(گزشتہ سے پیوستہ)
دفاعی تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ 88 گھنٹوں کی جنگ دراصل ایک ریفرنس پوائنٹ،ایک حوالہ بن چکی ہے،ایک ایسانمونہ جس کی روشنی میں مستقبل کی جنگوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔اس جنگ نے دنیاکوایک بارپھریاددلایاکہ جنوبی ایشیا اب بھی ایک نازک توازن پرقائم ہے،جہاں ایک معمولی چنگاری بھی بڑے شعلے کو جنم دے سکتی ہے ۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ تنازع دراصل ایک پروٹوٹائپ تھا،جس میں مستقبل کی جنگوں کے خدوخال نمایاں ہوگئے۔یہ صورتحال ہمیں اس حقیقت کی یاددلاتی ہے کہ تاریخ خودکودہراتی نہیں، بلکہ نئے اندازمیں سامنے آتی ہے۔ہرجنگ اپنے اندراگلی جنگ کابیج رکھتی ہے، اوریہی بیج مستقبل کی حکمت عملیوں کو جنم دیتاہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں جھنجھوڑتی ہے اورکہتی ہے کہ طاقت کے توازن کونظراندازکرنا خودکوتباہی کے دہانے پرلے جاناہے۔
انڈین فوج نے اس جنگ کے بعداپنی تنظیمِ نو کا آغازکیاہے،جس کے تحت انٹیگریٹڈ بیٹل تھیٹر گروپس تشکیل دئیے جارہے ہیں۔یہ ایک ایسا تصورہے جس میں بری،بحری، اورفضائی افواج ایک مشترکہ کمان کے تحت کام کریں گی۔یہ تبدیلی دراصل اس حقیقت کااعتراف ہے کہ جدیدجنگ میں تنہاقوت بے معنی ہے؛کامیابی کارازاشتراک اورہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔جس طرح ایک آرکسٹرامیں ہرسازاپنی جگہ اہم ہوتاہے،اسی طرح جنگ میں ہرفورس کامربوط کردارفیصلہ کن ثابت ہوتاہے۔ آپریشن سندورکے دوران جومشترکہ کنٹرول سسٹم قائم کیاگیا،وہ دراصل اسی نئے نظرئیے کی عملی جھلک تھا۔مختلف افواج کاایک پلیٹ فارم پرآنا اور مربوط اندازمیں فیصلے کرنااس بات کی دلیل ہے کہ جنگ اب انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی حکمت کاکھیل بن چکی ہے۔ یہ ماڈل مستقبل میں جنگی منصوبہ بندی کابنیادی ستون بن سکتاہے،جہاں فیصلہ سازی کی رفتاراوردرستگی ہی جنگ کافیصلہ کرے گی۔
نئی حکمت عملی کے تحت انڈیانے دفاعی پیداوار میں نجی شعبے کی شمولیت کوفروغ دیاہے۔اس کے ساتھ ساتھ تحقیق وترقی کے ادارے بھی نئے ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہیں۔یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ جنگ اب صرف ریاستی اداروں کامعاملہ نہیں رہی بلکہ معیشت،صنعت، اورٹیکنالوجی کے اشتراک سے ایک نیا نظام تشکیل پارہاہے۔گویااب ہرفیکٹری، ہر لیبارٹری اورہر انجینئرجنگی مشین کاحصہ بن چکاہے۔
بیلسٹک میزائلوں کے نئے تجربات، جدید فضائی دفاعی نظام،نئے ڈرونز،اورجنگی جہازوں کی خریداری یہ سب اس بات کاثبوت ہیں کہ خطے میں اسلحے کی دوڑایک نئی شدت اختیارکر چکی ہے۔یہ دوڑبظاہردفاع کے لئے ہے،مگراس کے اندرایک خوف بھی پوشیدہ ہے،وہ خوف جوہرملک کومجبورکرتا ہے کہ وہ دوسرے سے ایک قدم آگے رہے۔اسی لئے یہ دوڑصرف طاقت کے اظہارکی نہیں بلکہ بقا کی جنگ بھی ہے،جہاں ہرملک اپنے آپ کومحفوظ بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔مگرسوال یہ ہے کہ کیایہ دوڑکبھی ختم ہوگی یایہ انسانیت کوایک نہ ختم ہونے والے خوف کے دائرے میں قید رکھے گی؟
ایران کی طرزپرزیرِزمین فوجی تنصیبات بنانے کامنصوبہ اس بات کی علامت ہے کہ جدید جنگ میں تحفظ کاتصوربھی بدل چکاہے۔اب ہتھیاروں کوزمین کے نیچے محفوظ رکھنا،اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اب دفاع کاتصورسطحِ زمین سے نیچے منتقل ہورہاہے۔ سرنگوں کے ذریعے منتقل کرنا،اور اچانک حملے کے لئے تیار رکھنا ایک اہم حکمت عملی بن چکی ہے۔یہ تدبیر ہمیں قدیم قلعہ بندیوں کی یاد دلاتی ہے،مگرجدید ٹیکنالوجی کے ساتھ۔ گویاتاریخ اپنے آپ کونئے اندازمیں دہرا رہی ہے۔
شمال مشرقی علاقوں میں فوجی تنصیبات کی اپ گریڈیشن اورپہاڑوں میں سرنگوں کی تعمیراورفوجی تنصیبات کی اپ گریڈیشن اس بات کی علامت ہے کہ جغرافیہ اب بھی جنگ کاایک اہم عنصراوراہم کردار ادا کرتاہے،مگراس کی تعبیربدل چکی ہے۔اب پہاڑمحض رکاوٹ نہیں بلکہ تحفظ کاذریعہ ہیں،اورسرنگیں صرف راستے نہیں بلکہ حکمت عملی کاحصہ ہیں مگرفرق یہ ہے کہ اب جغرافیہ کوٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑکرایک نئی حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے۔آج کامیدانِ جنگ وسیع ہے، سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیلاہوا۔ڈرونز، میزائل، اور طیارے کسی بھی ملک کی حدودمیں گہرائی تک جاسکتے ہیں۔ایسے میں دفاع صرف سرحدوں پرنہیں بلکہ ہر اس مقام پر درکارہے جہاں خطرہ جنم لے سکتا ہے۔
موجودہ حالات ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتے ہیں کہ جنگ کاچہرہ مکمل طورپربدل چکا ہے۔ جنگ اب محض بندوق اوربارودکا کھیل نہیں رہی بلکہ ایک ہمہ گیرنظام بن چکی ہے جس میں ٹیکنالوجی، معیشت، سفارت کاری اورنفسیات سب شامل ہیں۔ یہ داستان اس وقت تک ادھوری رہے گی جب تک ہم پاکستان کی حکمت عملی،اس کی عسکری اصلاحات ،اورمستقبل کے امکانات کا جائزہ نہ لیں۔
قوموں کی تاریخ میں بعض فیصلے نہ صرف ایسے ہوتے ہیں جومحض اعدادوشمارنہیں بلکہ ایک اجتماعی شعورکی ترجمانی ہوتے ہیں بلکہ بعض فیصلے وقتی نہیں ،وہ ایک طویل فکری ارتقا اور اجتماعی شعورکے عکاس ہوتے ہیں۔ پاکستان کادفاعی بجٹ میں بیس فیصد نمایاں اضافہ بھی اسی قبیل کاایک فیصلہ ہے،یہ محض مالی اعدادوشمارکی ترمیم نہیں بلکہ ایک ایسی ریاستی بصیرت کااظہارہے جو خطرات کووقت سے پہلے بھانپ کران کاتدارک کرناجانتی ہے۔یہ اضافہ صرف خزانے سے نکالی گئی رقم نہیں بلکہ ایک اضطراری کیفیت کااظہارہے،ایک ایسے عہد کا اعلان ہے جہاں بقاء کاسوال محض نظری نہیں بلکہ عملی بن چکاہے۔
چارروزہ جنگ نے پاکستان کویہ احساس دلایا کہ امن کی خواہش اپنی جگہ،مگراس کے تحفظ کے لئے قوت کاہوناناگزیرہے۔گویااس جنگ نے ایک آئینہ دکھایا،جس میں کمزوریاں بھی عیاں ہوئیں اورامکانات بھی روشن ہوئے۔اس آئینے میں جھانک کرپاکستان نے یہ ادراک کیا کہ محض نیک تمنائیں اورسفارتی امیدیں کافی نہیں ہوتیں؛ امن کی بقاء کے لئے طاقت کی موجودگی ناگزیر ہے۔
(جاری ہے)