Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

خلیفہ ثالث حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
بغض عثمان رضی اللہ عنہ کا انجام :سنن ترمذی میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب کے باب میں لکھا ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص کی نمازِ جنازہ اس لیے چھوڑ دی کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا جس وجہ سے اللہ نے بھی اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا۔رفیق رسول اللہ ﷺ ،امام ترمذی حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا:لِکُلِّ نَبِیِّ رَفِیْقٌ وَ رَفِیْقِیْ یَعْنِی فِی الْجَنَّةِ عُثْمَانُ.(ترمذی، السنن، 5: 624، رقم: 3698)’’ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان رضی اللہ عنہ ہے۔
خلافت،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد خلافت کا تاج داماد رسول حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے سر پر سجایا گیا. چونکہ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے مقام اور عزت ومرتبت سے واقف تھے اس لیے اتفاق رائے سے آپ کو خلیفہ ثالث کے طور منتخب فرمایا، خلافت کا پس منظر:حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد، مسلمانوں نے ایک کمیٹی بنائی تھی جو نیا خلیفہ منتخب کرے گی۔اس کمیٹی میں سات اہم صحابہ شامل تھے جن میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔چونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو سب کی طرف سے اعتماد حاصل تھا اور آپ کی سیرت، کردار اور علم میں کوئی شک نہ تھا، اس لیے انہیں خلافت کے لیے منتخب کیا گیا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا آغاز 12 ہجری میں ہوا، یعنی نبی ﷺ کی وفات کے تقریباً 23 سال بعد۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلافت کی ذمہ داری حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد دی گئی۔طریقہ انتخاب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کی مشاورت (شوراء) اور اکثریتی رائے سے خلیفہ منتخب کیا گیا۔خلافت کا دور: تقریباً 12 سال (12 ہجری سے 24 ہجری تک) حضرت عثمان غنیؓ کی مظلومانہ شہادت:اسلام کی تاریخ ایسے درخشاں ستاروں سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے دینِ محمدی ﷺ کی خاطر اپنی جان، مال، وقت اور راحتیں سب قربان کر دیں۔ انہی عظیم شخصیات میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا نام نہایت نمایاں ہے۔ آپ نہ صرف عشرہ مبشرہ میں شامل تھے بلکہ رسول اللہ ﷺ کے داماد اور دو مرتبہ آپ کی بیٹیوں کے شوہر ہونے کے باعث ’’ذوالنورین‘‘ کے لقب سے بھی مشہور ہوئے۔ اتنے بڑے اعزازات کے باوجود بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دین اسلام کی سربلندی کیلئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کیا۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ کی خلافت کے آخری ایام فتنوں سے بھر گئے۔ خارجیوں نے مختلف علاقوں میں بغاوت اور پروپیگنڈہ پھیلایا، جس کا مقصد خلافت کی بنیادوں کو ہلانا تھا۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ کے حلم اور صبر کو کمزوری سمجھا گیا، حالانکہ آپ رضی اللہ عنہ ہر قدم پر رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا رہے۔ مخالفین کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدے سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو اس وقت کے فتنوں میں صبر و استقامت کی وصیت فرمائی تھی۔آپ رضی اللہ عنہ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے، جس میں آخری کے چھ سالوں میں کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آئے، جو بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوئے۔سن 35ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعہ بیاسی سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا، آپ کی شہادت کے وقت حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سمیت کئی صحابہ کرام آپ کے گھر کے دروازے پر پہرہ بھی دے رہے تھے لیکن اس کے باوجود بلوائی آپ کے گھر میں پیچھے کی سمت سے داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے. قاتلوں نے نہ صرف آپ کا قتل کیا بلکہ آپ کے گھر کا محاصرہ کرکے پانی تک بند کر دیا، یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں امیرالمومنین کے گھر پر حملہ کرکے اس مقدس وجود کو شہید کر دیا گیا، جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا: اَلَا أَسْتَحِی مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِی مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ(کیا میں اُس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں)۔آپ کی شہادت اسلام کی تاریخ کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، جو نہ صرف امت مسلمہ کے لیے المیہ تھا بلکہ مسلمانوں کی وحدت و یگانگت میں دراڑ ڈالنے کی پہلی بڑی سازش بھی تھی۔

یہ بھی پڑھیں