Search
Close this search box.
پیر ,06 جولائی ,2026ء

علماء،مشائخ ،شیوخ الحدیث کا تاریخی اجلاس

2 جولائی 2026ء جمعرات کے دن جامعہ دارالعلوم کورنگی کراچی کی وسیع وعریض مسجد ’’فلک‘‘کا منظر پیش کررہی تھی کہ جس میں چاند ستاروں کے جھرمٹ کی صورت میں اراکین عمومی و شوری و عاملہ و اکابرین امت موجود تھے، یوں یہ منظر صرف ایک اجلاس تک محدود نہیں رہتا، بلکہ نقوش تاریخ کا ایک ان مٹ باب بن جاتا ہے، جو ہمیشہ ذہنوں میں تازگی بخشتا رہے گا، واضح رہے کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ وشوریٰ وعمومی کے اراکین کی تعداد سولہ سو سے زائد ہے، اور یہ اجلاس ان تمام پلیٹ فارمز کا مشترکہ اجلاس تھا، اجلاس میں حسب سابق مولانا فضل الرحمن سرپر ست اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے جاندار خطاب کیا اور اپنے خطاب کے آخر میں اگلے پانچ سالوں کے لئے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کا نام صدارت کے لئے اور آیت الخیر مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کا نام ناظم اعلیٰ کے لیے پیش کیا مولانا کی تائید میں ان دونوں حضرات کے انتخاب کے لئے پورا ہائوس کھڑا ہو گیا، اور یہ لمحہ کوئی عام لمحہ نہیں تھا بلکہ ان دونوں شخصیات کو منتخب کرنے کے لئے جنہوں نے اپنے ہاتھ بلند کئے ، ان میں وقت کے شیوخ الحدیث مفسر قرآن اور جید علماء کرام شامل تھے، یوں علما،صلحا اور شیوخ الحدیث کی بھر پور تائید سے شیخ الاسلام مولانا مفتی تقی عثمانی دوسری بار، پانچ سال کے لیے وفاق المدارس کے صدر اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری ساتویں مرتبہ وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ منتخب کئے گئے، ساتویں بار ناظم اعلیٰ منتخب ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان پر اکابرین کا بھرپور اعتماد ہے اور یہی نہیں، بلکہ مولانا جالندھری گزشتہ 45سالوں سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مختلف عہدوں پر خدمات سر انجام دیتے چلے آ رہے ہیں۔
30 سال بطور ناظم اعلیٰ اور تقریبا ً15 سال بطور نائب صدر کے بھی فرائض سر انجام دے چکے ہیں، یہاں ملحدین،غامدین اور ان کے طفیلی طبلچی ٹولے سے کہ جہاد وعلما ودینی مدارسِ دشمنی جن کے رگ و ریشے میں سمائی ہوئی ہے ،جو دینی مدارس کے طلبا کو لبرل ،سیکولر بنانے کے لئے ’’مرے‘‘ جاتے ہیں، سے اس خاکسار کا سوال یہ ہے کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ، مجلس شوری اور مجلس عمومی کے مشترکہ انتخابی اجلاس میں شیخ الحدیث مولانا محمد حنیف جالندھری کو مسلسل ساتویں مرتبہ بلامقابلہ ناظمِ اعلیٰ منتخب کر کے ملک بھر کے جئید علماء ومشائخ نے ان پرجس اعتماد کا اظہار کیا وہ اپنی مثال آپ نہیں ہے ؟جمعرات کے دن اس خاکسار نے ممتاز مذہبی اسکالر مولانا اسامہ خطیب کی ہمراہی میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ’’دارلعلوم‘‘کورنگی کی خوبصورت مسجد میں شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کی قربت میں ادا کرنے کی سعادت حاصل کی،اور پھر مہمان خانے میں شیخ الحدیث مولانا محمد حنیف جالندھری سے تفصیلی ملاقات اور گفتگو ہوئی،مولانا حنیف جالندھری کی اس سے بڑھ کر خوش نصیبی اورکیا ہو سکتی ہے کہ جن کی صلاحیتوں پر اکابر علماء نے ہمیشہ اعتماد کیا،اور یہ بھی اکابرین کے اعتماد پر پورا اترے،انہوں نے وفاق کے اکابرین کی سرپرستی میں ’’وفاق المدارس العربیہ‘‘کو پاکستان کا سب سے کامیاب ترین تعلیمی بورڈ بنانے کے لئے جو انتھک جہدوجہد کی وہ عنداللہ ایسے مقبولیت کا شرف پا گئی کہ کفریہ طاقتیں اور ان کے ہمنوا طبلچی سارا زور لگا کر بھی نہ وفاق المدارس کا کچھ بگاڑ سکے اور نہ دینی مدارس کو بند کر سکے۔
امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر کا’’جرم‘‘تو جہاد تھا اس لئے وہ کفریہ طاقتوں اور ان کے طبلچی ٹولے کا اب تک نشانہ بنے ہوئے ہیں، سوال مگر یہ ہے کہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور شیخ الحدیث قاری حنیف جالندھری کفریہ طاقتوں کے طفیلی طبلچیوں کا نشانہ کیوں ہیں ؟ صرف اس لئے کیونکہ وہ دین حق کے چوکیدار ہیں،قوم کے 30 لاکھ سے زائد طلباء وطالبات کی تعلیمی اور نظریاتی تربیت کو سلف صالحین کے طریقے کے مطابق رکھنے کے علمبردار ہیں، نہ وہ فرنگی نظام تعلیم سے متاثر ہیں اور نہ وہ صلیبی، یہودی دانش گاہوں کو قرآن و سنت پر ترجیح دینے کو تیار ہیں ’’نظریات و ضمیر‘‘کے ’’چوروں‘‘کی ان سے کبھی بن ہی نہیں سکتی ،پچاسی سالہ مفتی محمد تقی عثمانی اور دل کے پیشنٹ مولانا محمد حنیف جالندھری کہ جنہوں نے منافقت کی آندھیوں اور لادین مادیت کے طوفانی تھپیڑوں کے درمیان سے وفاق المدارس کی ہچکولے کھاتی کشتی کو کنارے لگانے کے لئے جو مثالی جہدوجہد کی،اس پر انہیں صد بار مبارک باد پیش کرنا لازم ہے،بہرحال اجلاس میں مولانا فضل الرحمن کا خطاب اس لہاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا کہ جیسے یہ پالیسی بیان ہو،مولانا نے ’’جذبہ‘‘ اور’’پالیسی‘‘کو سامنے رکھ کر نہایت خوبصورت گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بسا اوقات ایک آدمی کے جذبات اچھے ہوتے ہیں لیکن دوسری طرف علما کی پالیسی کچھ اور ہوتی ہے تو ایسے میں جذبات کو پالیسی کے تابع بنانا چاہیے نہ کہ پالیسی کو اپنے جذبے کا تابع بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جناب نبی کریم ﷺسے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت دیں میں منافقین کی گردنیں اڑا دوں، حضرت عمرؓ کا یہ جذبہ اپنی جگہ بہت اچھا تھا، لیکن نبی علیہ السلام نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایسا کرنے سے منع فرمایا، اب حضرت عمر ؓ کا جذبہ درست ہونے کے باوجود، نبی علیہ السلام کی بات پالیسی بن گئی اور حضرت عمرؓ اسی جذبے کے ساتھ آپ کی پالیسی کے پابند ہو گئے، آج کل ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ جذباتی طور پر بہت سے نعرے لگاتے ہیں، لیکن انہیں دیکھنا چاہیے کہ اس وقت پاکستان میں علما ء کی صورت میں ایک اجتماعیت موجود ہے، لہٰذا اگر آپ کی کوئی بھی بات پالیسی کے مخالف ہو تو آپ کو قطعا ًاپنی بات پر اصرار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنے آپ کو جمیعت اور وفاق کی پالیسی کا پابند بنانا چاہیے ،مولانا فضل الرحمن نے یہ بھی واضح کیا کہ ہمیشہ طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں ہوتا، بلکہ انسان کو اپنی طاقت دیکھ کر اقدامات کرنے چاہیں بسا اوقات حکمت عملی کے ذریعے حاصل کی جانے والی کامیابیاں اپنی طاقت کے زعم میں کئے گئے اقدامات کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں