Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

اقتدار کی خاموش بساط اور ری سیٹ کا کھیل

حکومتی ایوانوں میں غیر معمولی ہلچل ہے۔ سیاسی راہداریوں میں غیر واضح سرگوشیاں گونج رہی ہیں اور بند کمروں کے اندر جاری ملاقاتیں اس تاثر کو مزید گہرا کر رہی ہیں کہ کچھ بڑا پک رہا ہے مگر کوئی بھی کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں۔ الفاظ سے زیادہ اشارے بولتے ہیں اور حقیقت سے زیادہ تاثر طاقتور ہو جاتا ہے۔یہی وہ فضاء ہے جہاں اٹھائیسویں آئینی ترمیم کا ذکر رفتہ رفتہ سیاسی بحثوں کا مرکزی حصہ بنتا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک آئینی اور انتظامی معاملہ لگتا ہے مگر سیاسی حلقوں میں اسے اقتدار کے ڈھانچے میں ممکنہ بڑے ری سیٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایک ایسا ری سیٹ جس میں اختیارات کی نئی تقسیم پارلیمنٹ اور ریاستی اداروں کے درمیان توازن اور موجودہ سیاسی سیٹ اپ کی دوام یا تبدیلی کا امکان شامل ہو سکتا ہے۔حالیہ دنوں میں اٹھائیسویں ترمیم کی بحث نے شدت اختیار کر لی ہے۔ جے یو آئی ایف کے سینیٹر کامران مرتضی نے سینیٹ سیکریٹریٹ میں بل جمع کرایا ہے جو بنیادی طور پر آرٹیکل دو سو ساٹھ سے متعلق ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کار اسے صرف تکنیکی معاملہ نہیں سمجھتے۔ وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ یہ ترمیم عوامی مسائل جیسے مقامی حکومتوں نیشنل فنانس کمیشن کا ایوارڈ آبادی کنٹرول تعلیم اور صحت سے متعلق ہو گی۔
تاہم حکومت کے بعض حلقوں نے واضح کیا ہے کہ فی الحال کوئی حتمی مسودہ تیار نہیں اور وسیع اتفاق رائے کے بغیر آگے نہیں بڑھا جائے گا۔یہ بحث اس لئے اہم ہے کہ آئینی ترامیم پاکستان میں ہمیشہ صرف قانونی تبدیلی نہیں ہوتیں۔ یہ طاقت کے توازن کو تبدیل کرتی ہیں۔ کبھی پارلیمنٹ کو مضبوط کرتی ہیں کبھی وفاقی حکومت کو اور کبھی ریاستی اداروں کے کردار کو دوبارہ متعین کرتی ہیں۔ اگر یہ ترمیم واقعی آئی تو اس کے اثرات نہ صرف انتظامی سطح پر بلکہ سیاسی اور صوبائی تعلقات پر بھی دور رس ہوں گے۔موجودہ حکومت مسلم لیگ ن کی قیادت میں پیپلز پارٹی ایم کیو ایم پی اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ بظاہر چل رہی ہے مگر اندرونی سطح پر اعتماد کی کمی صاف نظر آتی ہے۔ مسلم لیگ ن اپنے روایتی پنجاب کے اثر کو برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے جبکہ پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی پوزیشن مضبوط رکھتے ہوئے مرکز میں اپنا وزن منوانا چاہتی ہے۔ اتحادی جماعتیں خاص طور پر ایم کیو ایم لوکل باڈیز اور شہری مسائل پر زیادہ گنجائش مانگ رہی ہیں۔ یہ ایک غیر یقینی اتحاد ہے۔ ہر فریق اگلے الیکشن یا ممکنہ سیاسی تبدیلی کے لئے اپنی حکمت عملی بنا رہا ہے۔ ملاقاتوں کے بعد پریس کانفرنسز میں بیانات احتیاط سے دیے جاتے ہیں مگر پس پردہ حساب کتاب جاری ہے۔ ہر فریق دوسرے کی کمزوریوں اور طاقت کا جائزہ لے رہا ہے۔اس سیاسی جوڑ توڑ کے پس منظر میں ملک کی معاشی صورتحال ایک بڑا عامل ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مارچ دو ہزار چھبیس تک مرکزی حکومت کا قرضہ نوے ہزار ارب روپے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ طویل مدتی گھریلو قرضوں میں اضافہ جاری ہے۔ معاشی دبائو نہ صرف حکومت کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے بلکہ سیاسی فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔اسی فضا میں پی ٹی آئی کے بعض رہنمائوں کی جیلوں سے رہائیاں اور عمران خان کی ممکنہ رہائی کی افواہیں بحث کو مزید گرم کر رہی ہیں۔ رانا ثنا اللہ سمیت حکومتی وزرا ء نے مختلف اوقات میں عمران خان کی رہائی کے حوالے سے بیانات دئیے ہیں۔ کچھ رپورٹس کے مطابق انہیں جلد بنی گالہ منتقل کرنے کا امکان بھی زیر غور ہے۔تاہم حکومتی موقف یہ رہا ہے کہ عمران خان سے سیریز ڈیل کی کوششیں ہوئیں مگر وہ پیچھے ہٹ گئے۔ ان کے مطابق سیاسی حل چاہتے ہیں مگر پی ٹی آئی بانی کوئی کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اسے جیل میں صحت کے مسائل اور عدالتی عمل کی تاخیر سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ رہائیاں محض قانونی عمل ہیں یا بڑے سیاسی ری سیٹ کی ابتدائی جھلک؟ پاکستان کی سیاست میں عدالتی فیصلے اکثر سیاسی نتائج رکھتے ہیں۔سیاسی گپ شپ میں محسن نقوی کا نام بھی بار بار آ رہا ہے۔ پاکستان کے موجودہ وزیر داخلہ کے طور پر وہ متنازع شخصیت بن چکے ہیں۔ کچھ مبصرین انہیں مستقبل کے ممکنہ انتظامی یا سیاسی بندوبست میں اہم کردار دکھا رہے ہیں جبکہ دوسرے اسے محض قیاس آرائی قرار دیتے ہیں۔ نقوی کا کردار سیاست میڈیا کرکٹ اور انتظامی ذمہ داریوں کا امتزاج انہیں ایک منفرد مگر سوالیہ پوزیشن دیتا ہے۔پاکستانی سیاست کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ خاموشی اکثر سب سے بلند بیان ہوتی ہے۔ جب ایوانوں میں شور کم ہو اور رہنما محتاط ہو جائیں اور ملاقاتیں بند دروازوں کے پیچھے ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ پس پردہ بہت کچھ حرکت میں ہے۔ موجودہ صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ بظاہر نظام چل رہا ہے پارلیمنٹ اجلاس ہو رہے ہیں حکومت روزمرہ امور چلا رہی ہے مگر اندرونی طور پر ہر فریق اگلے ممکنہ منظرنامے کی تیاری میں مصروف ہے۔ممکنہ منظرناموں میں ری سیٹ کے ساتھ جاری اتحاد شامل ہے جس میں اٹھائیسویں ترمیم کے ذریعے اختیارات کی نئی تقسیم کے بعد موجودہ سیٹ اپ کو مزید مستحکم کیا جائے۔ دوسرا سیاسی توسیع کا امکان ہے جس میں پی ٹی آئی کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر سیاسی ایڈجسٹمنٹ رہائیوں اور ممکنہ ڈائلاگ کے ذریعے ہو۔ تیسرا نئی صف بندی کا ہے اگر معاشی دبا ئوبڑھا تو مختلف اتحاد یا کرداروں کی تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔اس تمام صورتحال کا کوئی واضح نتیجہ فی الحال سامنے نہیں آیا مگر سوالات کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کیا اٹھائیسویں ترمیم واقعی عوامی اصلاحات لائے گی یا یہ محض طاقت کے توازن کی نئی کوشش ہے؟ کیا موجودہ اتحادی حکومت اپنی شکل میں برقرار رہ سکے گی؟ کیا عمران خان کی رہائی سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر دے گی؟ اور کیا معاشی دبا ئو سیاسی تبدیلیوں کا محرک بنے گا؟پاکستان کی سیاست میں اصل طاقت اکثر جوابات میں نہیں بلکہ ان سوالات میں ہوتی ہے جو نظام کو حرکت میں رکھتے ہیں۔ آج بھی یہی صورتحال ہے۔ سوالات بہت ہیں جوابات کم۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب خاموشیاں لمبی ہوتی ہیں تو فیصلے اچانک اور طاقتور ہوتے ہیں۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں یہ سرگوشیاں یا تو حقیقت کا روپ دھار لیں گی یا محض سیاسی افواہوں کے طوفان بن کر گزر جائیں گی۔ فی الحال انتظار ہی واحد یقین ہے اور پاکستان کی سیاست میں انتظار ہمیشہ بھاری قیمت کا حامل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں