Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

’’چاردن،ایک صدی کاسبق‘‘

تاریخ کے سینے میں بعض واقعات ایسے ثبت ہوجاتے ہیں جومحض وقتی معرکے نہیں رہتے بلکہ ایک عہدکی علامت بن جاتے ہیں۔مئی کی چار روزہ پاک وہندجنگ بھی اسی نوع کا ایک باب ہے ،مختصر،فیصلہ کن،محدودمگراثرانگیز۔یہ وہ لمحہ تھاجب دنیانے حیرت سے دیکھاکہ ایک ایساملک،جو رقبے،وسائل اورمعیشت کے اعتبارسے اپنے حریف سے کئی گنا چھوٹا ہے،کس طرح عزم،حکمت اور قربانی کے بل بوتے پرایک بڑی قوت کے سامنے ڈٹ کرکھڑاہو گیا۔
پاکستان نے اس معرکے میں صرف عسکری قوت ہی کامظاہرہ نہیں کیابلکہ اس نے یہ بھی ثابت کیاکہ جنگ کافیصلہ ہمیشہ تعداداور وسائل سے نہیں ہوتا،بلکہ جذبہ ایمانی،قومی یکجہتی، اور بروقت حکمتِ عملی بھی تاریخ کا دھارا موڑسکتی ہے۔یہ وہی حقیقت ہے جسے اہلِ نظریوں بیان کرتے آئے ہیں کہ کمزوری جب یقین سے جڑجائے توقوت بن جاتی ہے،اورطاقت جب غرورمیں ڈھل جائے توزوال کاپیش خیمہ بن جاتی ہے۔
زیرنظرآرٹیکل انہی حقائق کاایک سنجیدہ اور تحقیق پرمبنی جائزہ ہے،جس میں پاکستان اور انڈیا دونوں کی عسکری تیاریوں، دفاعی حکمت عملیوں، اور جدید جنگی رجحانات کودیانت داری اورغیر جانبداری کے ساتھ پیش کیاگیاہے۔اس کامقصد کسی فریق کی محض مدح سرائی نہیں بلکہ حقیقت کواس کے تمام تر پہلوؤں کے ساتھ آشکارکرناہے،تاکہ عوام اور اربابِ اختیار دونوں اس بدلتے ہوئے منظرنامے کو بہترطورپرسمجھ سکیں۔موجودہ دورمیں جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹیکنالوجی، معیشت،اورفکرکے میدانوں تک پھیل چکی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ قومیں نہ صرف اپنے ماضی سے سبق حاصل کریں بلکہ مستقبل کے چیلنجز کے لئے بھی خودکوتیار رکھیں۔
تاریخ کے اوراق جب پلٹے جاتے ہیں توبعض ابواب ایسے ملتے ہیں جومختصر ہونے کے باوجوداپنے اثرات میں ایک عہدکی نمائندگی کرتے ہیں۔جنوبی ایشیاکی فضامیں ایک عجیب سی گونج ہے،یہ گونج صرف توپ وتفنگ کی نہیں بلکہ نظریات،حکمتِ عملیوں اور ٹیکنالوجی کی نئی بساط کی ہے۔گزشتہ برس مئی کی چارروزہ پاک بھارت جنگ بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہے۔یہ جنگ بظاہر مختصرتھی، لیکن یہ کوئی محض چاردنوں کاقصہ نہ تھا،بلکہ ایک فکری انقلاب ، ایک عسکری تجربہ،اورایک سیاسی بیانیہ تھا جس نے پورے خطے کی حرکیات کونہ صرف نئی جہت عطاکی بلکہ اپنے اثرات میں طویل، مضمرات میں گہرے، اوراشارات میں نہایت معنی خیزبنادیا ۔ یہ محض سرحدوں کاتصادم نہ تھا،بلکہ دو عسکری فکرناموں کا ٹکراؤتھاایک ایسا تصادم جس نے آنے والے زمانوں کی جنگی جہتوں کونئی تعریف عطاکی۔اگرماضی کی جنگیں میدانوں میں لڑی جاتی تھیں تویہ جنگ ذہنوں، مشینوں اورنظاموں کے بیچ لڑی گئی۔ یہاں سپاہی کی للکارکی بجائے ڈرون کی خاموشی تھی،توپ کی گھن گرج کی بجائے میزائل کی برق رفتاری تھی،اورتلوارکی جھنکارکی بجائے ڈیجیٹل سگنلزکی سرگوشی تھی۔گویا جنگ نے اپنی ہیئت بدل لی،مگر اس کی روح غلبہ، دفاع ا وربقاوہی رہی۔
آج جب اس تنازع کوایک برس بیت چکا ہے،دونوں ممالک نہ صرف اپنی کامیابیوں کے نغمے الاپ رہے ہیں بلکہ اس معرکے کواپنے قومی بیانیے کاحصہ بناکرنئی نسل کے اذہان میں ثبت کرنے کی سعی بھی کررہے ہیں۔تقریبات، بیانات ، اورعسکری مشقیںیہ سب گویا ایک خاموش اعلان ہیں کہ جنگ ختم نہیں ہوئی،بلکہ اس نے صرف اپنالباس بدلاہے۔
یہی وہ پس منظرہے جس میں اس تنازع کو سمجھناناگزیرہے،کیونکہ یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ مستقبل کی جنگوں کاپیش لفظ ہے۔
یہ امرکسی سے پوشیدہ نہیں کہ اس چارروزہ جنگ کے بعددونوں ممالک کے سفارتی تعلقات گویا برف کی دبیزتہہ تلے دب گئے ہیں۔ جنگ کے بعد جو سب سے نمایاں تبدیلی سامنے آئی،وہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کاانجمادتھا۔ گویا تعلقات کی وہ نہر،جو کبھی دھیرے دھیرے بہتی تھی، اچانک برف بن کرٹھہرگئی۔سفارت خانے خاموش،ویزا دفاترویران اورتجارتی قافلے منتشر ہو گئے،اور باہمی اعتمادقصہ پارینہ بن چکا ہے ۔ سب سے اہم بات یہ کہ آبی تقسیم کاتاریخی معاہدہ،جسے عشروں تک دونوں ممالک نے ایک مقدس امانت کی طرح سنبھال کررکھا،جودہائیوں تک دشمنی کے باوجودقائم رہا،اب یکطرفہ معطلی کاشکارہے۔
یہ صورتحال اس حقیقت کی آئینہ دارہے کہ جدیدجنگ صرف میدانِ کارزارتک محدودنہیں رہی بلکہ جدیددنیامیں سفارت کاری،معیشت، اور وسائل کی تقسیم بھی نہ صرف اس کی زد میں آچکی ہے، بلکہ جنگ کاہتھیاراورایک ہمہ جہت مظہربن چکی ہے جس میں بندوق کی گولی سے زیادہ خطرناک قلم کی جنبش اورمعاہدوں کی معطلی ہوسکتی ہے۔ پانی، جو زندگی کی علامت تھا،اب طاقت کی علامت بنتا جا رہا ہے۔
پانی بھی اب سیاست کے سانچے میں ڈھل گیا
دریا بھی اب حدود کے پابند ہو گئے
انڈیاکی جانب سے آپریشن سندورکے جاری رہنے کااعلان اورپاکستان کی طرف سے تیاررہنے اورسخت جواب دینے کاعندیہ،یہ دونوں بیانات محض الفاظ نہیں بلکہ آنے والے طوفان کی پیشین گوئی ہیں۔دفاعی ماہرین کے نزدیک یہ بیانات دراصل ایک نفسیاتی جنگ کاحصہ ہیں،یہ سب دراصل عوامی ذہن سازی کے حربے ہیں جس کا مقصد مخالف کومسلسل دباؤ میں رکھناہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں زبان ہتھیاربن جاتی ہے،اوربیان ایک مورچہ۔ قوموں کی نفسیات کومضبوط یا کمزور کرنے میں الفاظ کاکردارکسی میزائل سے کم نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتی ہے کہ جنگ اب صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی بلکہ بیانئے، اطلاعات، اورنفسیاتی حربوں سے بھی جیتی یاہاری جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہربیان میں ایک پیغام چھپاہوتا ہے، اپنے لئے حوصلہ،اور مخالف کیلئے انتباہ۔
گزشتہ تنازع میں جوسب سے اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی،وہ جدیدٹیکنالوجی کابے مثال استعمال تھا۔پہلی باردونوں ممالک نے کھل کر طویل فاصلے تک مارکرنے والے میزائلوں، کروزسسٹمز، اورڈرونزکے استعمال کادعویٰ کیا۔یہ وہ لمحہ تھاجب جنگ نے اپنی روایتی حدودتوڑدیں اورایک نئی دنیامیں قدم رکھایہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ جنگ اب فاصلے کی قیدسے آزادہوچکی ہے۔جہاں سپاہی کی جگہ مشین نے لے لی،اورمحاذ کی جگہ سکرین نے۔ڈرونزکی خاموش پروازیں، میزائلوں کی برق رفتاری،اورکروز سسٹمز کی مہلک درستگی یہ سب مل کرایک ایسی جنگی تصویر بناتے ہیں جس میں انسانی جذبات کی جگہ الگورتھمز نے لے لی ہے۔گویااب جنگ فاصلے کی نہیں بلکہ صلاحیت کی ہوگئی ہے۔ ڈرونز کی خاموش پروازیں گویاآسمان پرلکھے ہوئے وہ اشعارہیں جنہیں صرف تباہی کی زبان سمجھتی ہے۔ میزائلوں کی رفتارایسی کہ پلک جھپکنے سے پہلے فیصلہ ہوجائے۔اورکروزسسٹمزکی درستگی ایسی کہ نشانہ خطا ہونے کاسوال ہی پیدا نہ ہو۔یہ سب مل کرایک ایسی دنیاکی تصویر پیش کرتے ہیں جہاں انسان پس منظرمیں اورمشینیں پیش منظرمیں آچکی ہیں۔
انڈیا نے اس تنازع کے بعدجس حکمت عملی کو اختیارکیا،اسے ملٹی ڈومین واردراصل جنگ کوایک نئے فلسفے میں ڈھالنے کے مترادف ہے۔اب جنگ صرف زمین پرنہیں لڑی جاتی بلکہ چاربنیادی میدانوں، فضا، سمندر،اورسائبردنیامیں بھی بیک وقت جاری رہتی ہے۔یہ حکمت عملی ہمیں اس حقیقت کی یاددہانی کراتی ہے کہ جدیددنیامیں جنگ ایک شطرنج کی بساط ہے جہاں ہرچال کئی سمتوں میں اثر اندازاور جدید جنگ ایک ہمہ جہت مظہر ہے،جہاں ہرمیدان دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ اگرایک محاذکمزور ہوتو پورا نظام خطرے میں پڑسکتا ہے۔اس لئے اب جنگ ایک مربوط نظام کاتقاضا کرتی ہے ،ایک ایسانظام جہاں ہرعنصراپنی جگہ پرمکمل ہو۔ رفتار، انٹیگریشن، اور ٹیکنالوجی ،یہ تین عناصراب جنگ کے نئے ستون ہیں۔گویااب طاقت کامعیارصرف اسلحہ نہیں بلکہ اس کابروقت اورمربوط استعمال ہے۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں