(گزشتہ سےپیوستہ)
مگرتاریخ کامزاج بھی ایک بے قرارشاعرکی مانند فکرمیں مبتلاہے،وہ کسی ایک مصرعے پرٹھہرتانہیں۔ جولمحہ سب سے زیادہ یقینی دکھائی دیتاہے،وہی اکثرسب سے زیادہ لغزش آمادہ ہوتاہے۔وہ میز،جوایک معاہدے کی گواہ بننے والی تھی،خاموشی سے اٹھالی گئی۔یوں لگا جیسے ایک مکمل ہونے والی غزل کاآخری شعرکسی نے اچانک مٹادیاہو۔مگرکیاواقعی کہانی ختم ہو گئی؟یایہ محض ایک وقفہ تھا،ایک ایساوقفہ جس کے بعدداستان نئے آہنگ کے ساتھ جاری ہونے والی تھی؟
چند دن بعدجب امریکی صحافی نے اس کمرے میں قدم رکھا،تو وہاں ایک عجیب سی اداسی اورخاموشی کی دبیزتہیں تھیںجیسے کوئی محفل سجی ہو،چراغ روشن ہوں،مگر مہمان نہ آئے ہوں ۔ میزکے کنارے کھولے جاچکے تھے، جھنڈے تہہ کئے جارہے تھے،اورفضامیں ایک نامکمل داستان کی اداسی تیررہی تھی اورغیرمرئی سوال معلق تھا، کیایہ ناکامی تھی،یاکسی بڑی کامیابی کی تمہید؟
امریکی وفدکی عدم آمدنے اس پورے منظر کو ایک نیم شکستہ خواب میں بدل دیاتھا۔سٹیووٹکوف اور جیرالڈکشنرکی پروازیں رک گئیں،اور ٹرمپ کے جملے ہمارے پاس سارے پتے ہیں ،یہ جملہ ایک ایسے کھلاڑی کاتھاجوکھیل کوروک کرجہاں اپنی شرائط بہتربناناچاہتا ہووہاں اپنی رسوائی کوچھپانے کے لئے ایک ایسے فریق کی خود اعتمادی کااظہارتھاجو بظاہرمسکرارہاہو ،مگردل ہی دل میں چالوں کا ازسرِنوحساب لگارہاہو۔یہ محض انکارنہ تھا،بلکہ ایک ڈرامائی وقفہ تھا،ایک ایساوقفہ جس میں اصل کہانی پسِ پردہ لکھی جارہی تھی۔ دراصل ٹرمپ کے بیانات بظاہرجارحانہ،مگرباطن میں غیرمحتاط،اس بات کی نشاندہی کرتے تھے کہ سیاست میں الفاظ اکثرحقیقت کا عکس نہیں،بلکہ اس کاپردہ ہوتے ہیں۔
پاکستانی فضائی اڈے سے اڑتے ہوئے سی-17 گلوب ماسٹرطیارے گویااس ناکام منظرنامے کے خاموش گواہ تھے۔امریکی سازو سامان واپس جارہا تھا، مگرسفارت کی بساط ابھی لپٹی نہ تھی۔ایرانی وفد کی نقل وحرکت اسلام آباد سے مسقط، پھرواپسی، اور پھرسینٹ پیٹرزبرگایک ایسے شطرنجی کھیل کی عکاسی کرتی تھی جس میں ہرمہرہ بظاہرپیچھے ہٹتاہے، مگر دراصل اگلی چال کی تیاری کرتا ہے۔بورس یلتسن پریذیڈنشل لائبریری میں پوتن کی موجودگی اس بات کااشارہ تھی کہ یہ کھیل اب محض دونہیں،کئی کھلاڑیوں کے درمیان کھیلاجارہاہے ۔ یہ سب اس بات کے اشارے تھے کہ کھیل ختم نہیں ہوا،بلکہ اس کادائرہ وسیع ہوگیا ہے۔ سفارت کاری اب ایک کمرے تک محدودنہیں رہی،بلکہ براعظموں میں پھیل چکی ہے۔
عالمی میڈیانے حسبِ روایت جلدبازی کامظاہرہ کیا۔اسلام آبادعمل ناکام، ٹرمپ نے انکارکردیا،ایران روس کی طرف جھک گیایہ سرخیاں دراصل اس سطحی فہم کی عکاس تھیں جو واقعات کے ظاہرکودیکھتی ہے،باطن کونہیں۔عالمی میڈیاکی سرخیاں اکثرفوری تاثر کی عکاس ہوتی ہیں،نہ کہ گہری حقیقت کی۔ناکامی کالفظ یہاں بھی استعمال ہوا،مگرحقیقت میں یہ ایک مرحلہ تھاایک ایسامرحلہ جو کسی بڑے نتیجے کی طرف لے جارہاتھا۔ گولڈمین سیکس کے اندازے،تیل کی قیمتوں کااتار چڑھاؤ، اور آبنائے ہرمزمیں جہازوں کی کمی یہ سب علامات تھیں ایک ایسے بحران کی،جوبظاہرانتشارکا شکارتھا، مگردرحقیقت ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہاتھا۔
ایران کی جانب سے پیش کیاگیا فارمولا سفارت کاری میں ایک بڑی تبدیلی کااشارہ ہے۔اگرہم اس صورتحال کوفکری گہرائی سے دیکھیں، تواس کے تین واضح طبقات سامنے آتے ہیں۔پہلی تہہ ایران کی پیش کش سفارت کاری کے میدان میں ایک غیرمعمولی پیش رفت ہے۔پہلے امن،پھرنیوکلیئر،یہ جملہ ایک نئی حکمت عملی کی بنیاد رکھتا ہے۔آبنائے ہرمز کو کھولنے ،بحری کنٹرول ختم کرنے پر آمادگی تہران کی اپنے مؤقف میں ایک لچک ہے،جس میں پیچیدہ مسائل کومرحلہ وارحل کرنے کی بصیرت شامل ہے۔
ایران کایہ لچکداررویہ بظاہرایک پسپائی لگ سکتاہے،مگردرحقیقت یہ ایک حکمت عملی ہے۔یہ وہی اصول ہے جوجنگوں میں بھی استعمال ہوتاہے ،کبھی پیچھے ہٹنا،آگے بڑھنے کی تیاری ہوتاہے۔یہ تبدیلی معمولی نہیں۔ایران،جوماضی میں ہرمسئلے کوایک ہی لڑی میں پروتاتھا،اب اس بات پرآمادہ ہے کہ ہرمسئلے کواس کے اپنے دائرے میں حل کیاجائے۔یہ ایک فکری ارتقاہے،ایک ایسی پختگی جو صرف تجربات کی بھٹی میں جل کرحاصل ہوتی ہے۔
دوسری تہہ امریکی تھنک ٹینکس کی سوچ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’اوپن فاراوپن‘ جیسے فارمولے کوسنجیدگی سے لیاجارہاہے جودراصل ایک عملی حقیقت پسندی کامظہرہے۔ امریکاکے لئے توانائی کی قیمتیں ایک سیاسی مسئلہ ہیں۔انتخابات قریب ہوں،توپٹرول کی قیمت بھی ایک بیلٹ پیپربن جاتی ہے۔ایران کوتیل بیچناہے، امریکا کوقیمتیں کم کرنی ہیںضرورت دونوں کی ایک ہے،اگرچہ انادونوں کی الگ ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں مفاد، نظرئیے پرغالب آجاتاہے۔سی ایس آئی ایس کاتجزیہ اورمتناقضی توازن کاتصوراس کشمکش کی اصل روح کو بیان کرتاہے جوہمیں یہ سمجھاتاہے کہ طاقت صرف فوجی برتری کانام نہیں،بلکہ برداشت،صبر،اور حکمت عملی کابھی نام ہے۔ایران یہاں ایک مختلف اندازکی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ایران دباؤڈال رہاہے،امریکااس دباؤکا جواب دے رہاہے،مگردونوں جانتے ہیں کہ یہ کھیل لامتناہی نہیں ہوسکتا۔یہاں صبرایک ہتھیار ہے، اور ایران اس ہتھیارکوزیادہ مہارت سے استعمال کررہاہے۔
ایران کے پاس وسائل کم ہیں،مگرصبرزیادہ ہے۔یہی تضاداس پورے بحران کامرکزی نکتہ ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاںٹرمپ کارڈکمزور پڑتادکھائی دیتاہے۔ امریکا کے پاس وسائل زیادہ ہیں،مگروقت کم ہے۔طاقت صرف وسائل کانام نہیں،برداشت کابھی نام ہے۔امریکی عوام مہنگائی کوزیادہ دیربرداشت نہیں کرسکتے،جبکہ ایران کے پاس وسائل کم ہیں،مگر اس کی تاریخ صبرواستقلال سے عبارت ہے۔یہی تضاد اس پورے بحران کامرکزی نکتہ ہے اوریہی اہم فرق اس شطرنجی کھیل کافیصلہ کن عنصربن سکتاہے۔
تیسری تہہ سب سے زیادہ معنی خیز ہے بیانات کی زبان۔مارکوروبیوکایہ کہناکہ یہ پیش کش توقع سے بہترہے،مارکوروبیوکابیان اس بات کاثبوت ہے کہ دروازے بندنہیں ہوئے۔یہ سفارت کاری کی وہ زبان ہے جس میں انکاربھی ہوتاہے اوردعوت بھی۔گویا مارکو روبیو کا بیان دراصل ایک سفارتی دروازہ کھلارکھنے کااعلان ہے۔یہ انکارنہیں،بلکہ مشروط قبولیت ہے۔
(جاری ہے)