Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

اللہ کے راستے میں خرچ کیا کرو

(گزشتہ سے پیوستہ)
حضور اقدسﷺ نے فرمایا بے شک وہ عرض کرنے لگے اپنا دست مبارک مجھے پکڑا دیجئے تاکہ میں آپ کے دست مبارک پر ایک عہد کروں حضور ﷺ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا تو انہوں نے معاہدے کے طور پر آپ کا ہاتھ مبارک پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنا باغ اپنے اللہ کو قرض دے دیا ان کے باغ میں چھ سو درخت کھجور کے تھے اور اسی باغ میں ان کے بیوی بچے بھی رہتے تھے۔ گویا معاش کا دارومدار ہی اس باغ پر تھا یہاں سے اٹھ کر اپنے باغ میں تشریف لے گئے اور اپنی بیوی ام دحداح کو کہا کہ چلو اس باغ سے نکل چلو، یہ باغ میں نے اپنے رب کو دے دیا ہے، آنحضرت ﷺ نے اس باغ کو چند یتیموں پر تقسیم فرما دیا۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ کہ جو ایک نیکی کرے گا اس کو دس گنا ثواب ملے گا، تو حضورﷺ نے دعا فرمائی کہ یا اللہ میری امت کا ثواب اس سے بھی زیادہ کر دے پھر یہ آیت اتری ، حضورﷺ نے پھر دعا فرمائی کہ یا اللہ میری امت کا ثواب اور بھی زیادہ کر، تو پھر جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسا کہ ایک دانہ ہو جس میں سات بالیں اُگی ہوں اور ہر بال میں سو دانے ہوں، تو ایک دانے سے سات سو دانے مل گئے، اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں زیادہ عطا فرمائیں۔
حضورﷺ نے پھر دعا فرمائی کہ اللہ میری اُمت کا ثواب اور بھی زیادہ کر دے اس پر یہ آیت اتری بغیر حساب۔ کہ صبر کرنے والوں کو پورا پورا دیا جائے گا جو بے حدو حساب ہو گا ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک فرشتہ ندا کرتا ہے کون ہے جو آج قرض دے اور کل پورا پورا بدلہ لے لے ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ اللہ رب العزت اپنے بندے سے فرماتے ہیں کہ اے آدم کے بیٹے اپنا خزانہ میرے پاس امانت رکھ دے نہ اس میں آگ لگنے کا اندیشہ ہے نہ غرق ہونے کا نہ چوری کا، میں ایسے وقت میں وہ تجھ کو پورا پورا واپس کروں گا جس وقت تجھے اس کی انتہائی ضرورت ہوگی۔اور وہ قیامت کا دن ہو گا جس دن نہ خریدو فروخت ہو سکتی ہے اور نہ مال کام آ سکتا ہے ، اور نہ دوستی اور نہ ہی عزیز و رشتہ دار۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا جب تک کہ حساب کا فیصلہ یعنی قیامت کے دن جب آفتاب سوا نیزہ پر ہو گا اور کسی چیز کا سایہ بھی نہ ہو گا تو ایسے سخت وقت میں ہر شخص اپنے صدقات کی مقدار سے سایہ میں ہو گا جتنا زیادہ صدقہ دنیا میں کیا ہو گا اتنا ہی زیادہ سایہ ہو گا ایک حدیث میں آتا ہے کہ صدقہ قبر کی گرمی کو دور کرتا ہے اور ہر شخص قیامت کے دن اپنے صدقہ سے سایہ حاصل کرے گا ایک حدیث میں آتا ہے کہ صدقہ برائی کے ستر دروازے بند کرتا ہے ایک حدیث میں آتا ہے کہ صدقہ اللہ جل شانہ کے غصہ کو دور کرتا ہے اور بری موت سے حفاظت کرتا ہے ایک حدیث میں ہے کہ صدقہ عمرکو بڑھاتا ہے، اور بری موت کو دور کرتا ہے اور تکبر اور فخر کو مٹاتا ہے ایک حدیث میں آتا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ ایک روٹی کے لقمہ سے یا ایک مٹھی کھجور یا کوئی ایسی ہی معمولی چیز جس سے مسکین کی ضرورت پوری ہوتی ہو تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرماتے ہیں ایک صاحب خانہ جس نے صدقہ کا حکم دیا دوسرے گھر کی بیوی جس نے روٹی وغیرہ پکائی، تیسرے وہ خادم جس نے فقیر تک روٹی پہنچائی، یہ حدیث بیان فرما کر ارشاد فرمایا ساری تعریفیں اس اللہ ہی کے واسطے ہیں کہ جس نے ہماری خادموں کو بھی ثواب سے فراموش نہیں کیا ۔
ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہ جانتے ہو کہ بہادر کون ہے لوگوں نے عرض کیا جو مقابلہ میں دوسروں کو پچھاڑ دے آپﷺ نے فرمایا بڑا بہادر وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے پھر فرمایا کہ جانتے ہو بانجھ کون ہے؟ عرض کیا گیا جس کی اولاد نہ ہو آپﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ اصل بانجھ وہ ہے جس نے کوئی اولاد آگے نہ بھیجی ہو پھر فرمایا جانتے ہو فقیر کون ہے؟ لوگوں نے عرض کیا جس کے پاس مال نہ ہو آپﷺ نے فرمایا نہیں پورا فقیر وہ ہے جس کے پاس مال ہو لیکن اس نے آگے یعنی آخرت میں کچھ نہ بھیجا ہو، کہ اس دن وہ خالی ہاتھ کھڑا رہ جائے گا جس دن اس کو سخت احتیاج ہو گی حضورﷺ کے اس طرح کے متعدد فرامین مبارکہ ہیں جن کا اس مختصر مضمون میں سمانا ممکن نہیں جو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے فضائل سے لبریز ہیں ایک مومن مسلمان کے لئے تو ایک آدھ ارشاد بھی کافی ہونا چاہئے چہ جائیکہ کہ اتنی کثیر تعداد میں فضائل سنائے جائیں اور پھر انسان اللہ کے راستے میں خرچ کرنے پر آمادہ نہ ہو اور بخل سے کام لے تو اس سے بڑھ کر اور بدقسمتی اور محرومی کیا ہوگی پھر رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جس میں ہر عمل کا بھا بڑھ جاتا ہے نفل فرض کے برابر اور ہر فرض کا اجر ستر فرضوں کے برابر اس میں آنحضرت ﷺ کی سخاوت بھی بے حد و حساب ہوتی تھی ہمیں بھی چاہئے کہ اس مبارک اور قیمتی سیزن میں اپنے آپ کو تمام خیروں اور نیکیوں کا پابند بنائیں اور اللہ کے راستے میں خوب سے خوب اور زیادہ سے زیادہ خرچ کر کے اپنے اللہ کو راضی کر لیں اور دنیا اور آخرت کی تمام مصیبتوں اور تکلیفوں سے بھی اپنے آپ کو بچا لیں اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق نصیب فرمائے آمین۔

یہ بھی پڑھیں