتی جنگ کے لئے نئے ہتھیاروں کی ضرورت محسوس کی گئی۔ یہ توازن برقراررکھنانہایت ضروری ہے،کیونکہ ایک غلط تاثربھی بڑے تصادم کوجنم دے سکتاہے اورایک معمولی غلط فہمی بھی بڑے تصادم کوجنم دے سکتی ہے۔
پاکستان کاڈرون پروگرام تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔میدان اسٹرائیک جیسی مشقیں اس بات کی علامت ہیں کہ ملک اس میدان میں خودکو مضبوط اورخودکفیل ہونے کی کوشش کررہا ہے۔ڈرونزنہ صرف نگرانی بلکہ حملے کے لئے بھی استعمال ہوسکتے ہیں،جوانہیں ایک کثیر المقاصد ہتھیار بناتا ہے۔ پاکستانی فضائیہ جدید طیاروں کے حصول کی طرف بڑھ رہی ہے۔یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ ملک اپنی فضائی برتری کوبرقرار رکھنا چاہتاہے۔فضائی طاقت ہمیشہ جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے،اوریہی وجہ ہے کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔فضاسے لانچ کیے جانے والے میزائلوں کے تجربات اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان اپنی میزائل ٹیکنالوجی کومزید بہتر بنانے کے لئے انتہائی کامیابی کے ساتھ جدیدخطوط پراستوارکر رہاہے۔یہ ہتھیاردشمن کے اہم اہداف کو دور سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہنگورکلاس آبدوزاورجدیددفاعی نظاموں کی شمولیت پاکستان کی بحری قوت کومزیدمضبوط بناتی ہے۔یہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ ملک اپنی سمندری حدودکے تحفظ کے لئے سنجیدہ ہے اورمستقبل میں کسی بھی چیلنج کامقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔ یہ تمام معلومات پاکستان کی عسکری حکمت عملی کی ایک ایسی جامع اورمتحرک تصورکوپیش کرتی ہیں جس میں پاکستان کی عسکری حکمت عملی،اس کی بصیرت،اوراس کاعزم واضح طورپرجھلکتاہے۔اوریہ واضح ہوتاہے کہ ملک نہ صرف ماضی کے تجربات سے سیکھ رہاہے بلکہ مستقبل کے چیلنجزکے لئے بھی خودکوتیارکررہاہے۔
یہ داستان دراصل ایک قوم کے عزم،اس کی بصیرت،اوراس کے دفاعی شعورکی کہانی ہے،ایک ایسی کہانی جوہمیں یہ نہ صرف یہ سبق دیتی ہے کہ امن کی ضمانت صرف خواہش سے نہیں بلکہ تیاری سے حاصل ہوتی ہے بلکہ یہ داستان ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ فکر،حکمت،اور عزم سے مضبوط ہوتی ہیںاوریہی عناصرپاکستان کے دفاعی سفرکوایک نئی سمت دے رہے ہیں۔
اس تحقیقی وتجزیاتی مطالعے کے اختتام پریہ حقیقت روزِروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ جدید جنگ محض اسلحے اوروسائل کی دوڑنہیں بلکہ حکمت، بصیرت اورعزم کاامتحان بھی ہے ۔ پاکستان نے مئی کے اس مختصرمگرفیصلہ کن معرکے میں یہ ثابت کردکھایاکہ اگرقوم کاحوصلہ بلندہو،قیادت مستحکم ہو،اورعسکری تیاری بروقت ہو تومحدودوسائل بھی بڑی قوتوں کے سامنے ڈٹ سکتے ہیں۔ یہی وہ سبق ہے جوتاریخ ہمیں باربارسکھاتی ہے کہ فتح کادارومدارصرف ہتھیاروں پرنہیں بلکہ ان ہاتھوں پر ہوتاہے جوانہیں تھامتے ہیں، اوران دلوں پر جو ان میں یقین کی حرارت رکھتے ہیں۔پاکستان کی کامیابی نے دنیاکویہ پیغام دیاکہ جذبہ قربانی،ایمانی حرارت،اورقومی یکجہتی وہ عناصرہیں جومادی کمزوریوں کوبھی طاقت میں بدل سکتے ہیں۔
تاہم اس کامیابی کومحض ایک جشن کے طور پر دیکھنادانشمندی نہیں ہوگی۔یہ دراصل ایک ذمہ داری ہے،ایک ایساتقاضاجوہمیں مسلسل تیاری،تحقیق، اور بہتری کی طرف متوجہ کرتاہے ۔ اسی احساس کے تحت اس رپورٹ میں دونوں ممالک کی عسکری حکمت عملیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے،تاکہ پاکستان کے عوام،پالیسی ساز اور عسکری حلقے اس بدلتے ہوئے جنگی منظرنامے سے پوری طرح آگاہ ہوسکیں۔
یہ امربھی پیشِ نظر رہناچاہیے کہ اسلامی تعلیمات میں بھی دشمن کے مقابلے کے لئے ہروقت تیاری کاحکم دیاگیاہے۔قرآنِ حکیم کایہ پیغام محض ایک مذہبی ہدایت نہیں بلکہ ایک عملی اصول ہے،جوہمیں یہ سکھاتا ہے کہ امن کی خواہش کے ساتھ ساتھ دفاع کی تیاری بھی لازم ہے۔یہی وہ توازن ہے جوایک قوم کومحفوظ، باوقاراورخودمختاربناتا ہے۔پس،اس مطالعے کا حاصل یہی ہے کہ پاکستان کواپنی حالیہ کامیابی کوایک سنگِ میل سمجھتے ہوئے آگے بڑھناہوگا مزید تحقیق، جدیدٹیکنالوجی،اورقومی یکجہتی کے ساتھ۔ کیونکہ تاریخ ان ہی قوموں کویاد رکھتی ہے جواپنی کامیابیوں پررکتی نہیں بلکہ انہیں نئی بلندیوں کازینہ بنالیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں