(گزشتہ سےپیوستہ)
ہم نے اپنی تاریخ میں ایک بڑی غلطی کی،ہم نے اتھارٹی کوپھیلادیا۔ہم نے حدیث کو،فقہ کو،تصوف کو،حتی کہ تاریخ کوبھی اتھارٹی بنا لیا،سب کوفیصلہ کن درجہ دے دیا۔نتیجہ؟ مرکز دھندلاگیا، اوراطراف نمایاں ہوگئے۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم اتھارٹی کو دوبارہ مرکزمیں سمیٹیں۔ قرآن ہی اصل اتھارٹی ہے اور اسوہ رسولﷺ اس کی عملی تعبیر۔جہاں قرآن واحادیث متفق،اسوہ رسول و نت موجودہو، وہاں اختلاف ممکن نہیں ہے کیونکہ سنت اوراسوہ ہمارے دین کااہم امتیازہے۔
اسوئہ محض الفاظ نہیں،یہ ایک زندہ حقیقت ہے۔رسولﷺنے دین کوصرف بیان نہیں کیا، انہوں نے اسے زندگی میں ڈھال کردکھایا۔ آپ ﷺنے نمازسکھائی کتاب کے ذریعے نہیں،عمل کے ذریعے، آپﷺنے اخلاق سکھایا،نظریہ کے ذریعے نہیں، کردارکے ذریعے، یہی وہ مقام ہے جہاں دین،زندگی بن جاتا ہے۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم تعبیراتی ادب کی درجہ بندی کریں۔اب سوال یہ نہیں کہ حدیث، فقہ،تصوف یاتاریخ کورد کیاجائے بلکہ یہ کہ انہیں صحیح مقام دیاجائے۔حدیث ہماراعلمی وتاریخی ذخیرہ ہے ،فقہ انسانی فہم واجتہادہے،تصوف،روحانی تعبیروتجربہ ہے اورتاریخ انسانی بیانیہ ہے۔یہ سب دین نہیں،بلکہ دین کوسمجھنے کی کوششیں اورذرائع ہیں۔ یہاں ایک نہایت اہم امتیازسامنے آتاہے،اسوہ زندہ نمونہ ،سنت مدون روایت۔اور اسوہ وہ ہے جو جیاگیا،سنت وہ ہے جولکھا گیااورجہاں لکھا جائے، وہاں اختلاف ممکن ہے۔
دین کی منتقلی کتاب نہیں زندگی کے ذریعے معرضِ وجودمیں آئی۔نبیﷺنے دین کوصرف الفاظ میں نہیں دیا،انہوں نے اسے انسانوں کے اندرمنتقل کیا۔نمازکتاب سے نہیں،عمل سے سیکھی گئی،صحابہ نے دیکھا،سیکھا،اپنایااورآگے منتقل کیا۔وضوروایت سے نہیں،مشاہدے سے،یہی ہے تواترِعملی،ایک ایساتسلسل جونسل درنسل جاری رہا۔نماز روزہ،حج یہ سب پہلے جئے گئے،پھرلکھے گئے۔سوال یہ ہے کہ پھرواپسی کیسے ممکن ہو؟واپسی کوئی جذباتی نعرہ نہیں،یہ ایک شعوری،ایک فکری انقلاب اورمرحلہ وارعمل ہے۔اس کے چنداصول ہیں۔
پہلامرحلہ شناخت کی تجدیدہے۔ہم خودکو دوبارہ متعارف کراتے ہیں کہ میں مسلم ہوں، دوسرا مرحلہ اتھارٹی کے تعین کاہے،قرآن اور اسوہ رسول ﷺہی فیصلہ کن ہیں، بس۔ تیسرامرحلہ مطالعے کانیازاویہ اپنایاجائے، براہِ راست قرآن سے آغازکیاجائے، چوتھامرحلہ لٹریچر کی درجہ بندی کی جائے،سب کچھ اپنی جگہ،مگراتھارٹی صرف وحی الٰہی،یعنی کتاب اللہ۔سب کچھ اپنی جگہ مگرمرکز ایک، پانچواں مرحلہ عمل کی اصلاح کاآغازاس طرح کیا جائے کہ عبادات کو مسلکی نہیں،نبوی شعورسے ادا کیا جائے۔ چھٹامرحلہ اختلاف کانیازاویہ،نیا اسلوب اختیارکیاجائے کیونکہ اختلاف کوتعبیرسمجھنا،دین نہیں ہے اور ساتواں مرحلہ اندرونی تبدیلی بہت ضروری ہے یعنی تکبرکی جگہ تواضع کی طرف سفر،تعصب کی جگہ تحقیق کاراستہ اختیارکیاجائے۔
جب دین اپنے اصل مرکزپرلوٹ آتاہے تودین بحث نہیں،زندگی بن جاتاہے،اختلاف تصادم نہیں ،تنوع بن جاتاہے،شناخت مٹتی نہیں،مگر غالب نہیں رہتی اورسب سے بڑھ کر میں حنفی،بریلوی، دیوبندی،سلفی او ر دیوبندی ہوں کی جگہ ’’میں مسلم ہوں‘‘ کا شعور بیدار ہوتاہے۔یوں دین کااحیااورامت کی بیداری کاآغاز ہوجائے گا اورتفرقہ،گروہ بندیاں دم توڑدیں گی اوریہ واپسی ایک فکری اورعملی انقلاب کاپیش خیمہ بن کرامت مسلمہ کے اتحادکا سبب بن جائے گا۔پہلے ہم اختلاف کوجنگ سمجھتے تھے،اب ہم اسے تعبیرسمجھیں گے،پہلے ہم دفاع کرتے تھے،اب ہم فہم تلاش کریں گے،اختلاف ختم نہیں ہوگا،مگراس کامزاج بدل سکتاہے، پہلے ہم اختلاف کوتصادم اورجنگ سمجھتے تھے،اب ہم اسے تعبیرسمجھیں گے، پہلے ہم دفاع کرتے تھے،اب ہم فہم تلاش کریں گے گویاہمیں اختلاف کانیا زاویہ اپناناہوگاجس کے بعدآپس کااحترام سبقت لے جائے گا۔
جب یہ تبدیلی آتی ہے توتکبرختم ہوتاہے، گروہی برتری ختم ہوتی ہے،سیکھنے کاجذبہ پیداہوتا ہے، یہ ایک اندرونی انقلاب ہے۔یہ واپسی صرف ذہنی نہیں، یہ باطنی بھی ہے۔گویا فردکا انقلاب باطن کی تطہیر بن کردلوں کی کدورت کودورکرکے محبت کے آئینے کی ساری دھند کوصاف کردیتاہے۔جب مرکزایک ہوجائے، دیواریں خودگرنے لگتی ہیں،توامت خودبخود قریب آجاتی ہے۔ لیبلز اپنی اہمیت کھودیتے ہیں، دین زندگی بن جاتا ہے اورسب سے بڑھ کرایک نئی شناخت ابھرتی ہے، نیاشعور بیدار ہوتاہے کہ میں مسلم ہوں او یوں وحدت کی یہ پالیسی امت کی خوشگوار تبدیلی اورمضبوط طاقت بن جاتی ہے۔ یہ واپسی کوئی ماضی پرستی نہیں،یہ حقیقت پسندی ہے۔یہ کسی مسلک کا انکار نہیں،یہ دین کی بازیافت ہے۔یہ کسی روایت کی نفی نہیں، یہ مرکزکاتعیین ہے۔یہ ایک اندرونی ہجرت ہے جس میں انسان اپنے تعصبات سے نکل کر ق کی طرف سفرکرتاہے۔ جب یہ واپسی ہوتی ہے توکیاہوتاہے؟دل بدلتے ہیں،سوچ بدلتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ پوری امت کامزاج بدل جاتاہے۔وہ لوگ جوپہلے ایک دوسرے کوغلط ثابت کرنے میں مصروف تھے،اب سچ کوسمجھنے میں لگ جاتے ہیں،وہ زبانیں جوپہلے تفرقہ پھیلاتی تھیں،اب وحدت کی بات کرتی ہیں،وہ دل جوپہلے نفرت سے بھرے تھے،اب اخوت کی خوشبوسے مہکنے لگتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں دین دوبارہ زندہ ہوتاہے۔دین کتابوں سے نکل کرکردار میں آتاہے، نمازرسم سے تعلق بن جاتی ہے،قرآن تلاوت سے ہدایت بن جاتاہے اور نسان ایک چلتی پھرتی دلیل بن جاتاہے دین کی،مگر یہ سب خود بخود نہیں ہوگا۔یہ ایک فیصلہ مانگتا ہے، ایک جرأت مانگتاہے،ایک سچائی مانگتا ہے،ہمیں فیصلہ کرناہوگا،کیا ہم اپنی شناختوں کے ساتھ جڑیں رہیں گے؟یاہم اپنی اصل شناخت ’’مسلم‘‘کو دوبارہ اختیار کریں گے؟کیاہم اختلاف کوجنگ بناتے رہیں گے؟ یا اسے فہم کاذریعہ بنائیں گے؟کیاہم دین کوکتابوں میں بندرکھیں گے؟یااسے اپنی زندگی میں اتاریں گے؟یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ ایک بارپھر ہمیں پکاررہی ہے۔ہم بہت دورنہیں گئے،ہم نے بس راستہ کھودیا ہے۔راستہ آج بھی وہیں ہے۔اللہ اورآقاﷺکے لائے ہوئے دین کے احیاء کے لئے واپسی اب بھی ممکن ہے،کیونکہ قرآن اپنی روشنی کے ساتھ موجودہے، اور رسولﷺکا اسوہ اپنی آب وتاب کے ساتھ روشن ہے۔دین کوکتابوں سے نکال کراپنی زندگی میں لاناہوگا،پھرنمازبھی سکون بن جاتی ہے،قرآن قدم قدم پررہنمائی کرتاہے اورانسان ایک زندہ مثال بن جاتاہے۔مگر صرف ان کے لئے جوواقعی واپس جانا چاہتے ہیں۔اب سوال یہ نہیں کہ راستہ کہاں ہے؟سوال صرف یہ ہے کیا ہم اس پہلی سیڑھی پردوبارہ قدم رکھنے کے لئے تیار ہیں؟آخرمیں صرف ایک سوال رہ جاتاہے۔اوریہ سوال اب آپ کے لئے ہے،کیاآپ اس واپسی کا حصہ بنیں گے؟یاصرف پڑھ کرآگے بڑھ جائیں گے؟