Search
Close this search box.
هفته ,04 جولائی ,2026ء

خاموش طوفان،خاموش محاذ

(گزشتہ سے پیوستہ)
اسرائیل کیلئے2015ء کاجوہری معاہدہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسازخم ہے جس کی ٹیس آج بھی اس کی پالیسیوں میں محسوس ہوتی ہیں۔اس وقت نیتن یاہونے امریکی صدر اوباما کے خلاف کھلے عام محاذآرائی اختیارکی تھی۔امریکی کانگریس میں ان کی تقریرایک سیاسی طوفان بن گئی تھی،جس میں انہوں نے معاہدے کو اسرائیل کی بقاء کے لئے خطرہ قراردیا۔ گویاایک اتحادی ملک کے اندر جا کراس کی پالیسی کوچیلنج کرنایہ ایک غیرمعمولی قدم تھا۔اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل نوازلابنگ گروپس نے بھی اپنی پوری قوت جھونک دی۔ میڈیا، سیاست اور سفارت کاری ہر محاذ پر دباؤ ڈالاگیا،مگرمعاہدہ پھربھی طے پا گیا۔ اس واقعے نے اسرائیل کویہ سبق دیاکہ صرف مخالفت کافی نہیں،حکمت عملی بھی ضروری ہے۔
آج ایک بارپھروہی منظرنامہ مختلف اندازمیں سامنے آرہاہے۔اسرائیل کے پاس دوسراآپشن یہی ہے کہ وہ ماضی کی طرح سفارتی اور سیاسی دباؤکوبروئے کارلائے۔ابتدائی مفاہمت اورحتمی معاہدے کے درمیان جوخلاہوتاہے،وہی اس کیلئے سب سے بڑا میدانِ عمل بن سکتا ہے۔اسی لئے اسرائیل کاایک ممکنہ راستہ یہ ہے کہ وہ معاہدے کی شکل وصورت پراثراندازہونے کی بھرپور کوشش کرے۔اس عمل میں وہ نہ صرف امریکی سیاسی نظام کے مختلف دھڑوں کومتحرک کرے گابلکہ عالمی رائے عامہ کوبھی اپنے حق میں ہموارکرنے کی کوشش کرے گا۔
بیانیہ سازی یہاں ایک ہتھیاربن جاتی ہے اورشاید سب سےمؤثرہتھیار۔اس دوران وہ کانگریس کومتحرک کرسکتاہے،ایران کے میزائل پروگرام کوعالمی خطرہ بنا کرپیش کر سکتا ہے اورحتی کہ خفیہ کارروائیوں کے ذریعے مذاکرات کو متاثر کرنے کی کوشش بھی کرسکتاہے۔ گویاجنگ کا میدان اب بارودسے نکل کربیانیے میں منتقل ہو چکاہے مگر اس حکمت عملی کی اپنی حدودہیں۔ عالمی سیاست اب یکطرفہ دبائوکواسی شدت سے قبول نہیں کرتی جیسا ماضی میں کیاجاتا تھا۔ایران نے بھی وقت کے ساتھ اپنی سفارتی مہارت کوبہترکیاہے اوروہ اب محض ردعمل دینے والافریق نہیں بلکہ ایک فعال بیانیہ تخلیق کرنے والاکرداربن چکاہے۔
سوال لیکن یہ ہےکہ کیایہ حکمت عملی اس بارکامیاب ہوگی؟کچھ تجزیہ کاروں کے نزدیک نہیں۔ان کے مطابق ایران اب پہلےسے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔اس نے نہ صرف دباؤبرداشت کیاہے بلکہ اپنی داخلی ساخت کوبھی مستحکم رکھاہے۔یوں وہ مذاکرات کی میزپر کمزورنہیں بلکہ ایک خوداعتمادفریق کےطورپربیٹھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اسرائیلی حلقے اس معاہدے کو 2015ء سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں۔ان کے نزدیک ایران اب مراعات لینے کی پوزیشن میں ہے، دینے کی نہیں۔
اس صورتحال میں اسرائیل کاتیسراراستہ ابھرتاہے اوروہ ہےعسکری آزادی کو برقرار رکھنا ۔اسی تناظرمیں اسرائیل کےلئےعسکری خودمختاری کاتصور اہمیت اختیارکرتاہے۔وہ یہ باور کرانا چاہتاہےکہ چاہے کوئی بھی سفارتی معاہدہ ہو،اس کی دفاعی پالیسی کسی بیرونی معاہدے کی پابندنہیں ہوگی۔یہ ایک ایسااصول ہے جسے اسرائیلی سکیورٹی حلقے ’’آزادیِ عمل ‘‘کہتے ہیں ۔اس کامطلب یہ ہے کہ چاہے کوئی بھی معاہدہ ہوجائے، اسرائیل اپنے دفاع کے لئے یکطرفہ کارروائی کاحق محفوظ رکھےگامگراس اعلان کی عملی حیثیت اس وقت کمزور پڑ جاتی ہےجب اسے امریکاکےساتھ اپنے گہرےعسکری اورمالی تعلقات کا سامنا ہوتا ہے۔ آزادی کادعویٰ اورانحصار کی حقیقت دراصل ایک پیچیدہ تضادہے۔اسی لئےبعض حلقے ایک درمیانی راستہ تجویزکرتے ہیں ایسی محدودعسکری کارروائیاں جومکمل جنگ کادروازہ کھولے بغیر پیغام بھی دے سکیں۔یہ حکمت عملی دراصل طاقت کے مظاہرے اوراحتیاط کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرنےکی کوشش ہے لیکن یہاں ایک تلخ حقیقت بھی موجودہے۔ اسرائیل کی عسکری طاقت اپنی جگہ،مگروہ امریکاکی حمایت کے بغیرطویل جنگ کابوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اگرواشنگٹن سفارت کاری کوترجیح دیتا ہےتو اسرائیل کےہاتھ بندھ سکتے ہیں۔
یہی وہ نازک مقام ہےجہاں طاقت اور انحصار کاتضادسامنے آتاہے۔اسرائیل طاقتورہے،مگر مکمل خودمختارنہیں۔اسی لئےکچھ مبصرین کاخیال ہےکہ اسرائیل کھلی جنگ کےبجائے محدوداورمنتخب کارروائیوں پر اکتفا کرےگاایسی کارروائیاں جوپیغام بھی دیں اورمکمل تصادم سےبھی بچائیں۔ یوں اسرائیل کے سامنےراستےتوکئی ہیں، مگر ہر راستہ کانٹوں سے بھرا ہے۔ نہ مکمل جنگ ممکن ہے،نہ مکمل امن قابلِ قبول۔ تاہم اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم عنصروقت ہے۔ اگرمذاکرات طویل ہوجاتےہیں تواسرائیل کے پاس اپنے اثرورسوخ کواستعمال کرنے کے مزید مواقع ہوں گے لیکن اگرمعاہدہ جلدی طے پا جاتاہےتواسےایک ایسی حقیقت کا سامنا کرنا پڑےگاجسے تبدیل کرنااس کے بس میں نہیں ہوگا۔یوں اسرائیل ایک ایسی بساط پرکھیل رہاہے جہاں ہرچال سوچ سمجھ کرچلنی ہے،کیونکہ ایک غلط قدم نہ صرف موجودہ پوزیشن بلکہ مستقبل کے امکانات کوبھی متاثرکرسکتاہے۔
جب براہِ راست تصادم ممکن نہ رہے توطاقت اپنی شکل بدل لیتی ہے اورتاریخ گواہ ہے کہ جنگ سایوں میں منتقل ہوجاتی ہے۔اسرائیل کے لئے تیسرااورشاید سب سے عملی آپشن یہی ہے،خفیہ جنگ۔یہی اصول یہاں بھی کارفرما نظرآتاہے۔اسرائیل کے لئے خفیہ کارروائیاں ایک ایسامیدان ہیں جہاں وہ اپنی برتری کوبرقراررکھ سکتاہے بغیراس کے کہ وہ کھلی جنگ کے خطرات مول لے۔یہ حکمت عملی بظاہر خاموش ہوتی ہے،مگراس کے اثرات گہرے ہوتے ہیں۔یہ وہ حکمت عملی ہے جس میں گولیاں کم اورسرگوشیاں زیادہ ہوتی ہیں۔سائبر حملے ،خفیہ کارروائیاں،سائنسی تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانا،اورمخصوص اہداف کاخاتمہ یہ سب اس خاموش جنگ کےاجزااورخوفناک ہتھیارہیں جوجدیددورمیں روایتی جنگ کی جگہ لے رہی ہے۔
اسرائیل اس میدان میں نیانہیں۔ماضی میں بھی اس نے ایران کے خلاف ایسی کارروائیاں کی ہیں۔مگرسوال یہ ہے کہ کیایہ حکمت عملی ایک جامع حل فراہم کرسکتی ہے؟اکثرماہرین کاجواب نفی میں ہےکیونکہ انکے مطابق یہ اقدامات وقتی دباؤتوڈال سکتے ہیں مگرایران کے بنیادی ڈھانچے کوختم نہیں کرسکتے۔ اس طریقہ کارکی بھی اپنی حدودہیں۔یہ وقتی خلل تو پیداکرسکتا ہےمگرکسی ریاست کے بنیادی ڈھانچے کومکمل طور پر منہدم نہیں کرسکتا۔ایران کی مثال اسکی واضح دلیل ہے، جہاں داخلی دباؤکے باوجودریاستی نظام برقراررہا ہے۔ ایران نے ثابت کیاہے کہ وہ اندرونی خلفشارکے باوجود قائم رہنے کی صلاحیت رکھتاہے۔

یہ بھی پڑھیں