Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

تھر کے صحرا سے روشن پاکستان تک

تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی ترقی صرف نعروں، خواہشات یا خوابوں سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے دوراندیش قیادت، مضبوط منصوبہ بندی، جدید انفراسٹرکچر، وافر توانائی اور مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔ پاکستان بھی ایک ایسی ہی منزل کی جانب گامزن ہے جہاں ترقیاتی منصوبے مستقبل کی بنیادیں استوار کر رہے ہیں اور اس سفر میں صوبہ سندھ ایک نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ سندھ صدیوں سے تہذیب، تجارت اور ثقافت کا مرکز رہا ہے، مگر گزشتہ چند برسوں میں توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں ہونے والی سرمایہ کاری نے اسے اقتصادی ترقی کے ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔ کراچی کے ساحلوں سے لے کر تھر کے صحرا تک اور سکھر سے ملتان تک پھیلا ہوا ترقی کا یہ سفر دراصل ایک ایسے پاکستان کی عکاسی کرتا ہے جو جدید تقاضوں کے مطابق اپنے مستقبل کی تعمیر کر رہا ہے۔ توانائی کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اور پاکستان کو کئی دہائیوں تک توانائی کے بحران کا سامنا رہا۔ صنعتیں بند ہوئیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور عوام لوڈشیڈنگ کی اذیت برداشت کرتے رہے، لیکن حالیہ برسوں میں توانائی کے شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری نے صورتحال کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سندھ میں قائم کے-2 اور کے-3 نیوکلیئر پاور پلانٹس اس تبدیلی کی روشن مثال ہیں۔ 2200 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے حامل یہ منصوبے نہ صرف پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں معاون ہیں بلکہ ماحول دوست توانائی کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان منصوبوں کے نتیجے میں سالانہ 6.24 ملین ٹن کوئلے کے استعمال میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ 16.32 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں بھی کمی آئی ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کے تناظر میں یہ ایک غیر معمولی کامیابی ہے کیونکہ یہ کمی تقریباً 140 ملین درخت لگانے کے مساوی سمجھی جاتی ہے۔ مزید برآں، ان پاور پلانٹس سے تقریباً 20 لاکھ خاندانوں کو بجلی کی فراہمی ممکن ہو رہی ہے جو ملکی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے انتہائی اہم پیش رفت ہے۔ تھر کول بلاک-I پاور پراجیکٹ 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے دو یونٹس 660،660 میگاواٹ پر مشتمل ہیں۔ یہ منصوبہ تقریباً 40 لاکھ خاندانوں کو توانائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ اس کے ذریعے 18 ہزار براہِ راست ملازمتیں بھی پیدا ہوئی ہیں۔ روزگار کے یہ مواقع نہ صرف مقامی آبادی کی معاشی حالت بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوئے بلکہ انہوں نے تھر کے سماجی ڈھانچے میں بھی مثبت تبدیلی پیدا کی۔ مقامی افراد کو روزگار، تربیت اور ترقی کے مواقع میسر آئے جس کے نتیجے میں علاقے میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔ تھر کول بلاک-II پاور پراجیکٹ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ 1320 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے حامل اس منصوبے کے چار یونٹس 330،330 میگاواٹ پر مشتمل ہیں۔ اس منصوبے میں جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے تاکہ اخراج کو کم سے کم رکھا جا سکے اور توانائی کی پیداوار ماحول دوست انداز میں جاری رہے۔ یہ منصوبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اپنے قدرتی وسائل کو جدید سائنسی اصولوں کے مطابق بروئے کار لا کر توانائی خود کفالت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع کی اہمیت بھی روز بروز بڑھ رہی ہے اور سندھ اس میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ داؤد ونڈ پاور پراجیکٹ اور ساچل ونڈ پاور پراجیکٹ اس حقیقت کے مظہر ہیں کہ ہوا سے بجلی پیدا کرنا نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ پائیدار ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ داؤد ونڈ پاور پراجیکٹ 49.5 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایک لاکھ خاندانوں کو بجلی فراہم کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔ دوسری جانب ساچل ونڈ پاور پراجیکٹ بھی 49.5 میگاواٹ صلاحیت کا حامل ہے اور سالانہ 84,804 ٹن کاربن اخراج میں کمی کا سبب بن رہا ہے۔ ان منصوبوں کی بدولت نہ صرف توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ ملا ہے بلکہ پاکستان کے ماحولیاتی اہداف کے حصول میں بھی مدد ملی ہے۔ توانائی کے بعد انفراسٹرکچر کسی بھی ملک کی ترقی کا دوسرا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ مضبوط سڑکیں، موٹرویز اور مواصلاتی نظام تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ سکھر-ملتان موٹروے (ایم-5) اس حوالے سے ایک تاریخی منصوبہ ہے جس نے نہ صرف سفر کو آسان بنایا بلکہ ملکی معیشت کو بھی نئی توانائی بخشی۔ 392 کلومیٹر طویل اس موٹروے کو 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی بدولت سفر کا دورانیہ 11 گھنٹوں سے کم ہو کر صرف 4 گھنٹے رہ گیا ہے، جو وقت، ایندھن اور وسائل کی بچت کے حوالے سے ایک بڑی کامیابی ہے۔ تعمیر کے دوران 29 ہزار افراد کو روزگار فراہم کیا گیا جس سے ہزاروں خاندانوں کی معاشی حالت بہتر ہوئی۔ موٹرویز صرف سڑکیں نہیں ہوتیں بلکہ یہ تجارت، سیاحت، صنعت اور سرمایہ کاری کی شاہراہیں ہوتی ہیں۔ سکھر-ملتان موٹروے نے جنوبی اور شمالی پاکستان کے درمیان رابطے کو مضبوط بنایا، تجارتی نقل و حمل کو تیز کیا اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ سندھ میں مکمل ہونے والے یہ تمام منصوبے دراصل ایک بڑے وژن کا حصہ ہیں جس کا مقصد پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالنا، انفراسٹرکچر کو جدید بنانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان ترقیاتی منصوبوں نے سندھ کے ان علاقوں کو بھی قومی ترقی کے دھارے میں شامل کیا ہے جو ماضی میں نسبتاً پسماندہ سمجھے جاتے تھے۔ تھر کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں آج جدید سڑکیں، بجلی گھر، تعلیمی سہولیات اور معاشی سرگرمیاں نئی امیدوں کو جنم دے رہی ہیں۔ آج سندھ میں قائم نیوکلیئر پاور پلانٹس، تھر کے کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی، ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی اور جدید موٹرویز ایک ایسے روشن مستقبل کی نوید سنا رہے ہیں جس میں پاکستان توانائی کے لحاظ سے مضبوط، معاشی طور پر مستحکم اور عوامی خوشحالی کے اعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ ملک بن کر ابھر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں