Search
Close this search box.
اتوار ,28 جون ,2026ء

قربانیوں کی لازوال داستان پاکستان پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان

جب بھی مورخ پاکستان کی سیاسی تاریخ لکھے گا تو پاکستان پیپلز پارٹی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کا نام اس میں سنہری حروف میں لکھے گا، کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور شہید بھٹو کے بغیر پاکستان مکمل اور ادھورا ہوگا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جب ایک آمر جنرل کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے پاکستان کو اُس وقت کے طاقتور خاندانوں سے چھڑانے کے لئے اور ملک کے پسے ہوئے طبقے، مزدور اور کسانوں کو ان کے غصب شدہ حقوق دلانے کے لئے ایک ایسی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا جو صحیح معنوں میں ان کی نمائندگی کرتی ہو تو شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پورے پاکستان میں ہر شہر کے دورے شروع کئے، وہ ملک کے چپے چپے،گائوں گاؤں گھومے اور پورے ملک سے انہوں نے ہیرے موتی کی مانند ایسے قیمتی کارکن جمع کرنا شروع کیے جن میں پاکستان اور اُس میں بسنے والی عوام کی خدمت بلارنگ و نسل، ذات پات اور علاقائی یا نسلی سوچ سے بالاتر ہو کرکرنے کا جذبہ ہو۔ اور جب شہید ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے پورے ملک سے ایسے کارکنان جمع کر لئے تو پھر30 نومبر 1967 کو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ پر ایک سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا جس کا نام پاکستان پیپلز پارٹی رکھا گیا۔ اور شہید ذوالفقار علی بھٹو اس جماعت کے پہلے چیئرمین بنے اور اے۔ رحیم کو سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا۔

اس جماعت کا پہلا اجلاس ڈاکٹر مبشر حسن (جو کہ بعد میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ملک کے وزیرخزانہ بھی بنے) کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ر ہنما اصول طے پائے کہ اسلام ہمارا دین ہے۔ سوشلزم ہماری معیشت ہے۔ طاقت کا سر چشمہ عوام ہے۔ جمہوریت ہماری سیاست ہے۔ جبکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی شہادت کے بعد ان چار رہنما اصولوں میں ایک اضافہ کیا کہ شہادت ہماری منزل ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی بنیاد ہی سے مزدوروں، کسانوں، طالب علموں ، معاشرے کے ہر فرد کی آواز بن کر ابھری اور ایسی طاقت بنی جس نے اس ملک کے بڑے بڑے امیروں، پیروں اور جاگیر داروں کی ایک عام مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے کارکنوں سے ضمانتیں ضبط کروادیں اور کراچی سے لیکر خیبر تک کارکنان کی ایک بڑی تعداداسمبلی تک جا پہنچی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک کو 1973کا متفقہ آئین دیا، پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں اسلامی دنیا کے تمام سربراہان نے شرکت کی۔ وہ شہید ذوالفقار علی بھٹوہی تھے جنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد ڈالی اور1971 کی جنگ کے بعد90ہزار قیدی اور5000مربع میل رقبہ جو کہ بھارت کے قبضے میں تھا اسے شملہ معاہدے کے تحت آزاد کروایا اور جنگ کے بعد ایک بار قوم کو یکجا کر کے نیا جذبہ دیا اور ایک نئے تیزی سے ابھرتے ہوئے پاکستان کی بنیاد ڈالی۔ پاکستان اسٹیل مل، پورٹ قاسم اور بیرونی انڈسٹریز ٹیکسلا شروع کیں، اور پوری دنیا خاص کر خلیجی ریاستوں میں روزگار کے مواقع خوشحالی کے ایک نئے باب کی صدا دے رہے تھے اور سب سے بڑھ کر قادیانیوں کو سرکاری سطح پر کافر قرار دلوانا کسی طور بھی آسان نہ تھا۔ یہ سب کام پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے پہلےدور حکومت میں انجام دیئے اور پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا۔

ایسے میں 12جولائی سے1977 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کا تختہ ایک آمر جنرل ضیاء نے الٹا دیا اور ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور شہید ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا اور آگے جا کر پاکستان کی تاریخ کی ایک کالی رات میں شہید
ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی گرفتاری کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اصولی طور پر پارٹی کے سینئر وائس چیئر مین شیخ رشید احمد صاحب کو سنبھالنی چاہیے تھی لیکن انہوں نے پارٹی کے بہتر مفاد کی خاطر بھٹو صاحب کو اس بات پر راضی کیا کہ اگر پارٹی کومنظم رکھنے کے لئے بیگم نصرت بھٹو صاحبہ کو پارٹی کا سربراہ بنایا جائے جسے بھٹو صاحب نے مان لیا۔ جنرل ضیاءالحق کے بدترین مارشل لاء میں جب شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی اور اس کے بعد پورے ملک میں جب ہر قسم کے انسانی حقوق کی پامالی ہوئی اور عوام کی شخصی آزادی اور ان کے ہر طرح کے حقوق کو سلب کردیا گیا تو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی بیگم نصرت بھٹو صاحبہ اور کم عمر محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں اس ملک کو مارشل لاء کے اندھیروں سے نکالنے کے لئے سرگرم ہوئی اور ایک سخت اورطویل جدو جہد کی، جس کی پاداش میں انہیں کئی مرتبہ جیل بھی جانا پڑا لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے کسی صورت بھی آمریت کے خلاف جمہوری جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے، پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان نے پھانسی کے پھندوں کو چو ما، کوڑے برداشت کئے جیلیں کاٹیں غرض یہ کہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین آمر کے ہاتھوں بدترین اذیت و تشدد کا سامنا جوانمردی سے کیا لیکن پھر بھی وہ زندہ ہے بھٹو زندہ ہے اورجیے بھٹو کے نعروں سے پیچھے نہ ہٹے اور آخر کار آمریت کا خاتمہ کر کے ہی دم لیا،1988 میں بے نظیر بھٹو صاحبہ نے پہلی خاتون وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل کیا اور ملک میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ شہید محترمہ کی حکومت آنے کے بعد پاکستانی عوام اور مزدوروں کے غصب شدہ حقوق کی بحالی کا عمل شروع ہی ہوا تھا کہ ایک دفعہ پھر سے جمہوری حکومت کے خلاف سازشیںشروع ہو گئیں اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی منتخب حکومت کو پانچ سال پورے کرنے کے بجائے صرف18ماہ میں گھر بھیج دیا گیا اور یہی سلسلہ 1993میں قائم ہونے والی دوسری حکومت کے ساتھ بھی پیش آیا، دوسری مرتبہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی حکومت کاپونے 3 سال میں خاتمہ کردیا گیا۔

اس پورے عرصے میں محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ اپنی شہادت تک پاکستان پیپلز پارٹی اور اپنے جانثار کارکنان کے ہمراہ اس ملک کے غریب مزدور، کسان، طالب علم، خواتین کے حقوق اور خاص کر اپنے پیارے ملک پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے سرگرم عمل رہیں اور اپنی جان قربان کردی۔

27دسمبر2007بی بی کی شہادت کے بعد جب ملک بھر میں اور خاص کر صوبہ سندھ میں علیحدگی کے اور ملک کو دو لخت کرنے کے نعرے لگ رہے تھے تو ایسے موقعے پر پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہی کرتے ہوئے مرد حُرآصف علی زرداری نے ان نعروں کو یک دم مسترد کرتے ہوئے پاکستان کھپے کانعرہ لگا کر وفاق پاکستان کا علم بلند کیا اور اپنے فرزند اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے لخت جگر بلاول بھٹو زرداری کو پاکستان پیپلز پارٹی کا چیئر مین نامزد کر دیا۔

چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی عظیم اور شہید ماں کی طرح کم عمری میں پارٹی کی قیادت سنبھالی اور اپنی عظیم ماں کے جانثاروں اور
پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ مل کرشہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وژن کے مطابق، ملک کی سلامتی و ترقی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی روز اول کی طرح آج پارٹی کے 50سال پورے ہونے کے بعد بھی غریب محکوم عوام کی نمائندہ جماعت ہے۔
تحریر:شکیل چوہدری

یہ بھی پڑھیں