Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

’’چاردن،ایک صدی کاسبق‘‘

(گزشتہ سے پیوستہ)
چنانچہ جب دفاعی بجٹ میں بیس فیصد اضافہ کیاگیااوراسے 2550ارب روپے تک پہنچایا گیاتویہ فیصلہ محض عسکری اداروں کے لئے وسائل کی فراہمی نہ تھا بلکہ ایک اجتماعی عزم کااظہاراور توانا پیغام تھاکہ ہم اپنے تحفظ کی قیمت اداکرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ پیغام کہ ریاست اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے ہرممکن تدبیر اختیار کرے گی، چاہے اس کے لئے اقتصادی ترجیحات کوہی کیوں نہ ازسرِنو ترتیب دیناپڑے۔
یہ اضافہ دراصل ایک تہذیبی ردعمل بھی ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں جواپنی حفاظت سے غافل ہوجاتی ہیں،وقت کے تندوتیز دھاروں میں بہہ جاتی ہیں۔پاکستان نے اس حقیقت کوپیشِ نظررکھتے ہوئے اپنی ترجیحات کوازسرِنوترتیب دیا،اوردفاع کومحض ایک شعبہ نہیں بلکہ قومی بقا کاستون قراردیا ۔ دفاعی بجٹ میں اضافہ ایک طرف بیرونی خطرات کا ردعمل ہے تودوسری طرف داخلی چیلنجز بالخصوص دہشت گردی کابھی جواب۔ گویا یہ بجٹ ایک دودھاری تلوارہے جوبیک وقت بیرونی دشمن اورداخلی انتشاردونوں کامقابلہ کرنے کے لئے تیارکی گئی ہے۔
جب ہم پاکستان کے دفاعی اخراجات کوعالمی تناظرمیں دیکھتے ہیں توایک پیچیدہ مگرواضح تصویر سامنے آتی ہے۔یہ تصویرایک ایسے ملک کی ہے جوجغرافیائی طورپرحساس خطے میں واقع ہے،جہاں ہرسمت سے چیلنجزسراٹھائے کھڑے ہیں۔بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس اس حقیقت کومزید واضح کرتی ہیں کہ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں دفاعی اخراجات محض اختیارنہیں بلکہ مجبوری بن چکے ہیں۔ جب عالمی سطح پرپاکستان کے دفاعی اخراجات میں اضافہ نوٹ کیا جاتاہے تواس کے پیچھے صرف عسکری عزائم نہیں بلکہ جغرافیائی حقیقتیں بھی کارفرماہوتی ہیں ۔گویا دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ صرف داخلی ضروریات کانتیجہ ہے بلکہ بیرونی دباؤاورعلاقائی مسابقت کابھی مظہرہے۔چین کے ساتھ دفاعی معاہدے،جدید طیاروں اورمیزائلوں کی خریداری،پہلے سے طے شدہ سودوں کی تکمیل،اورطویل المدتی معاہدے یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان ایک طویل المدتی دفاعی حکمت عملی،ایک منظم اورتدریجی حکمت عملی پرگامزن ہے۔یہ محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک تدریجی عمل ہے جس میں ہرقدم سوچ سمجھ کراٹھایاجارہاہے۔
یہاں یہ امربھی قابلِ غورہے کہ دفاعی اخراجات میں اضافہ ہمیشہ طاقت اورجارحیت کی علامت نہیں ہوتا،بلکہ بعض اوقات یہ دفاعی ضرورت اورعدمِ تحفظ کے احساس کاآئینہ بھی ہوتاہے۔مگرقومیں اسی احساس کوقوت میں بدلنے کاہنررکھتی ہیںاوریہی ہنرپاکستان کی عسکری حکمت عملی میں جھلکتاہے کہ پاکستان کی دفاعی پالیسی اسی اصول پرمبنی ہے کہ طاقت کا توازن ہی امن کی ضمانت ہے۔
پاکستان کی عسکری تاریخ میں آرمی راکٹ فورس کمانڈ کاقیام ایک سنگِ میل اورانقلابی قدم کی حیثیت رکھتاہے۔یہ محض ایک نئی یونٹ نہیں بلکہ ایک نئے نظرئیے،جدید جنگی فلسفے کی عملی تعبیرہے ایک ایسافلسفہ جس میں رفتار،دورماررسائی،درستگی اورفوری ردعمل کومرکزی حیثیت حاصل ہے۔ماضی میں طویل فاصلے تک مارکرنے والے میزائل اسٹریٹجک سطح پرمحدود تھے،مگرجدید جنگ نے یہ تقاضاکیاکہ ان صلاحیتوں کو روایتی جنگی ڈھانچے میں بھی شامل کیاجائے۔راکٹ فورس کاقیام دراصل اسی ضرورت کاجواب ہے۔یہ قوت دشمن دراصل دشمن کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اب پاکستان دورسے نشانہ بنانے،فوری ردعمل دینے،اورجنگ کواپنے حق میں موڑنے کی کہیں بہترصلاحیت رکھتا ہے۔فاصلہ اب محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا، ہر مقام،ہروقت،اورہرزاویہ خطرے کی زدمیں آسکتاہے۔
یہی وہ حکمت ہے جوجدیدجنگ میں برتری کا تعین کرتی ہے۔یہ اقدام ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتاہے کہ جدید جنگ میں برتری اسی کوحاصل ہوتی ہے جوفاصلے کواپنی قوت بنالے۔ ڈرون وارفیئریونٹ کاقیام اس حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ جنگ اب خاموشی کے پردے میں لڑی جارہی ہے۔دراصل اس یونٹ کاقیام جدیدجنگ کے اس نئے باب کی علامت ہے جہاں سپاہی کی جگہ مشین لے رہی ہے،اورمحاذکی جگہ آسمان۔ڈرونزکی پروازیں بظاہر خاموش ہوتی ہیں، مگر ان کااثرگرجتے ہوئے طوفان سے کم نہیں ہوتا۔پاکستان کی جانب سے اس یونٹ کی تشکیل اوراس کی عملی مشقیں اس امرکی دلیل ہیں کہ ملک جدیدجنگی تقاضوں اور رحجانات کوسمجھ رہاہے اوران کے مطابق خودکوڈھال رہاہے۔
ڈرونزکی سب سے بڑی خصوصیت ان کی خاموشی اوردرستگی ہے۔یہ نہ صرف نگرانی کرتے ہیں بلکہ حملہ آوربھی ہوسکتے ہیں۔گویا یہ ایک ایساہتھیارہے جودیکھتابھی ہے اورمارتابھی ہے اوریہ دونوں کام بیک وقت کرتاہے۔اوریہی دوہری صلاحیت انہیں ایک منفرد ہتھیاربناتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں ڈرونزکاکردارفیصلہ کن ہوسکتاہے۔یہ گویا وہ خاموش سپاہی ہیں جونہ تھکتے ہیں، نہ ڈرتے ہیں،اورنہ ہی اپنی موجودگی کااعلان کرتے ہیںمگرجب حرکت میں آتے ہیں توتاریخ کادھارابدل دیتے ہیں۔
پاکستان کی بحریہ نے بھی اس جنگ کے بعد اپنی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلیاں اورصلاحیتوں میں اضافہ کیاہے۔نئے جہازوں کی شمولیت اورہنگورکلاس آبدوزکااضافہ اس بات کی علامت ہے کہ سمندری دفاع کومرکزی حیثیت دی جارہی ہے۔پاکستان سمندری حدود کے تحفظ کوبھی اتنی ہی اہمیت دیتاہے جتنی زمینی سرحدوں کو۔سمندرہمیشہ سے تجارت اور طاقت کا مرکز اوراستعارہ رہے ہیں۔جو قوم سمندروں پراپنی موجودگی مضبوط رکھتی ہے،وہ نہ صرف اپنی سرحدوں کاتحفظ کرتی ہے بلکہ عالمی تجارت ومعیشت میں بھی اپنامقام مستحکم بناتی ہے۔پاکستان کی بحری حکمت عملی اسی اصول پر مبنی ہیکہ سمندرصرف پانی نہیں بلکہ طاقت کاراستہ ہیں۔
جدیدجنگ میں سب سے بڑی برتری وہ ہے جونظرنہ آئے۔سٹیلتھ طیارے اسی فلسفے اورتصورکی عملی شکل ہیں۔پاکستان کی جانب سے جدیدسٹیلتھ طیاروں کے حصول کی کوششیں اس بات کی دلیل ہے کہ ملک مستقبل کی جنگی ضروریات کومدنظررکھ رہاہے۔یہ طیارے دشمن کے ریڈارسے اوجھل رہ کرحملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،اوریہی ان کی سب سے مؤثر اور بڑی طاقت ہے۔گویایہ وہ سایہ ہیں جو نظرنہیں آتا، مگر جب گزرتاہے تواپنے اثرات چھوڑجاتاہے۔(جاری)

یہ بھی پڑھیں