Search
Close this search box.
جمعه ,03 جولائی ,2026ء

خاموش طوفان،خاموش محاذ

زمانہ اپنے سینے میں کتنے ہی ان کہے رازدفن رکھتاہے،مگرکبھی کبھی تاریخ کادروازہ اس طرح کھلتاہے کہ اندرکی ہرسرگوشی طوفان بن کرباہرآتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے باروداوربیانیے کے امتزاج سے تشکیل پاتی رہی ہے،مگرموجودہ مرحلہ اس روایت سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔آج مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے ہی موڑپرکھڑاہے جہاں سفارتکاری کی مسکراہٹ کے پیچھے جنگ کی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔یہ صرف ریاستوں کاتصادم نہیں بلکہ تصورات،مفادات اور بقاء کے فلسفوں کاٹکراؤہے۔ایران اورامریکاکے درمیان بڑھتی ہوئی مفاہمتی کوششیں بظاہرایک سفارتی پیش رفت ہیں،لیکن ان کے باطن میں ایک ایسی ارتعاش پوشیدہ ہے جوخطے کے طاقت کے توازن کوازسرِنوترتیب دے سکتی ہے۔
ایران اورامریکاکے درمیان ممکنہ مفاہمت کی بازگشت محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ طاقت،خوف اور بقاء کے فلسفے کانیاباب ہے اوراس باب کے حاشیے پراسرائیل کی بے چینی صاف لکھی جاسکتی ہے۔سوال اب محض یہ نہیں رہاکہ یہ عبوری معاہدہ کامیاب ہوگایانہیں،اصل سوال یہ ہے کہ اگرواشنگٹن اورتہران ہاتھ ملا لیتے ہیں توتل ابیب کی انگلیاں کس سمت اٹھیں گی؟اسرائیل کیلئے یہ صورتحال ایک ایسے مسافرکی مانند ہے جومنزل کے قریب پہنچ کرراستہ کھوبیٹھے۔اسرائیل کے لئے یہ صورتحال محض ایک خارجی چیلنج نہیں بلکہ داخلی اضطراب کابھی سبب بن چکی ہے۔ اس کے پالیسی سازاب اس حقیقت کوتسلیم کرنے پرمجبورہیں کہ دنیایک قطبی نظم سے نکل کرایک ایسی کثیرالجہتی حقیقت میں داخل ہورہی ہے جہاں ہرفیصلہ مکمل اختیارکی بجائے مفاہمت کے سائے میں ہوتاہے۔
اسرائیلی سیاسی اورعسکری حلقوں میں بحث کازاویہ بدل چکاہے۔پہلے کوشش یہ تھی کہ معاہدے کوروکاجائے،مگراب گفتگو اس بات پر مرکوزہے کہ اگریہ معاہدہ ہوگیاتواس کے اثرات کاسامناکیسے کیاجائے۔ اگرواشنگٹن اورتہران کسی مشترکہ فریم ورک پرمتفق ہوجاتے ہیں تویہ صرف ایک معاہدہ نہیں ہوگابلکہ عالمی طاقت کی ترجیحات میں تبدیلی کااعلان ہوگا۔اس صورت میں اسرائیل کوپہلی باریہ احساس شدت سے ہوگاکہ اس کاروایتی اسٹریٹیجک سہارایعنی امریکاکی غیرمشروط حمایت اب مشروط حقیقت میں تبدیل ہورہاہے۔ گویاکشتی کوطوفان سے بچانے کی تدبیرناکام ہوگئی ہواوراب ملاح لہروں کے ساتھ بہنے کی حکمت عملی سوچ رہاہو۔
اسرائیلی صہیونی مراکزاورعسکری اداروں میں ہونے والی بحثوں کامرکزی نکتہ ابروک تھام سے موافقت کی طرف منتقل ہوچکا ہے۔یہ تبدیلی بظاہرتدبیرمعلوم ہوتی ہے،مگردرحقیقت یہ ایک خاموش اعتراف بھی ہے کہ بعض اوقات تاریخ کوروکا نہیں جاسکتا،صرف اس کے ساتھ چلنے کی حکمت سیکھنی پڑتی ہے۔ممکنہ معاہدہ،جسے بعض حلقے2015ء کے جوہری معاہدے کاترمیم شدہ عکس قراردیتے ہیں،اسرائیل کیلئے ایک پیچیدہ معمہ ہے۔اس میں ایران کے جوہری پروگرام پرقدغنیں توہوں گی، مگراس کے میزائل،ڈرون اورخطے میں پھیلے اتحادی نیٹ ورک بدستورقائم رہیں گے۔ یوں یہ معاہدہ ایک ایسے درخت کی مانندہوگاجس کی شاخیں کاٹ دی جائیں مگرجڑیں سلامت رہیںاورجڑیں ہی تواصل خطرہ ہوتی ہیں۔
ممکنہ معاہدے کی ساخت اگرچہ ابھی غیرواضح ہے،لیکن اس کے خدوخال یہ ظاہرکرتے ہیں کہ ایران کومکمل طورپرمحدودکرنے کی بجائے اسے ایک قابلِ برداشت فریق کے طورپر تسلیم کیاجارہاہے۔یہی وہ پہلو ہے جواسرائیل کے لئے سب سے زیادہ تشویش کاباعث ہے، کیونکہ اس کاپوراسکیورٹی بیانیہ ایران کوایک ناقابلِ قبول خطرہ قراردینے پرقائم رہاہے۔
اسرائیلی تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ معاہدہ جنگ کے ابتدائی اہداف سے انحراف ہوگا۔وہ اہداف جو ایران کے علاقائی اثرکومحدودکرنے، اس کے عسکری ڈھانچے کوکمزورکرنے اور اس کے اتحادی نیٹ ورک کومنتشرکرنے سے جڑے تھے مگراب حقیقت کاآئینہ کچھ اور دکھارہا ہے۔ اسرائیل شاید مکمل فتح کے خواب سے دستبردارہوکرمحض قابلِ قبول نقصان کی سطح پر آکھڑاہو اہے ۔
یہ صورتحال خوداسرائیل کے اندر فکری انتشار اورنفسیاتی کشمکش کوجنم دے رہی ہے۔ایک طرف کچھ حلقے اس معاہدے کوناگزیر حقیقت سمجھ کراس کے اند راپنے مفادات کیلئے جگہ نکالنے کے خواہاں ہیں، دوسری طرف نظریاتی شدت ہے جوہرقسم کی مفاہمت کو کمزوری تصور کرتے ہوئے اسے ایک خطرناک پسپائی تصورکرتے ہیں۔یہی تضادجہاں اسرائیل کے اعصاب کوکمزورکررہا ہے وہیں اسرائیلی پالیسی سازوں کوغیریقینی کی دھندمیں لپیٹ رہاہے۔ایک اہم پہلویہ بھی ہے کہ اگرمذاکرات طول پکڑتے ہیں اورامریکاکی دلچسپی مدہم پڑتی ہے تواسرائیل خودکوایک ایسے خلامیں پائے گا جہاں نہ جنگ کاسہاراہوگانہ سفارت کاری کایقین۔ایسی صورت میں ایران کاجوہری پروگرام بغیرکسی مؤثرپابندی کے آگے بڑھ سکتاہے اوراس کاعلاقائی اثرمزیدگہراہوسکتاہے۔یہ منظرنامہ اسرائیل کیلئے انتہائی ڈراؤناخواب ہے۔
دلچسپ امریہ ہے کہ کچھ تجزیہ کارایک نامکمل معاہدے کوبھی بغیرمعاہدیسے بہترسمجھتے ہیں۔ان کے نزدیک جزوی کنٹرول بھی مکمل بے قابوصورتحال سے بہتر ہے مگراس سوچ کے مقابل ایک مضبوط دھڑایہ استدلال پیش کرتاہے کہ ناقص معاہدہ دراصل خطرے کومؤخر کرتا ہے،ختم نہیں کرتا۔یہی وہ مقام ہے جہاں اسرائیل کے سامنے پہلاراستہ ابھرتاہے: معاہدے کواپنے حق میں ڈھالنے کی کوشش۔اس حکمت عملی کے تحت وہ امریکاپر دباؤ ڈال کرمعاہدے کی شرائط کوسخت بنواناچاہتاہے یعنی یورینیم کی افزودگی پرمکمل پابندی،میزائل پروگرام کی تحدید،اور سخت نگرانی کانظام۔لیکن یہاں بھی ایک خلاموجودہے۔اسرائیل جوچاہتاہے اورامریکاجو قبول کرنے کوتیارہے،ان دونوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا جارہا ہے ۔ یہ فاصلہ محض سفارتی نہیں بلکہ اسٹریٹیجک ہے اوریہی فاصلے اکثرتاریخ میں تصادم کوجنم دیتے ہیں۔ یوں مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے شطرنج کے کھیل میں داخل ہوچکاہے جہاں ہرچال کے پیچھے کئی چالیں پوشیدہ ہیں۔ایران،امریکا اور اسرائیل تینوں اپنی اپنی بساط بچھائے بیٹھے ہیں،مگر بادشاہت کاتاج ابھی کسی کے سرپرنہیں آیااور شایدیہی غیریقینی کیفیت اس پورے منظرنامے کوسب سے زیادہ خطرناک بناتی ہے۔
اسی پس منظر میں یہ سوال شدت اختیارکرجاتا ہے کہ اگرعبوری معاہدہ معاہدہ مستقل طورپرطے پاگیا تو اسرائیل کی ترجیحات کیاہوں گی؟کیاوہ اسے وقتی مصلحت سمجھ کرقبول کرے گایااسے ایک طویل المدتی خطرہ مان کراس کے خلاف خاموش مزاحمت جاری رکھے گا؟یہی وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری ایک فن کی بجائے ایک آزمائش بن جاتی ہے اورہر فیصلہ ایک نئے سوال کوجنم دیتا ہے۔یادرہے کہ تاریخ کبھی خاموش نہیں رہتی؛وہ اپنے اوراق کوبابار پلٹتی ہے تاکہ حال کوآئینہ دکھاسکے۔تاریخی تجربات اکثرحال کی حکمت عملیوں کی بنیادبنتے ہیں،اور اسرائیل کیلئے گزشتہ دہائی کے واقعات ایک مکمل نصاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس نصاب کا پہلا سبق یہ ہے کہ بین الاقوامی معاہدے صرف مذاکراتی میزپرنہیں بنتے بلکہ میڈیا،سیاست اور خفیہ سفارت کاری کے متعدد میدانوں میں تشکیل پاتے ہیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں