Search
Close this search box.
جمعه ,03 جولائی ,2026ء

مولانا فضل الرحمٰن کا جلال

بعض شخصیات اپنے عہد کی سیاست سے آگے بڑھ کر ایک فکر، ایک روایت اور ایک علمی سرمایہ بن جاتی ہیں۔ ان کی گفتگو میں دلیل کی قوت، کردار میں استقامت اور مزاج میں بے باکی ایسی نمایاں ہوتی ہے کہ دوست و دشمن دونوں ان کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہتے۔ مولانا فضل الرحمٰن بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط عوامی، دینی اور سیاسی زندگی میں بے شمار نشیب و فراز دیکھے، مگر اپنے مؤقف، حوصلے اور عزم میں کبھی کمزوری نہیں آنے دی۔ گزشتہ دنوں ان سے ہونے والی ایک نشست نے ان کی شخصیت کے کئی ایسے پہلو نمایاں کیے جو محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک صاحبِ علم، صاحبِ فکر اور صاحبِ بصیرت انسان کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ان سے رابطہ ہوا تو انہوں نے بدھ کی شام اپنے پاس بلوا لیا، ہم ان کی خدمت میں قائد سندھ برادرم مولانا راشد محمود سومرو کے ڈیرے پر حاضر ہوئے، نماز عصر اور مغرب ان کی امامت میں ادا کی، اس دوران خوب محفل جمی، وہاں قائد کراچی قاری محمد عثمان بھی تھے، یادگار اسلاف سید حماد اللہ شاہ بھی تھے، مانسہرہ سے آئے ہوئے مفتی ناصر محمود بھی تھے، بلوچستان سے سید محمود شاہ صاحب کے علاوہ اور بھی بہت سے احباب تھے ، مولانا فضل الرحمن کی محفل میں بیٹھنا کسی سعادت سے کم نہیں، علمی نکات، علمی شگوفے اور بعض دینی مسائل کے حوالے سے ذہنوں میں بنی ہوئی گرہیں ان کی گفتگو سے کھلتی چلی جاتی ہیں، مولانا فضل الرحمن نے ایسے ایسے علمی نکات انتہائی شگفتہ انداز میں بیان کیے کہ پوری محفل عش عش کر اٹھی،میرے نزدیک مولانا فضل الرحمن صرف” سیاسی” ہی نہیں بلکہ پاکستان کا قیمتی ترین “علمی” اثاثہ بھی ہیں، اللہ ان کی حفاظت فرمائے، اور وہ جو انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ،ان دھمکیاں دینے والے ظالموں کو اللہ ہدایت نصیب فرمائے، اگر ان کی قسمت میں ہدایت نہیں ہے تو اللہ ان کو تباہ و برباد فرمائے ،مجالس چونکہ امانت ہوا کرتی ہیں، اس لیے وہاں کی باتیں آف دی ریکارڈ ہی رہیں گی، ہاں البتہ اتنا ہم بتائے دیتے ہیں۔۔۔ کہ مولانا فضل الرحمٰن دلائل کے سمندر کے ایسے شناور ہیں کہ جنہیں طاقت کے زور سے نہ ڈرایا جا سکتا ہے۔۔۔۔اور نہ ہی جھکایا،مولانا نے چیف ایڈیٹر محترم مہتاب خان صاحب اور روزنامہ اوصاف کا حال احوال پوچھا۔۔۔تو اس خاکسار نے چیف ایڈیٹر اوصاف کی گستاخ چینل کے حوالے سے مجاہدانہ پالیسی سے آگاہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ اوصاف نے اپنے ادارئیے میں گستاخ چینل کی گستاخیوں کا خوب نوٹس لیا ہے،یہ سن کر مولانا نے چیف ایڈیٹر محترم مہتاب خان صاحب اور اوصاف ٹیم کو خوب دعاؤں سے نوازا،ان پر قاتلانہ حملوں کی تدبیریں کرنے والوں کو کوئی بتائے کہ نہ انکے والد بزدل تھے اور نہ فضل الرحمن بزدل ہیں،کیا بلوچستان کے علاقے پشیین اور کے پی کے ضلع چار سدہ میں ہونے والے انکے حالیہ کامیاب ترین جلسے انکی” بہادری” ثابتکرنے کے لئے کافی نہیں ہیں؟”بزدل” چھپ کر وار کرنے والے ہوتے ہیں،مولانا تو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکرانے والوں کی صفوں میں شامل ہیں،اور اس خاکسار نے تو نوے کی دہائی میں انہیں افغانستان میں سکڈ میزائلوں کے خوفناک دھماکوں میں بھی مسکراتے ہوئے دیکھا،مولانا پہ تین خود کش حملے ہوئے،ڈی آئی خان والے گھر پہ راکٹ حملے ہوئے،انکے بیٹے کو راستے سے اغواء کرنے کی کوشش کی گئی،انکی جماعت کے ایک دو چار نہیں، بلکہ درجنوں علماء اور سیکنڑوں کارکنوں کو
دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا،ہے کوئی پاک سر زمین پر ایسی “آنکھ” کہ جس نے مولانا فضل الرحمٰن کو کبھی خوفزدہ یا گھبرایا ہوا دیکھا ہو؟امریکی داعشی دہشت گرد مر، مر کر مرتے چلے جائیں گے۔۔۔ لیکن وہ مولانا فضل الرحمٰن کو “مار” نہیں سکیں گے،اس لئے کہ مرنا دہشتگردوں کامقدر ہے۔ مشاہدے میں یہ آرہا ہے کہ جوں، جوں مولانا کی جان کو لاحق خطرات بڑھنے جارہے ہیں توں، توں مولانا کی تنظیمی سرگرمیاں،جماعتی جلسے اور اسفار بڑھتے چلے جا رہے ہیں،اور اب تو داعشی دہشت گردوں کو مولانا نے اپنی تقریروں میں باقاعدہ للکارنا شروع کر دیا ہے،مولانا فضل الرحمٰن کے چہرے پر خوف کے نشانات تو نہیں البتہ “جلال ” کے آثار ضرور نظر آنا شروع ہو چکے ہیں،الغرض! تاریخ کا یہ بھی ایک مسلمہ اصول ہے کہ نظریات کو گولیوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا، اور جو شخص اپنی پوری زندگی ایک مقصد، ایک فکر اور ایک دعوت کے لیے وقف کر دے، اس کی آواز کو دھمکیوں، بم دھماکوں یا قاتلانہ حملوں سے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی شخصیت پر جتنے امتحانات آئے، اتنی ہی ان کی استقامت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ مخالفین نے انہیں خوفزدہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر وہ ہر آزمائش کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ارادے، زیادہ واضح مؤقف اور زیادہ جرات کے ساتھ میدان میں دکھائی دیے۔
دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا فضل الرحمٰن کو اپنی کامل حفاظت میں رکھے، انہیں صحت، عافیت اور مزید استقامت عطا فرمائے، ان کی علمی، دینی اور سیاسی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں امتِ مسلمہ کے لیے مزید خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔ ہم ہرگز یہ نہیں چاہتے کہ کوئی مسلمان ظلم و تشدد کا نشانہ بنے، بلکہ ہماری آرزو یہی ہے کہ امن قائم ہو، خونریزی کا خاتمہ ہو اور اختلافات کا فیصلہ دلیل، مکالمہ اور آئین کے دائرے میں ہو، نہ کہ بندوق، بارود اور دہشت گردی کے ذریعے۔
زمانہ گواہ ہے کہ ظلم کی ہر سلطنت ایک دن مٹ جاتی ہے، جبکہ حق کے لیے اٹھنے والی آوازیں نسلوں تک زندہ رہتی ہیں۔ آج بھی امت کو ضرورت نفرت، انتقام اور دہشت گردی کی نہیں، بلکہ علم، حکمت، بصیرت اور اتحاد کی ہے۔ اللہ تعالیٰ وطنِ عزیز پاکستان کو ہر قسم کی دہشت گردی، انتہاپسندی اور فتنوں سے محفوظ فرمائے، تمام بے گناہ انسانوں کی جانوں کی حفاظت فرمائے، اور ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم اختلاف کے باوجود انصاف، اخلاق اور شائستگی کا دامن کبھی نہ چھوڑیں۔ یہی دین کی تعلیم ہے، یہی اہلِ حق کا شیوہ ہے اور یہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان بھی۔

یہ بھی پڑھیں