Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

خلیفہ ثالث حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ (وہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنہیں دنیا میں جنت کی بشارت دی گئی) میں شامل، اور دامادِ رسول ﷺ ہونے کا اعزاز پانے والے قابل اور عظیم المرتبت صحابی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ قریش کے معزز قبیلے بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے اور زمانہ جاہلیت میں بھی آپ کو آپ کی دیانت، صداقت اور نرم خوئی کے باعث معزز سمجھے جاتے تھے۔ آپ کا نسب رسول اللہ ﷺ سے پانچویں پشت میں جا کر ملتا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا اور نہ صرف اپنے مال و دولت سے اسلام کی خدمت کی، بلکہ ہر مشکل وقت میں دین کی سربلندی کے لیے آگے بڑھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت دس سال سے زائد عرصے پر محیط رہا، جو فتوحات، عدل و انصاف، اور قرآن کریم کی تدوین جیسے بے شمار اہم کارناموں سے عبارت ہے۔ آپ کی شخصیت حیاء، سخاوت اور صبر کا پیکر تھی۔آپ کا نام عثمان رضی اللہ عنہ جبکہ کنیت ابو عبد اللہ اور لقب ذوالنورین تھا، (دو نوروں والا)پورا نسب نامہ درج ذیل ہے۔نام: عثمان بن عفّان بن أبی العاص بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف القرشی الأموی. اسی اعتبار سے عثمان رضی اللہ عنہ کا نسب مبارک آٹھویں پشت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا نسب یوں ہے: محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف.یعنی دونوں بزرگ عبد مناف پر جا کر ملتے ہیں۔ چونکہ ہاشم بن عبدمناف قریش کے سب معزز ترین قبیلہ سمجھا جاتا تھا اور عرب میں انتہائی عقیدت والا مانا جاتا تھا اس اعتبار سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قریش کے معزز قبیلے بنی امیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ذوالنورین کا معنی و مطلب: ذوالنورین (ذُو ٱلنُّورَيْن) کا مطلب ہے: دو نوروں والا۔ لقب کی وجہ:حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ عظیم لقب اس لیے دیا گیا کیونکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی دو بیٹیوں سے نکاح یکے بعد دیگرے کیا، یعنی ایک کے بعد دوسری سے، اور تمام صحابہ کرام میں یہ شرف کسی اور صحابی کو حاصل نہیں ہوا۔پہلے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا نکاح رسول اللہ ﷺ کی بیٹی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے ہوا۔ان کے انتقال کے بعد نبی کریم ﷺ نے اپنی دوسری بیٹی حضرت اُمّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔اس لیے آپ کو ذوالنورین یعنی دو نوروں والا کہا جانے لگا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: اگر رسول اللہ ﷺ کی تیسری بیٹی بھی ہوتی اور عثمان رضی اللہ عنہ چاہتے، تو آپ ﷺ وہ بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بیاہ دیتے۔(بحوالہ: تاریخ الخلفاء، امام سیوطی)یہ لقب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قربت اور مقام کی علامت ہے۔حضر ت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام ایک عظیم واقعہ ہے، جو ابتدائی اسلام کی روشنی میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا۔ وہ اسلام قبول کرنے والے چوتھے یا پانچویں شخص تھے، اور ابتدائی دور ہی میں ایمان لے آئے تھے۔قبولِ اسلام پس منظر :حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں:”میں شام کے سفر پر گیا۔ راستے میں خواب میں دیکھا کہ چاند آسمان سے زمین پر اتر آیا، اور میں نے اسے اپنی جھولی میں لے لیا۔ جب میں واپس آیا تو لوگوں سے اس خواب کا ذکر کیا۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ محمد بن عبد اللہ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جنہوں نے مجھے بتایا کہ وہ (محمد ﷺ) سچے اور امین ہیں۔ انہوں نے مجھے اسلام کی دعوت دی اور میں نے فوراً کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔(بحوالہ: طبقات ابن سعد، الاستیعاب، الاصابہ)حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کنواں:حضرت عثمان غنی نے اپنے دور خلافت میں مسجد نبوی کی توسیع اور قرآن پاک کو یکجا فرمایا۔مدینہ ہجرت کے بعد مسلمانوں کو میٹھے پانی کی بڑی تکلیف تھی۔شہر مدینہ میں بئررومہ کے نام سے میٹھے پانی کاایک کنواں تھا حضرت عثمان نے ۳۵ ہزاردرہم کے عوض یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا جس پر نبی اکرم نے آپ کو جنت کی بشارت دی۔
اسلام لانے کی خصوصیات،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بلا کسی جبر یا لالچ کے خود اپنی خوشی سے مشرف بااسلام ہوئے اور مسلمان ہونے کا پروانہ اللہ تعالیٰ ان کو عطا فرمایا. آپ کا تعلق مکہ کے معزز ترین قبیلے بنی امیہ سے تھا، اور قبیلے کی امتیازی خصوصیات آپ میں بدرجہ اتم موجود تھیں. اور آپ رضی اللہ عنہ مالدار، نرم مزاج اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔اسلام لانے کے بعد آپ نے خاندان اور قبیلے کی سخت مخالفت کا سامنا کیا، لیکن ثابت قدم رہے۔بیعت رضوان :سن 6 ہجری میں واقعہ حدیبیہ کے موقع پریہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہی تھے جنہوں نے سفارت کے فرائض انجام دیے اوراپنی جان کی پرواکئے بغیر حضور نبی اکرم ﷺ کے نمائندے کی حیثیت سے آپ ﷺ کاپیغام قریش مکہ تک پہنچایا۔ اسی موقع پر جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی افواہ پھیلی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چودہ سو کے قریب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جمع کر کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص پر بیعت لی اور جب آپ ﷺ بیعت لے رہے تھے تو آپ ﷺ نے اپنے بائیں دستِ مبارک کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیا۔ اسی بیعت کو بیعتِ رضوان کہتے ہیں۔ اس کے بارے میں اللہ رب العزت نے سورۃٔ فتح کی آیت نمبر 18 میں فرمایا:’’اللہ یقینا اُن مؤمنین سے راضی ہو گیا جنہوں نے درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔‘‘الفتح: 18گویا ان چودہ سو صحابہ کو حضرتِ عثمان کی وجہ سے اللہ کی رضا کا پروانہ ملا۔
( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں