Search
Close this search box.
اتوار ,05 جولائی ,2026ء

نئے اتحاد۔۔۔۔پرانے خدشات

بین الاقوامی سیاست کی بساط پراس وقت جونقشہ ابھررہاہے،وہ کسی خاموش طوفان کی مانندہے ،بظاہرسکون،مگرباطن میں ارتعاش۔ عالمی سیاست کی تاریخ میں بعض ادوارایسے آتے ہیں جب قوت کے توازن میں خاموش مگرفیصلہ کن تبدیلیاں رونماہوتی ہیں۔موجودہ زمانہ بھی انہی ادوارمیں سے ایک ہے، جہاں پرانے اتحادیوں کی بنیادیں ہلتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اورنئی رفاقتیں غیرمتوقع زاویوں سے جنم لے رہی ہیں۔زمانہ اپنی کروٹیں بدل رہاہے اورعالمی سیاست کا افق ایک نئے اضطراب سے ہمکنارہے۔ اسرائیل، جو نصف صدی سے زائدعرصے تک مغربی حمایت کے مضبوط حصارمیں محفوظ رہا،اب اسی حصارمیں دراڑیں محسوس کررہاہے۔
وہ اسرائیل جوکبھی یورپ کی آغوشِ حمایت میں پروان چڑھتارہا،آج اپنے ہی مہربانوں کی نظروں میں اجنبی ہوتاجارہاہے۔اسرائیل،جو کبھی مغربی حمایت کا محور تھا،اب ایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں اس کے دیرینہ حلیف بھی اس کی پالیسیوں سے بیزاردکھائی دیتے ہیں۔ یورپ کے ایوانوں میں اب وہ گرمجوشی باقی نہیں رہی جو کبھی اس کے لئے مخصوص تھی،اور امریکاکے سیاسی حلقوں میں بھی ایک نئی احتیاط،بلکہ کہیں کہیں اجنبیت کی لہردکھائی دیتی ہے۔نیتن یاہوکی پالیسیوں نے ایسی تندآندھی کوجنم دیاہے کہ پرانے اتحادی بھی دامن جھٹکنے لگے ہیں۔حتی کہ امریکا،جوبرسوں سے اس کاسب سے بڑاپشت پناہ رہا،اب خودفاصلے کی دیواریں اٹھانے پرمجبور دکھائی دیتاہے۔
یہ بیزاری محض سفارتی سردمہری نہیں بلکہ ایک اخلاقی اضطراب کی بازگشت ہے۔یہ تغیرمحض سفارتی نزاکت کانتیجہ نہیں بلکہ ان پالیسیوں کاعکس ہے جنہوں نے انسانی ضمیرکوجھنجھوڑ کر رکھ دیاہے۔غزہ کی سرزمین پر بہنے والاخون،مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی جارحیت، اب ایران کی سرزمین پرہونے والی تباہ کاریوں اور انسانی جانوں کے ضیاع نے جہاں عالمی ضمیرکو جھنجھوڑ کررکھ دیاہے وہاں عالمی رائے عامہ کوبدلنے پرمجبور کر دیا ہے۔یورپ کے ایوانوں میں اب وہ یکجہتی باقی نہیں رہی،اورامریکامیں بھی پالیسی ساز حلقے ایک نئی سوچ کی طرف مائل نظرآتے ہیں۔
ایسے نازک لمحے میں جب پرانے رفیق کنارہ کش ہورہے ہیں،اورسفارتی تنہائی اسرائیل کا مقدربنتی دکھائی دیتی ہے،ایک ایسی شیطانی آوازہے جو اس ویران بزم میں بھی ہم نوائی کا سازچھیڑرہی ہے۔یہ آوازبھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہے،جونہ صرف اس تعلق کو سینچ رہاہے بلکہ اس کی آبیاری میں اپنے سفارتی سرمائے کوبھی داؤپرلگاچکاہے۔یہ وہ تعلق ہے جس میں اصول پسِ پشت اورمفاد پیشِ پیش دکھائی دیتاہے۔یہ تعلق وقتی مفادات کی بنیادپرنہیں بلکہ ایک گہری نظریاتی ہم آہنگی کا پرتومعلوم ہوتاہے۔مودی اورنیتن یاہو، دونوں اپنے اپنے ممالک میں طاقت کے ایسے مرکزبن چکے ہیں جہاں فیصلہ سازی کامحورشخصی ارادہ ہے،نہ کہ اجتماعی مشاورت۔مودی اورنیتن یاہودو نام،مگر ایک سی فکری ساخت۔ دونوں جمہوریت کے علمبردارکہلاتے ہیں،مگران کی حکمرانی کے خدوخال میں سخت گیری اور مرکزیت کی جھلک نمایاں ہے۔گویاجمہوریت کے لبادے میں ایک مضبوط گرفت کی سیاست پروان چڑھ رہی ہو۔ان کے ہاں اختلاف کی گنجائش کم اور اطاعت کی طلب زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
ان کی سیاست میں ایک ایسی مرکزیت ہے جوجمہوریت کی روح سے ہم آہنگ ہونے کی بجائے اس پرغالب آنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔اسی پس منظرمیں ایک غیر معمولی منظر بھارت کاکردارابھرتا ہے جب دنیافاصلے بڑھا رہی ہے،بھارت ایک ایسا ملک بن کر سامنے آیا ہے جونہ صرف اسرائیل کے ساتھ کھڑاہے بلکہ اس کی حمایت میں پیش پیش دکھائی دیتا ہے۔یہ رویہ محض سفارتی نہیں بلکہ ایک فکری جھکاؤ کا مظہر ہے ۔
دونوں رہنمائوں کے نظریاتی سانچے میں مذہب کو مرکزیت حاصل ہے۔دونوں رہنمائوں کے بیانیے میںقومی شناخت کوایک مقدس مقام حاصل ہے۔ اسرائیل میں یہ شناخت یہودی قومیت کے گردگھومتی ہے، جبکہ بھارت میں ہندوتوا کاتصوراسی طرح کی مرکزیت اختیارکر چکاہے۔ دونوں اپنے اپنے دائرے میں ایک ایسی وحدت کوجنم دیتے ہیں جس میں اقلیتیں اجنبی اور غیرمانوس بن کررہ جاتی ہیں۔ مسلمانوں کے حوالے سے دونوں ریاستوں کابیانیہ ایک عجیب ہم آہنگی رکھتا ہے، جیسے دوالگ سازایک ہی دھن بجارہے ہوں۔اس فکری ڈھانچے میں اقلیتیں محض حاشیے کی ایک تحریربن کررہ جاتی ہیںدیکھی ضرورجاتی ہیں مگرپڑھی نہیں جاتیں۔ مودی اورنیتن یاہوکی قیادت میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئی جہت اختیارکرچکے ہیں۔ان دونوں رہنمائوں کی سیاست میں ایک قدر مشترک نمایاں ہے ،قوت کاارتکازاور ریاستی بیانیے پرمکمل گرفت۔ان کی حکمرانی میں جمہوریت ایک رسمی ڈھانچہ محسوس ہوتی ہے،جبکہ اصل قوت محدود دائرے میں مرتکزدکھائی دیتی ہے۔
5اکتوبر2023ء کاوہ لمحہ تاریخ کے اوراق میں ایک علامت بن کرثبت ہوچکاہے جب حماس کے حملے کے بعدسب سے پہلی ہمدردی کی صداواشنگٹن یالندن سے نہیں بلکہ نئی دہلی سے بلندہوئی۔جس نے اس تعلق کی نوعیت کومزیدواضح کردیا۔جب خطہ ایک بارپھر آگ کی لپیٹ میں آیا،توعالمی ردعمل میں احتیاط اور توقف نمایاں تھا،مگرنئی دہلی سے اٹھنے والی آوازفوری اوربے تامل تھی۔مودی کی جانب سے نیتن یاہوکوکی گئی فون کال محض ایک سفارتی اشارہ نہیں بلکہ ایک گہری نظریاتی وابستگی کامظہرتھی۔یہ ایک ایسا لمحہ تھاجس نے دونوں قیادتوں کے باہمی اعتمادکودنیاکے سامنے عیاں کردیا۔دونوں ریاستوں میں قومی شناخت کومذہبی بنیادوں پراستوارکیاگیاہے۔اسرائیل میں یہودی قومیت اوربھارت میں ہندوتوا کانظریہ،دونوں اپنے اپنے معاشروں میں ایک ایسی فضاپیدا کرتے ہیں جہاں اقلیتوں کے لئے گنجائش سکڑتی چلی جاتی ہے۔یہ رجحان نہ صرف داخلی سطح پراثرانداز ہوتا ہے بلکہ خارجہ پالیسی کو بھی متاثرکرتاہے۔
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں