Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

کیا روس سے سستا خام تیل خرید کر پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کم کی جا سکتی ہے؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی خام تیل تک محدود مدت کے لیے رسائی دینے کے اعلان کے بعد پاکستان سمیت توانائی کے بحران سے دوچار ممالک میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ امریکا نے 30 روزہ جنرل لائسنس جاری کیا ہے جس کے تحت کچھ ممالک روسی خام تیل خرید سکیں گے تاکہ عالمی منڈی میں سپلائی کے دباؤ کو کم کیا جا سکے اور توانائی کی قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہو سکتا ہے جو اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی موجودہ ریفائننگ صلاحیت اور تکنیکی مسائل اس فائدے کو محدود کر سکتے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یہ عارضی لائسنس ان ممالک کو سہارا دینے کے لیے جاری کیا گیا ہے جو توانائی کے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے عالمی خام تیل کی مارکیٹ میں استحکام آئے گا اور روسی تیل کی وہ سپلائی جو سمندر میں رکی ہوئی ہے، ضرورت مند ممالک تک پہنچ سکے گی۔

توانائی ماہرین کے مطابق اگر پاکستان روس سے رعایتی نرخوں پر خام تیل درآمد کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کسی حد تک کمی آ سکتی ہے مگر یہ کمی اتنی زیادہ نہیں ہو گی جتنی عوام توقع کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ حالیہ ایران امریکا کشیدگی کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے۔ اس عرصے میں ملک میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 240 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 416 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی جس سے مہنگائی میں شدید اضافہ ہوا اور عوام کی مشکلات بڑھ گئیں۔

ماہر توانائی ابوبکر احمد کے مطابق پاکستان پہلے ہی محدود پیمانے پر روسی خام تیل درآمد کر چکا ہے تاہم اس کی خصوصیات سعودی یا عرب خام تیل سے مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روسی تیل کو پاکستان کی ریفائنری میں صاف کیا جائے گا لیکن اس کا پیٹرول پیدا کرنے والا تناسب عرب تیل سے کم ہے جبکہ فرنس آئل کی مقدار زیادہ ہے۔

ابوبکر احمد نے بتایا کہ روسی خام تیل بظاہر سستا لگتا ہے لیکن اس کی ترسیلی لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے مجموعی فرق کم رہ جاتا ہے۔

انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ روسی تیل تقریباً 52 ڈالر فی بیرل پڑ رہا ہے مگر ٹرانسپورٹ لاگت تقریباً 10 ڈالر فی بیرل ہے جبکہ متحدہ عرب امارات سے خام تیل پر صرف 2 ڈالر فی بیرل خرچ آتا ہے لہٰذا مجموعی طور پر قیمت میں فرق شاید 3 سے 4 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ روسی خام تیل میں فرنس آئل کی مقدار زیادہ اور پیٹرول کی پیداوار کم ہوتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ عرب ممالک سے خریدے گئے تیل میں پیٹرول تقریباً 30 فیصد اور فرنس آئل 42 فیصد ہوتا ہے جبکہ روسی آئل میں پیٹرول صرف 15 فیصد اور فرنس آئل 50 فیصد تک ہوتا ہے جس سے حقیقی بچت بہت کم رہ جاتی ہے۔

مزید پڑھیں۔مشرقِ وسطیٰ کشیدگی، پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں تیز، وزیراعظم کا دورۂ چین 23 مئی سے شروع ہوگا

یہ بھی پڑھیں