گلگت کے جلسوں سے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘کی صدائیں آ رہی ہیں،جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جمہوری سیاست ابھی تک 9سالہ پرانے کٹے کے کھونٹے سے ہی بندھی ہوئی ہے،اس لئے ’’سیاہ ست‘‘ کے موضوع پر وقت ضائع کرنے کی بجائے انفاق فی سبیل اللہ کو موضوع بناتے ہیں،قرآن و حدیث کے مطالعہ سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے متعلق فضائل اتنی کثرت سے سامنے آتے ہیں کہ ان کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ مال و دولت پاس رکھنے کی شئے ہی نہیں ، بلکہ یہ پیدا کر کے انسان کو دیا ہی اس لئے گیا ہے کہ اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرے ، جتنی کثرت کے ساتھ انفاق فی سبیل اللہ کے فضائل وارد ہوئے ہیں ان سب کا اگر احاطہ کیا جائے تو اس کے لئے تو ایک عظیم دفتر کی ضرورت ہے ، اس مختصر سے کالم میں تو ان سب کا احاطہ ممکن نہیں بطور نمونہ چند آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ ہدیہ قارئین ہیں۔
قرآن کریم میں سورہ البقرہ کے بالکل آغاز میں جہاں قرآن کریم اپنے امام رشد و ہدایت ہونے کا اعلان کرتا ہے وہیں ان خوش نصیب لوگوں کا بھی تذکرہ کرتا ہے جن کو قرآن کریم سے کما حقہ فائدہ ہوتا ہے، اور وہ متقین ہیں، اور متقین کی جو صفات قرآن مجید نے ذکر فرمائی ہیں ان میں تیسرے نمبر پر انفاق فی سبیل اللہ کو ذکر فرمایا گویا قرآنی ہدایت سے استفادہ کرنے والی متقین کی جماعت کی شان امتیازی یہ ہے کہ من جملہ دیگر صفات مذکورہ کے وہ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والے ہوتے ہیں، اور اس خرچ میں وہ کسی قسم کے بخل سے کام نہیں لیتے سور ہ البقرہ میں ارشاد ہے ، ترجمہ اور تم لوگ اللہ کے راستے میں خرچ کیا کرو اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں نہ ڈالو اور (خرچ وغیرہ)اچھی طرح کیا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتے ہیں اچھی طرح کام کرنے والوں کو۔اس آیت کی تفسیر مشہور صحابی حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو کا مطلب یہ ہے کہ فقر کے ڈر سے اللہ کے راستے میں خرچ کا چھوڑ دینا ہے، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی اللہ کے راستے میں قتل ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے رک جانا ہے، سورہ البقرہ میں ہی ایک اور جگہ ارشاد ہے، آپ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ خیرات میں کتنا خرچ کریں، آپ فرما دیجئے کہ جتنا (ضرورت سے)زائد ہو۔اس آیت کی تشریح میں حضرت ابو امامہ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں اے انسان جو تجھ سے زائد ہے اس کو تو خرچ کر دے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے، اور تو ا س کو روک کر رکھے تو یہ تیرے لئے برا ہے اور بقدر ضرورت پر کوئی ملامت نہیں اور خرچ کرنے میں ان لوگوں سے ابتدا کر کہ جو تیرے عیال میں ہیں اور اونچا ہاتھ یعنی دینے والا بہتر ہے اس ہاتھ سے جو نیچے ہے یعنی لینے والا، سورہ البقرہ میں اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی ترغیب ایک اور عجیب انداز میں دی گئی ہے ارشاد ہے۔ترجمہ :کون ہے ایسا شخص جو اللہ جل شانہ کو قرض دے اچھی طرح قرض دینا پھر اللہ اس کو بڑھا کر بہت زیادہ کرے (اور خرچ کرنے سے تنگی کا خوف نہ کرو)کیونکہ اللہ جل شانہ ہی تنگی اور فراخی کرتے ہیں (اسی کے قبضے میں ہے)اور اس کی طرف لوٹائے جاگے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کو قرض سے تعبیر کیا گیا اس لئے کہ جس طرح قرض کی واپسی ضروری ہوتی ہے، اسی طرح اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا اجر و ثواب اور بدلہ ضرورملتا ہے، حدیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت اتری تو حضرت ابوالاحداح انصاریؓ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ جل شانہ ہم سے قرض مانگتے ہیں ۔ حضور اقدسﷺ نے فرمایا بے شک وہ عرض کرنے لگے اپنا دست مبارک مجھے پکڑا دیجئے تاکہ میں آپ کے دست مبارک پر ایک عہد کروں حضور ﷺ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا تو انہوں نے معاہدے کے طور پر آپ کا ہاتھ مبارک پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنا باغ اپنے اللہ کو قرض دے دیا ان کے باغ میں چھ سو درخت کھجور کے تھے اور اسی باغ میں ان کے بیوی بچے بھی رہتے تھے۔ گویا معاش کا دارومدار ہی اس باغ پر تھا یہاں سے اٹھ کر اپنے باغ میں تشریف لے گئے اور اپنی بیوی ام دحداح کو کہا کہ چلو اس باغ سے نکل چلو، یہ باغ میں نے اپنے رب کو دے دیا ہے، آنحضرت ﷺ نے اس باغ کو چند یتیموں پر تقسیم فرما دیا۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ کہ جو ایک نیکی کرے گا اس کو دس گنا ثواب ملے گا، تو حضورﷺ نے دعا فرمائی کہ یا اللہ میری امت کا ثواب اس سے بھی زیادہ کر دے پھر یہ آیت اتری ، حضورﷺ نے پھر دعا فرمائی کہ یا اللہ میری امت کا ثواب اور بھی زیادہ کر، تو پھر جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسا کہ ایک دانہ ہو جس میں سات بالیں اُگی ہوں اور ہر بال میں سو دانے ہوں، تو ایک دانے سے سات سو دانے مل گئے، اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں زیادہ عطا فرمائیں۔
(جاری ہے)