Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

صرف پرہیز گار اللہ کے نزدیک افضل

خطبہ حج الوداع کی بڑی خاص اہمیت ہے،یہ نسل انسانی کے حقوق کا بنیادی منشور ہے، یہ خطبہ ہمارے لئے مشعل راہ بلکہ ہماری زندگی بدلنے اور دین کا نچوڑ ہے،جس میں آقائے نامدارﷺہر طرح کے معاملات و مسائل کو بیان فرمایا اور رہتی دنیا تک کے آنے والی انسانیت کے لئے ایک بہترین منشور دیاجو پہلے کوئی پیس نہ کرسکا،جس نے ہماری زندگیوں میں انقلاب برپا کردیا، بے شک یہ خطبہ ہمارے لئے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے، یہ خطبہ حضور اکرمﷺکی سیرت طیبہ کا خلاصہ اور اس کی عملی تفسیر ہے۔آپ ﷺ نے اس خطبہ میں اس طرح کلمات فرمائے جیسے کسی سے کوئی الوداع ہوتا یا کسی کو الوداع کرتا ہے۔ اس لئے اس خطبے کا نام خطبہ الوداع مشہور ہوا۔ آپﷺ نے اس سال خطبہ میں احکام اسلامی کی خصوصی تبلیغ فرمائی۔پہلا 9ذی الحجہ کو عرفات میں، دوسرا 10 ذی الحجہ کو منیٰ میں اور تیسرا خطبہ 11 یا 12ذی الحجہ کو منیٰ میں ہی دیا گیا۔ خطبہ حج الوداع کے وقت آپ ﷺ کے اردگرد ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین موجود تھے، یہ خطبہ 10ہجری میں دیا گیا تھا۔آپ ﷺنے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد ارشاد فرمایالوگو! میری باتیں سنو! شاید اگلے سال مجھے اور تمہیں ایسی محفل میں اکٹھے ہونے کا موقع نہ ملے۔ میں آج کے دن مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کو قیامت تک ایک دوسرے پر حرام کرتا ہوں، جس طرح تمہیں اس مہینے اور اس دن کا احترام ہے اسی طرح تمہیں ایک دوسرے کے مال، آبرو اور خون کا احترام کرنا چاہیے۔ کوئی چیز جو ایک بھائی کی جائز ملکیت میں ہے دوسرے پر حلال نہیں، جب تک کہ وہ خود اپنی خوشی سے اسے نہ دے۔
آپ ﷺنے قیامت کے دن احتساب کے بارے میں فرمایایاد رکھو! ایک دن ہم سب کو مر کر خدائے تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہونا ہے۔ جہاں ہر ایک سے اس کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔نبی اکرمﷺ نے غیر اسلامی رسوم کے بارے میں فرمایا لوگو! یاد رکھو زمانہ جاہلیت کی ہر رسم میرے قدموں کے نیچے ہے میں اسے ختم کرتا ہوں۔ زمانہ جاہلیت کے قتل و خون کے جھگڑے آج تک ختم کردیئے جاتے ہیں اس سلسلے میں سب سے پہلے میں خود ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کے خون سے دستبردار ہوتا ہوںاس خطبہ میں حضور اکرمﷺنے اسلامی مساوات کا درس دیاسب مسلمان بھائی بھائی ہیں، عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہاں!صرف پرہیز گاری خدا کے نزدیک افضل ہے کمزورو ں کے حقوق کے بارے میں آپ ﷺنے فرمایا غلاموں اور عورتوں کے تم پر حقوق ہیں، ان حقوق کا خاص خیال رکھو۔ عورتوں کے ساتھ نرمی اختیار کرو اور مہربانی سے پیش آئو۔ غلاموں کو وہی کھلا جو خود کھاتے ہو اور انہیں وہی لباس پہناجو خود پہنتے ہو۔آپ ﷺنے مزید فرمایاہر شخص اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہے۔ بیٹا باپ کا اور باپ بیٹے کے جرم کا ہرگز ذمہ دار نہیں حضور اکرمﷺ نے اطاعت امیر کا حکم دیااگر کوئی حبشی کان کٹا غلام بھی تمہارا امیر ہو اور تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کروحضور اکرم ﷺنے فرمایا: لوگو!نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا نہ نئی امت پیدا ہوگی۔ خوب سن لو!اپنے رب کی عبادت کرو، پانچوں وقت نماز پڑھو، رمضان کے روزے رکھو، مال کی زکوٰۃ خوشی خوشی ادا کرو، خانہ کعبہ کا حج کرو اور اپنے حاکموں کے فرمانبردار رہو۔ اس کی جزا یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہوجا گیاور میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم انہیں مضبوطی سے پکڑ لو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہیں کتاب اللہ اور اس کے نبی کی سنت آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاجو لوگ یہاں موجود ہیں وہ یہ باتیں غیر حاضر لوگوں تک پہنچادیں۔ ممکن ہے بعض سامعین کے مقابلے میں بعض غیر حاضر لوگ ان باتوں کو زیادہ اچھی طرح یاد رکھیں اور ان کی حفاظت کریں اے لوگو!اللہ تعالیٰ نے میراث میں سے ہر وارث کے لئے ثابت کردہ حصہ مقرر کیا ہے اور ایک تہائی مال سے زیادہ وصیت کرنا جائز نہیں ہے بچہ اس کا جس کے بستر پر (نکاح میں)تولد ہوا اور بدکار کے لئے پتھر!جس نے اپنے باپ کی بجائے کسی دوسرے کو باپ قرار دیا تو ایسے شخص پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی طرف سے لعنت ہے۔ اس کے لئے قیامت کے دن کوئی عوض یا بدلہ نہ رکھا جائے گا۔
اس خطبہ میں نبی اکرم ﷺنے چار قابل احترام مہینوں کا بھی ذکر فرمایا یعنی ذی القعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب، آپ ﷺنے امانت کی ادائیگی کا حکم دیا جس کے قبضے میں کوئی امانت ہے تو اسے اس کے مالک کو ادا کردےآپ ﷺ نے سود کو حرام قرار دیادور جاہلیت کا سود کالعدم کردیا گیا ہے البتہ تمہارے لئے راس المال پر حق ہوگا۔ نہ تم کسی پر ظلم کر و نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ سب سے پہلے میں اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کے سودی مطالبات کو کالعدم کرتا ہوںخطبہ کے آخر میں آپﷺنے لوگوں سے پوچھاکیا میں نے تمہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچادیا؟سب نے بیک آواز جواب دیا آپ نے اپنا حق ادا کردیا۔ اس پر آپ ﷺنے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور تین بار کہااے خدا!تو گواہ رہنا، اے خدا!تم گواہ رہنا، اے خدا!تم گواہ رہناآپ ﷺ کے پیغام کو ربیع بن امیہ بن خلف اپنی بلند آواز سے لوگوں تک پہنچارہے تھے۔ آپ ﷺ خطبہ سے فارغ ہو چکے تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی، آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین پسند کرلیاحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت سنی تو رونے لگے۔ اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سمجھ گئے تھے کہ حضور پاک ﷺ اس دنیا سے الوداع ہونے والے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں